Tuesday, November 02, 2010

Legal education in the United States

امریکہ میں قانون کی تعلیم

http://urdutahzeeb.net/career/career/legal-education-in-the-united-states



سارہ الیاسی
Law School Admission Council American Bar Associationقانون کی تعلیم پیشہ وارنہ تعلیم کا ایک اہم پہلو ہے۔ یہ اہمیت سماج میں قانون کی تاریخی افادیت کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ موجودہ عالمگیریت کے ماحول کی وجہ سے بھی ہے- قانون کی تعلیم سے نہ صرف علمی نظریے تخلیق پاتے ہیںبلکہ سماج ان سے مستفید بھی ہو تا ہے۔ تدریسی اداروں، مقدمات کی پیروی، نجی کمپنیوں، سرکاری اور شہری سوسائٹی میں گذشتہ چند سال میں تربیت یافتہ قانون دانوں کی ضرورت بہت بڑھ گئی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ برسوںمیں ان تربیت یافتہ افراد کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا‘ اس لئے ضرورت ہے کہ ہندوستان میں قانون کی تعلیم کے بارے میں ایک طویل مدتی بہتر نظا م قائم کیا جائے لیکن اس کے لئے مسلسل عزم کی ضرورت ہے جبکہ امریکہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو نہ صرف کلاس روم میں سخت محنت کرنی پڑتی ہے بلکہ دوران تعلیم ایک وکیل کی طرح اپنی صلاحتوں کا اظہار بھی کرنا ہوتا ہے جس کے لیے یہاں قانون کی تعلیم فراہم کرنے والے کالج اور یونیورسٹیاں انہیں مختلف مواقع فراہم کرتے ہیں۔امریکی یونیورسٹیوں میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے لیے کلینیکل لا نامی ایک منفرد پروگرام بھی موجود ہے جس کے ذریعے انہیں تعلیم کے دوران انھیں ایک وکیل کی طرح عدالتی کاروائی کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔اگرچہ یہ پروگرام امریکہ میں 60 کی دہائی میں شروع کیا گیا تھا لیکن آج کل قانون پڑھنے والے اکثر طالب علم اس کی طرف زیادہ مائل ہو رہے ہیں۔امریکن یونیورسٹی میں کلینیکل لا کے ڈائریکٹر پروفیسر رابرٹ ڈینیس ٹین کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے نہ صرف طلبا کو وکالت کا حقیقی تجربہ حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ ان لوگوں کی مدد بھی کر سکتے ہیں جو وکلا کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اس طریقہ کار کے مطابق طالب علم ایسے لوگوں کا مقدمہ لڑتے ہیں جن کے پاس وکیل نہیں ہوتا وہ خود سے کورٹ میں مقدمہ دائر کرتے ہیں اور اپنے اساتذہ سے صرف مدد لے سکتے ہیں۔طلبا کے لیے کلینیکل لاجیسے پروگرام نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ان کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع بھی بڑھا دیتے ہیں۔اس سلسلے میںپروفیسر ڈینیس ٹین کا کہنا ہے کہ ایسے پروگرام پاکستان اور ہندوستان جیسے کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک میں بھی شروع کرنے کی ضرورت ہے جو وہاں کے کم آمدنی والے طبقوں کے لیے انصاف کی فراہمی کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
Read In English


 

0 comments:

Post a Comment