Thursday, September 30, 2010

Writing history in the digital age

آج کے ڈیجیٹل دور میں مورخین کی مشکلات

http://urdutahzeeb.net/history/articl/writing-history-in-the-digital-age-2

کیٹی بیک اور چارلن پیلی
Writing history in the digital age’مورخین کے پاس ہمیشہ ایک کٹھن ٹاسک ہوتا تھا کہ وہ تاریخ کے اسکریپ کو تلاش کریں اور اس سے ہمیں ماضی کے بارے میں بتائیںلیکن اس ڈیجیٹل دور میں جبکہ آج ہم معلومات کی ایک بڑی دولت تخلیق کر رہے ہیں تو مورخین کیسے طے کریں گے کہ کیا اہم ہے اور کیاغیر اہم!
ہم بہت کم جانتے ہیں مثال کے طور پر سناگوا کے بارے میں۔ ِسناگوا لوگ موجودہ ایریزونا میں آٹھویں سے پندرہویں صدی تک آباد رہے ہیں۔ایک طرف ان لوگوں کے پہاڑوں پر پیچیدہ مسکن ہماری لیے کچھ نشان چھوڑ گئے ہیں جن سے مدد ملتی ہے کہ ان کا رہن سہن کیسا تھا۔، ممکن نہیں ہے کہ معلومات کے ان ٹکڑوں کو جوڑ کر ان کی ثقافت کی واضح تصور پیش کی جا سکے لیکن اب مقابل سچا ہے۔ انٹرنیٹ کی دھماکہ خیزدریافت اپنے ساتھ حیران کن معلومات لے کر آئی ہے اور معلومات کی اس تخلیق میں زبردست رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔اس سلسلے میںگوگل کے بانی ایرک شمیڈ کا کہنا ہے کہ دو دنوں میں ہم جتنی معلومات تخلیق کر رہے ہیں وہ اتنی ہیں کہ تہذیب کے طلوع ہونے سے دو ہزار تین تخلیق ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلی مورخین کے کام کو تبدیل کر رہی ہے۔
ورجینیا میں ہسٹری اور نیو میڈیا سینٹر کے ٹوم شینفیلڈ کے مطابق اسکریپ میں تلاش کی بجائے مورخین اب معلومات کی ایک بڑی مقدار سے نبرد آزما ہیں۔ اب مورخین اس کے ساتھ چل رہے ہیں تو ضرورت یہ طے کرنے کی ہے کہ محفوظ کرنے کے قابل کیا ہے۔’ اب ہمیں اپنی دادی کی موت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا کہ ان کے خطوط تلاش کیے جائیں جو پچاس سال پہلے انھوں نے پیارے کو لکھے تھے، اب ایسا کچھ بھی نہیں ہونے جا رہا ہے۔‘
’ اب یہ ای میلز، انٹر نیٹ پر پیغامات، یہ ٹوئٹز، فیس بک پر اسٹیٹس کا اپ ڈیٹ کرنا، یہ چیزیں بہت دور جا رہی ہیں جب تک انھیں ہم محفوظ نہیں کر لیتے ہیں۔‘ہر کوئی اپنی تاریخ کو محفوظ کرنے کے بارے میں متحرک نہیں ہے لیکن چوبیس سالہ میلسیا بونوا یہ کوشش کر رہی ہیں۔ جب وہ سوچتی ہیں کہ ٹوئیٹر پہلے والے پیغامات کو ختم کر دے گا، میلسیا کے مطابق اٹھاون ہزار پیغامات میں بہت سی ان کے لیے اہم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار آٹھ میں جب صدر اوباما منتخب ہوئے تھے اس دن انھوں نے ایک پیغام لکھا تھا جسے وہ محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔میلسیا اب فیورٹیز میں پیغامات محفوظ کرتی ہیں اور اب تک ان کے ایک سو پچاس فیورٹیز ہیں اور مزید کے لیے جگہ تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
آج میلسیا کو گوگل اور ٹوئٹر پر یقین ہے کہ وہ ان کی معلومات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔’ اگر آپ جانتے ہیں کہ کس کے بارے میں بات کر رہے تھے تو گوگل پر اپنی اپنے پرانے پیغامات تلاش کر سکتے ہیں۔‘لیکن انھیں معلوم ہے کہ وہ ان کے پیغامات مستقل نہیں رہیں گے۔’ پچاس سال میں اگر مجھے ان کی ضرورت پڑی تو مجھے پتہ نہیں کہ میں انھیں تلاش کر سکوں گی۔‘
انٹرنیٹ کا ڈاٹا ہو سکتا ہے کہ کہیں موجود ہو لیکن بڑا چیلنج اس کی رسائی کو مستقبل کے مورخین کے لیے ممکن بنانا ہے۔برویسٹر کیل نے اس چیز کو چودہ سال پہلے بھانپ لیا تھا اور اب انھوں نے انٹرنیٹ کا ریکارڈ محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے۔امریکی شہر سان فرانسیسکو کے رہائشی برویسٹر اب تک ایک سو پچاس ارب ویب صفحات کو محفوظ بنا کر چکے ہیں اور یہ تمام ایسے فورم پر دستیاب ہیں جہاں تک رسائی بہت آسان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ صفحات گم ہو جاتے اگر وہ انھیں محفوط نہیں کرتے۔’ ویب کے ایک پیج کی عمر زیادہ سے زیادہ سو دن ہو گی، اس کے بعد یا تو اسے اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا یا گم ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ انٹرنیٹ کی گروتھ اور انٹرنیٹ کی نیچر میں تبدیلی سے ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر دستیاب بہت سارا اچھا مواد اب وہاں نہیں ہے۔‘
لائبریری آف کانگریس کے میٹ ریمنڈ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے آرکائیو کا طریقہ کار تبدیل ہو رہا ہے۔’ ہم شیلف میں خالی جگہ تلاش نہیں کرتے لیکن سرور میں جگہ تلاش کرتے ہیں۔‘ٹوئٹر نے اپریل دو ہزار دس میں لائبریری آف کانگریس کو عوام کے پیغامات کے ڈیجیٹل آرکائیو عطیہ کیے تھے۔لیکن یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ ہم کیا محفوظ کرنے کی ضرورت ہے؟ورجینیا میں ہسٹری اور نیو میڈیا سینٹر کے ٹوم شینفیلڈ کے مطابق ’ ہم سب کو ضرورت ہے کہ ہم سیکھیں کہ تاریخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان معلومات کی چھان بین کریں۔
’ ہر ایک کو ضرورت ہے کہ وہ سیکھے کہ وکی پیڈیا کے آرٹیکل کو کس طرح دیکھنا ہے اور کون سا آرٹیکل اچھا ہے، کیا یہ برا آرٹیکل ہے، کیا اس آرٹیکل میں دیے گئے ذرائع قابل بھروسہ ہیں یا نہیں۔‘
’ ہر ایک تاریخ نہیں بنا رہا، ہر ایک کو تاریخ تک رسائی حاصل ہے اور اس ڈیجیٹل دور میں سب کو مورخ ہونا ہو گا۔‘
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment