Wednesday, September 29, 2010

Real Story Of Obama's War

افغانستان میں روس کی طرح امریکہ بھی ناکام

http://urdutahzeeb.net/current-affairs-south-asia/afghnistan/the-real-story-of-obamas-war-2

Mohammad Ahmad Kazmi, محمد احمد کاظمی
محمداحمد کاظمی
افغانستان میں ناٹو افواج کے ذریعہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے اور غیر ملکی افواج کا قبضہ ہوئے تقریباً10 برس مکمل ہورہے ہیں۔ آج حالات یہ ہیں کہ صدر کرزئی کی حکومت کااثر کابل کے علاوہ اکثر علاقوں میںنظر نہیں آتا۔اطلاعات کے مطابق شمالی افغانستان میں بھی جہاں اب سے پہلے طالبان کا اثر کم تھا وہاں حالات کنٹرول سے باہر ہورہے ہیں۔ اب ناٹو افواج کی سربراہی کرنے والے امریکہ کے حکام یہ اعلانیہ طور پر تسلیم کررہے ہیں کہ صدر براک اوباما کی افغان پالیسی ناکام ہورہی ہے۔ ادھر حال ہی میں افغانستان میں پارلیمانی انتخابات میں مبینہ طور پر 40فیصد رائے دہندگان نے ووٹ دئے ہیں البتہ انتخابی خرد برد کی بھی اطلاعات ہیں ۔
امریکہ میںایک ممتاز صحابی باب ووڈ ورڈ نے حال ہی میں’ سیفٹی فرام دی اسٹارٹ‘ کے عنوان سے ایک کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ صدر براک اوباما کے افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کو یقین ہے کہ موجودہ لائحہ عمل کامیاب نہیں ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کتاب اوباما انتظامیہ کے اندر موجود کشیدگی کا خاکہ پیش کرتی ہے۔ رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ افغانستان میںموجود ہ پالیسی کام نہیں کرے گی ۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں30ہزار فوجیوں کی تعیناتی اورآئندہ برس گرمی کے موسم میں انخلا کی پالیسی پر کئی اہم رہنماؤں کو شبہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کے ذریعہ شائع اس خبر میںکہا گیا ہے کہ صدر اوباما اپنے فوجی مشیروں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے انخلا کا منصوبہ تیارکریں لیکن ان مشیروں نے ابھی تک صدر کو یہ منصوبہ پیش نہیں کیا صدر اوباما نے فوجی مشیروں کے اس منفی رویہ کے باوجود خود اپنی حکمت عملی تیار کی جس کے تحت افغانستان میں امریکی کردار محدود رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ صدر اوباما افغانستان میں فتح کے ذکر سے بھی گریز کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس رویہ کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے افغانستان میں40ہزار مزید فوجی بھیجنے کی درخواست بھی مسترد کر دی اور یہ واضح کر دیا کہ وہ طویل عرصہ تک افغانستان میں قیام نہیں چاہتے بلکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو ’ انخلا کا پلان‘ کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا ایک اور امریکی اخبار کے ذریعہ حال ہی میں شائع رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کام کرنے والی انسانی امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ گزشتہ 10برسوں میں موجودہ حالات سب سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ اخبار کے کابل میںنمائندہ راڈ نارد لینڈ نے لکھا ہے کہ مزید امریکی افواج کی آمد کے باوجود ملک کے حالات روز بروز خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔اگست 2010میں ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد 1353ہوگئی ہے جبکہ اگست 2009میں 630حملے ہوئے تھے۔ یہ اعداد وشمار افغانستان کی غیر حکومتی تنظیم سیفٹی آفس نے جاری کئے ہیں۔ شمالی علاقے میں اگست 2010میں ایک مغربی میڈیکل ٹیم پر حملے میں 10افراد ہلاک ہوئے تھے جوکہ اس قسم کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک اور امدادی تنظیم کیئر کے افغانستان میںنمائندہ عبدالکبار نے کہا ہے کہ ملک میں امدادی کام کرنے کی گنجائش تیزی سے کم ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تقریباً 30فیصد علاقوں میں غیر مسلح سرکاری ملازمین محفوظ سفر نہیں کر سکتے۔ ملک کی 34ریاستوں میں سے 33کو غیر معمولی طور سے خطرناک سمجھا جا تا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جس جماعت یا رہنما کی حکومت کا بل میں ہوتی ہے اسی کو بین الاقوامی طور پرتسلیم کر لیا جاتا ہے۔
میں نے 1986اور1996 میں افغانستان کا دوباردورہ کیا ہے۔ پہلی بار میں ایسے وقت کابل گیا تھا جب افغانستان میں سوویت افواج قابض تھیں جبکہ دوسری مرتبہ برہان الدین ربانی کی حکومت تھی۔ دونوں بار مجھے یہ بتایا گیا کہ کابل میں ہی حکومتوں کا اثر ہے جبکہ ملک کے اکثر دیگر علاقوں میں مجاہدین کی حکومت ہے ۔ پاکستان سے آنے والی ضروری اشیا کے ٹرکوں سے مجاہدین ٹیکس وصول کرتے ہیں۔
میں نے اپنے دوسرے سفر کے دوران جب احمد شاہ مسعود سے سیدھا سوال کیا کہ آپ کی حکومت ٹیکس کے ذریعہ توکچھ حاصل نہیں کر پاتی آپ جنگ کیسے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ خدا ان کی مدد کرتا ہے۔
ادھر حال ہی میں الٹر نیٹ ادارہ کی ویب سائٹ پر شائع نک ٹرس کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’غیرملکی قبضہ کو تقریباً10برس گزرنے کے باوجود افغانستان میں عام لوگوں کی زندگی میںکوئی قابل ذکر مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس کے مطابق اب امریکی حکومت کی ترجیح عوام کے لئے صحت، تعلیم اوربنیادی سہولیات مہیا کرنا نہیں ہے۔
طالبان حکومت کے خاتمے سے 2009 تک افغانستان حکومت کو 36ارب ڈالر کی امداد مل چکی ہے جبکہ امریکہ نے جنگ اور قبضہ جاری رکھنے میں 338 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے باوجود ملک میں عوام کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1979 سے1989کے درمیان سوویت یونین نے بھی افغانستان پر قبضہ کرکے مقامی مجاہدین کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ آخر کار انہیں بھی ناکام ملک سے واپس جانا پڑا تھا۔ اس وقت سوویت فوج کے خلاف مجاہدین کو اسلحہ اور مالی امداد دینے والوں میں امریکہ ’ برطانیہ ‘ سعودی عرب ‘ پاکستان‘ مصر اور کئی دیگر ممالک شامل تھے۔ سوویت یونین نے افغانستان میں مارکس نواز لینن نواز حکومت کی امداد کے لئے مجاہدین کے خلاف افواج بھیجی تھیں۔
ادھر حال ہی میں ویکی لیکس ویب سائٹ کے ذریعہ جنگ سے متعلق خفیہ دستاویزات منظر عام پر آنے سے افغانستان میںامریکی سربراہی والی ناٹو افواج کی ناکامی سامنے آئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق91ہزار سے زیادہ خفیہ دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد افغانستان جنگ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ماحول بن رہا ہے۔ یورپ، کناڈا،آسٹریلیا اور ترکی میں اب جنگ مخالفین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔’کامن ڈریمس‘ بین الاقوامی فلاحی تنظیم نے حال ہی میں کہا ہے کہ افغانستان جنگ ناکام ہوچکی ہے اور اب وہاں مزید فوجیوں یا شہریوں کی ہلاکت غیر ضرور ی ہے۔ اب تک جو جانیں تلف ہوئی ہیں اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں وہ کافی بڑی قیمت ادا کی جا چکی ہے۔ اس کے مطابق اس نے امریکی حکومت اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اب ہمیں افغانستان میں مزید رقم خرچ نہیں کرنی چاہئے اورافواج اور غیر فوجی عملے کو واپس بلانا چاہئے۔
دریں اثنا واشنگٹن پوسٹ نے 17ستمبر کی ایک رپورٹ میںکہا ہے کہ افغانستان کے حل کے لئے علاقائی حکمت عملی میں ایران کا تعاون حاصل کرنا چاہئے ۔ اخبار کے مطابق صدر اوباما کو ایران ایک بہترین سفارتی موقع فراہم کررہا ہے۔ رپورٹ میںمزید کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس موضوع پر ابھی تک غیر واضح ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اوباما حکومت کابل میں اپنے سفارتخانے کے ذریعہ وہاں موجود ایرانی سفارتخانہ سے مذاکرات شروع کرانے پر غور کر رہی ہے ۔ ابھی اس کی اطلاع ایرانی حکومت کوسرکار ی طور پر نہیں دی گئی ہے ۔ امریکہ حکومت انتظار کر رہی ہے کہ ایران جوہری پروگرام سے متعلق اپنا رویہ تبدیل کرتا ہے یا نہیں ۔ صدر اوباما نے 4اگست کو اخبارات کے مدیران کے ساتھ ملاقات میں اشارہ دیا تھاکہ جوہری تنازعہ سے ہٹ کر وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں منشیات کے خلاف مہم اورطالبان کے خلاف جنگ جیسے مشترکہ مفادات پر ایران کے ساتھ مذاکرات انجام دی جائیں۔
افغانستان کے موجودہ حالات ، امریکی حکومت میں جنگ جاری رکھنے پر پیدا ہونے والے اختلافات، وہاں جاری اقتصادی بحران اور اوباما کی امریکی عوام میں کم ہوتی مقبولیت کے پیش نظر افغانستان میں ناکامی تقریباً طے ہے ۔ انتخابات کے بعد کس قسم کی پارلیمنٹ تشکیل ہوگی ابھی یہ معلوم نہیں ہے۔ خطے میںایران کی مضبوط ہوتی فوجی طاقت اور مسلسل جاری جنگوں کی وجہ سے امریکہ کے خلاف بڑھتی نفرت ایسے حقائق ہیں جس سے چشم پوشی ناممکن ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے کس طرح اپنی افواج واپس کرتاہے۔ اگر جنگ سے ناکام واپسی ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ امریکہ کو بھی سوویت یونین جیسے نتیجہ کا سامنا کرنا پڑے۔(مضمون نگار سے 09811272415 یا ahmadkazmi@hotmail.com یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment