Friday, October 01, 2010

General Wyne new JCSC chairman

لیفیننٹ جنرل خالد شمیم : کیانی کے بعدپاکستانی فوجی سربراہ

http://urdutahzeeb.net/current-affairs-south-asia/pakistan/general-wyne-new-jcsc-chairman-3

Lt-Gen Khalid Shamim Wyne and Army Chief Gen Ashfaq Parvez Kayani.—Image courtesy ISPRجنرل وائیں جنرل کیانی کے بعد فوج کے سینئر ترین افسر ہیں۔پاکستان کی برّی فوج کے لیفیننٹ جنرل خالد شمیم وائیں کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف ا سٹاف کمیٹی مقرر کیا گیا ہے اور وہ آٹھ اکتوبر کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔انیس سو چھہتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تشکیل دیے جانے والے اس عہدے پر جنرل خالد شمیم چودہویں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہوں گے۔ ان کے پیشرو جنرل طارق مجید سات اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے جنرل خالد شمیم وائیں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی اور انیس سو بہتر میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔وہ انفنٹری کمانڈر سے کور کمانڈر تک مختلف عہدوں پر نو سال بلوچستان میں تعینات رہے۔ ان کے ہمعصر فوجی افسران کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں لسانی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور سکیورٹی کے اعتبار سے جتنا مشاہدہ اور معلومات جنرل وائیں کو ہیں اتنی شاید ہی کسی فوجی افسر کو ہوں۔
جنرل خالد شمیم وائیں بلوچستان میں انفنٹری کمانڈر سے کور کمانڈر تک مختلف عہدوں پر نو سال تعینات رہے اور ان کے ہمعصر فوجی افسران کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں لسانی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور سکیورٹی کے اعتبار سے جتنا مشاہدہ اور معلومات جنرل وائیں کو ہیں اتنی شاید ہی کسی فوجی افسر کو ہوں۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا تو اس وقت جنرل وائیں کور کمانڈر تھے اور فوجی ذرائع کے مطابق نواب اکبر بگٹی سمیت بعض مختلف معاملات میں ان کی رائے کو ‘ ویٹو’ کیا جاتا رہا۔
بظاہر تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ پاکستان میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بڑا ہے لیکن اس کی افادیت ایک رسمی عہدے کی حد تک ہی محدود رہی ہے۔ قانون کے مطابق جوہری معاملات بھی ان کے ماتحت ہی آتے ہیں لیکن عملی طور پر آرمی چیف ہی سارے معاملات پر بظاہر حاوی نظر آتے ہیں۔
جب یہ عہدہ قائم کیا گیا تو یہ طے پایا تھا کہ تینوں مسلح افواج بری، بحری اور فضائیہ سے باری باری اس عہدے پر تعیناتی کی جائے گی لیکن اب تک دو افسر بحریہ سے ایڈمرل محمد شریف اور ایڈمرل افتخار احمد سروہی اور فضائیہ کا ایک افسر ائر چیف مارشل فاروق فیروز خان ہی اس عہدے پر تعینات ہوئے اور باقی تمام عرصہ اس عہدے پر آرمی سے ہی تقرری ہوتی رہی۔
جنرل خالد شمیم وائیں کے والد صاحب ارشد شمیم وائیں بھی پاکستان فوج میں کرنل تھے اور وہ انیس سو بہتّر میں ریٹائر ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل خالد شمیم وائیں نے فوج میں شمولیت اپنے والد کی کمانڈ میں پنجاب رجمنٹ کی بیسویں بٹالین میں کی تھی۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ پاکستان میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے بڑا ہے لیکن اس کی افادیت ایک رسمی عہدے کی حد تک ہی محدود رہی ہے۔
ستاون سالہ جنرل وائیں اشفاق پرویز کیانی کے بعد سینئر ترین افسر ہیں اور اگر اٹھائیس نومبر کو جنرل اشفاق پرویز کیانی ریٹائر ہوتے تو وہ نئے آرمی چیف بن سکتے تھے لیکن صدر آصف علی زرداری نے جنرل کیانی کی ملازمت میں تین سال توسیع کردی اور جنرل وائن کا آرمی چیف بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔حسن ابدال کیڈٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے والے جنرل خالد شمیم وائن طالبعلمی کے دور میں کرکٹ کھیلتے رہے اور اب بھی کرکٹ کے بہت شوقین ہیں۔ وہ اکثر جرنیلوں کی طرح گولف بھی کھیلتے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے ہیمبرگ ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور دنیا کے اونچے ترین جنگی میدان سیاچن میں انفنٹری بریگیڈ کی کمان بھی کر چکے ہیں۔
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment