Tuesday, November 02, 2010

Muslim, RSS leaders meet to exchange ideas

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

http://urdutahzeeb.net/current-affairs/articles/muslim-rss-leaders-meet-to-exchange-ideas



انجینئر احمد رئیس صدیقی (علیگ) engineer ahmad raees siddiqانجینئر احمد رئیس صدیقی (علیگ)
میڈیاکے ذریعے پتہ چلا کہ گذشتہ بدھ کے روز20اکتوبر کو دہلی میں واقع انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں ایک خفیہ میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ہندوستان کے چنندہ مذاہب کے نمائندوں نے ایک بند کمرے میں کچھ خاص اپنے ہی ملنے والوں کو اکٹھا کیااور میڈیا کو بغیر بتائے ایک میٹنگ کی جس میں رام جنم بھومی بابری مسجد حق ملکیت پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلے کے تعلق سے غوروخوص کیا۔پتہ چلا کہ کچھ مسلم لیڈران اور دیگر مذاہب کے سنت و مہاتماالٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو ٹھیک قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر فیصلہ کرانے پر آمادہ ہیں۔ اسی سلسلہ میں 20اکتوبر کے روز انڈیا اسلامک کلچر سینٹر دہلی میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں جمعیة علماءہند کے معروف لیڈر مولانا سید محمودمدنی، آر ایس ایس کے بین الاقوامی ترجمان و مبلغ اندریش کمار، دیونند سواروپ ،آریہ سماج قائد سوامی سوامی اگنی ویش، مولانا وحید الدین خاں، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید زین العابدین ، رشی کیش کے سوامی چیدانند، کرسچن کمیونٹی کے قائد فادر ڈومنگ، سکھ منچ کے سردار پرم جیت چنڈوک، سوامی دوتانند، پرمارتھ نکیتن، گوسوامی سشیل مہاراج،مسلم پرسنل لا کے سرگرم رکن کمال فاروقی، مظہر حسین حیدر آبادی کے علاوہ کئی اہم حضرات نے شرکت کی۔میڈیا کی خبروں کے مطابق دوران میٹنگ شری شری روی شنکر سے بھی اس سلسلہ میں فون پر بات کی گئی اور ان کے مطابق سروسماج سمیلن کے عنوان سے اس میٹنگ کا اہتمام سوامی اگنی ویش کی قیادت میں کیا گیا تھاجس کا مقصد الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے بابری مسجد ملکیت کا معاملہ سپریم کورٹ کے باہرحل کرنا تھا۔میڈیا کے مطابق اس میٹنگ میں طے ہوا کہ اس سلسلہ میں2نومبر کو دہلی میں سنتوں، علمائے کرام ، دانشوروں اور ماہرین قانون کی ملک گیر کانفرنس منعقد کی جائے گی تاکہ اجودھیا معاملہ کو سپریم کورٹ کے باہر ہی حل کرلیا جائے۔ اسلامک کلچر سینٹر جہاں پرہمیشہ ہی پہلے سے ہرمیٹنگ کی خبر کو وہاںپر نوٹس لگایا جاتا ہے اور اکثر وبیشتر تو اس کی خبر پہلے سے ہی اخبارات میں دے دی جاتی ہے مگرنہ جانے کیوںاس خبر کو وہاں کے بورڈ پر کیوں نہیں لگایا گیا ؟نہ صرف یہ کہ اس خبر کو پہلے سے ہی دبایا گیا بلکہ چپ چاپ اور ڈرتے ڈرتے منعقد کیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ وہاں پر ریسپشن پر موجود لوگوں کو ہدایت دے دی گئی تھی کہ اس خفیہ میٹنگ کی بھنک تک بھی کسی کونہ دی جائے مگر میڈیا نے اپنے خفیہ ذرائع سے جیسے ہی یہ خبر ملی کہ وہاں پرایک میٹنگ شروع ہونے والی ہے تو بس پھر کیا تھا‘ میڈیا کی ایک لمبی ٹیم وہاں پر پہلے سے ہی مورچہ لے کر بیٹھ گئی اور ان تمام کارروائی کو پہنچا ہی دیا۔یہاں پر میں ان تمام رپورٹروں کی تعریف کروں گا کہ انہوںنے اس خفیہ ڈرامائی میٹنگ کا پردہ فاش کیا۔ اس ڈھائی گھنٹے چلی میٹنگ کی سب سے اہم بات تھی کہ اس میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے اجودھیا میں جو67ایکڑ زمین ایکوائر کی گئی ہے وہ رام مندر کی تعمیر کے لیے سرکل سے باہر زمین دینی چاہئے۔ ایک مشورہ یہ بھی آیا کہ اگر مسلم بھائی رام مندر کے لیے ایک تہائی زمین دے دیتے ہیں تو پھر مسجد کی تعمیر سنت کرائیں گے۔ جب کچھ صحافیوںنے مولانا محمود مدنی سے بات کی کہ آخر یہ کس بات کی میٹنگ تھی توپھر انہوںنے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا اسی طرح سے جب دیگرسنتوں، مولویوں ودانشوروں سے صحافیوں نے اس میٹنگ کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہی تو سب نے بتانے سے انکار کردیا اور ایسا لگا کہ شاید وہ اپنے آپ کوچھپارہے ہیں۔میرے خیال سے تو اس میٹنگ کی پہلے سے ہی اخبارات میں اشتہار ات کے ذریعے اطلاع دے دینی چاہئے تھی تاکہ وہاں پر ہم جیسے دیگر صحافی موجود ہوتے ۔
واضح رہے کہ اگر یہی سب لوگ آج سے کئی سال قبل مل جل کر اسی قسم کی خفیہ نہیں بلکہ سرعام میٹنگ کرتے تو شایدملک ایسی صورتحال سے دوچار نہ ہوتا۔
یہ بھی کیا عجیب اتفاق ہے کہ جہاں ایک طرف تومسلمان و ہندو دونوں مذاہب کے کچھ لوگ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں تو دوسری طرف بند کمرے میں خفیہ ایجنڈہ تیار کیاجارہاہے اور اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ کون ہیرو بن جائے جبکہ کچھ دن قبل دہلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر حاجی شعیب اقبال نے سپریم کورٹ میں الٰہ آبادی ہائی کورٹ کے بابری مسجد کیس کے فیصلے کے خلاف ایک عرضی دائرکردی ہے اور وشو ہندو پریشدوغیرہ بھی اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ دہلی کے انڈیا اسلامک کلچر سینٹر میں بند دروازہ کے اندرکی خفیہ میٹنگ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔میں سراج الدین قریشی صاحب جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میرے جونیئر ہیں‘ میں ان کی بے انتہا عزت کرتا ہوں‘ ان سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ آئندہ اس سینٹر کو اس قسم کی خفیہ میٹنگ کرنے سے گریز کریں اسٹاف کو تاکید کردیں کہ بغیر میڈیا کی اطلاع کے کوئی میٹنگ منعقدنہ ہونے دیں۔
انجینئر احمد رئیس صدیقی (علیگ)سابق یو۔پی چمپئن وکپتان اے ایم یو ٹیبل ٹینس کلب‘فرسٹ آل انڈیا پاور سیکٹرٹی ٹی چمپئن نیزچمپئن و کپتان آل انڈیا این ٹی پی سی ہیں۔موبائل نمبر:09650990786ای میل: araissiddiqi@yahoo.co.in یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے گھر کا پتہ:84-G، سیکٹر7۔ جسولہ وہار، نئی دہلی۔110025
Read In English



The Metropolitan Museum of Art, New York (Great Museums of the World (Newsweek).)

0 comments:

Post a Comment