Friday, October 01, 2010

Where Pakistan stands

جمہوریت کے آئینے میں: کہاں کھڑا ہے پاکستان ؟

http://urdutahzeeb.net/current-affairs-south-asia/pakistan/where-pakistan-stands-2

 پاکستان کا جھنڈاPakistan Flagشفافیت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے جبکہ میڈیا میں شائع تجزیوں پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ماضی کی تلخیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئےجمہوریت کی بقاءکیلئے پرعزم جماعتوں کے وعدوں سے لگا تھا کہ اب اس ملک میںعامرانہ تسلط کا خاتمہ ہوگا لیکن ہوا اس کے برعکس۔ دہشت گردی اوراپنی تاریخ کے بدترین سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے دوچار پاکستانی جمہوریت کبھی جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے چیلنج اور کبھی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کا سامنا کرتے ہوئے غیر شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سے ہٹنے اور ملک کی دو بڑی پارٹیوں پی پی پی اور پی ایم ایل این کی طرف سے جمہوریت کے نشاة ثانیہ کے لیے متحد ہونے کے وعدوں سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہو گی۔ پروفیسر وسیم احمد کا تعلق لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے ہے۔ وہ کہتے ہیں پاکستانی جمہوریت کی شکل ایک پوسٹ ملٹری اسٹیٹ کی سی ہے جس کے جمہوری ادارے کمزور ہیںکیونکہ ملٹری لیڈرشپ سیاسی اداروں کونہ صرف غیر مستحکم کرتی ہے بلکہ سیاستدانوں کو اپنے ساتھ ملاتی ہے جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ جب حکومت انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ وہ مفلوج ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں بے حد کمزور ہو چکی ہوتی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری اداروں کے اختیارات پر بحث چلتی رہتی ہے۔ شیلا فرومین 2006 سے2010 تک پاکستان میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کی کنٹری ڈائریکٹر رہ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں اختیار حکومت کے پاس ہے یا فوج کے پاس یہ ایک سوال ہے۔ ان کی مانیں تو یہ واضح ہے کہ منتخب حکومت فوج کو اپنے اختیار میں نہیں لا سکی۔ دفاع اور خارجہ پالیسی کے ادارے فوج ہی کے اختیار میں ہیں۔ جب بھی حکومت نے ان اداروں کو اپنے اختیار میں لانے کی کوشش کی تو اسے ناکامی ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ تقریباً دو سال پہلے حکومت نے آئی ایس آئی کو سول حکومت کے زیرنگران لانے کی کوشش کی تو ملٹری نے اس کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان کا ڈیفنس بجٹ پر‘جو اس کے کل بجٹ کا بہت بڑا حصہ ہے ‘پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی۔
90 کی دہائی میں نگراں وزیراعظم معین قریشی کی حکومت میںشاہد جاوید برکی پاکستان کے وزیرِ خزانہ تھے۔ وہ ورلڈبینک سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے سیاستدانوں کی قابلیت بھی بڑھانی ہو گی تاکہ وہ تعلیم، صحت اور معیشت کے شعبوں میں عوام کی توقعات پر پورے اترسکیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستانی سیاستدانوں کا موازنہ امریکی کانگریس کے اراکین کے ساتھ کیا جائے تو ان کے پاس نہ تو اسٹاف ہے اور نہ ہی کمپیوٹرہیں جبکہ امریکہ میں ہر کانگریس مین کے پاس بیس افراد پر مشتمل اسٹاف ہی نہیں ہوتا بلکہ دفتر میں کمپیوٹربھی ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اراکینِ پارلیمنٹ کی دفتری سہولتوں میں اضافہ کیا جائے نیز پاکستان میں قانون سازوں کی اہلیت پر کام کیا جائے۔شاہد جاوید برکی نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ فوجی جرنیلوں نے ہمیشہ کمزور معیشت کو دلیل بنا کر اقتدار پر قبضہ کیا ہے لہٰذا سیاسی حکمرانوں کو چاہئے کہ ٹیکس وصولیابی کے نظام کو اتنا مضبوط بنائیں کہ انہیں معیشت کو چلانے کے لیے بیرونی بیساکھیاں نہ تلاش کرنی پڑیں جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کی توقعات پوری کر سکیں اور غیر جمہوری عناصر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر پائیں۔
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment