Sunday, September 26, 2010

Rain Fury In North India, Rivers In Spate


http://urdutahzeeb.net/current-affairs/articles/rain-fury-in-north-india-rivers-in-spate-2


شمالی ہند سیلاب کی زد میں

آئندہ 72گھنٹے دہلی کے لئے آزمائش 

نئی دہلی: شدید بارش اور سیلاب سے شمالی ہند کو ابھی راحت نہیں ملی ہے ۔قومی دارلحکومت دہلی میںجمنا آج جمعرات جو کی خطرے کے نشان سے دو میٹر اونچی بہہ رہی ہے ۔ جمعرات کی صبح جمنا کی آبی سطح 207.9میٹر درج کی گئی ہے۔ حکومت دہلی کے سیلاب اور آبپاشی محکمے کے چیف انجینئر وی پی ایس تو مر کے مطابق جمنا کی سطح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جب کہ دوپہر تک یہ 207.30میٹر تک بلند ہو سکتی ہے۔ 
دریں اثنا ہریانہ کے ہتھین کنڈ بیراج سے آج صبح 3لاکھ 3ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔ یہ پانی آئندہ 72گھنٹے کے دوران دہلی پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں جمنا سے مستعل دہلی کے علاقوں میں مشکلات بڑ ھ سکتی ہیں جبکہ انتظامیہ کی دعویٰ ہے کہ حالات سے نپٹنے کے لئے پورے اتتظامات کر لئے گئے ہیں ۔ ہتھین کنڈ بیراج سے گذشتہ 7روز میں 12لاکھ کیوسک پانی چھوڑا جا چکا ہے جس کی وجہ سے جمنا گذشتہ 32 سال بعد 207میٹر کی نشان پار کر گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمنا سے معتل علاقوں میں آباد بستیوں میں پانی بھر گیا ہے ۔ گذشتہ روز بدھ کی رات 8بجے دہلی میں جمنا کی سطح اونچی ہو کر 207.06میٹر تک پہنچ گئی جو خطرے کے نشان (204.83میٹر) سے 2.23میٹر بلند ہے۔ اس سے قبل 1978میں یہ 207.41میٹر پر پہنچی تھی جس سے لکشمی نگر اور گیتا کالونی بھی پانی سے بھر گئی تھی۔ جمنا کی موجودہ سطح آب بڑھنے سے نگم بودھ گھاٹ، بدرپور، اوکھلا، جامعہ نگر، سریتا نگر، میور وہار، علاقوں میں پانی بھر گیا جبکہ کدیشیہ گھاٹ پر کھڑی ہوئی بسیں پوری طرے سے ڈوب گئی ہیں۔ موجودہ حالات کا اثر ٹرینوں پر بھی پڑا ہے۔ جمنا کی بڑھتی ہوئی سطح آب کے مدنظر لوہے کا پرانا پل گذشتہ روز بدھ کو دوسرے دن بھی بند رہا ہے جس کی وجہ سے 31ٹرینوں کو رد کر دیاگیا جن میں زیادہ تر لوکل ٹرینیں تھیں نیز تقریباً 250بس بھی رد کر دی گئی ہیں۔ جن میں راجستھان جانے والی 100بسیں شامل ہیں۔ دریں اثنا بین الریاستی بس اڈے میں دوفٹ تک جمنا کا پانی بھر گیا ہے۔ 
یوپی اور اتراکھنڈ میں بھی آفت 
یو پی میں شدید بارش اور سیلاب سے 1000سے زائد گاوں متاثر ہو ئے جن میں زیادہ تر مغربی اتر پردیش کا علاقہ ہے۔ ریاستی حکومت نے مغربی اتر پردیش کو آفت زدہ بتاتے ہو ئے مرکزی حکومت سے 2000کروڑ روپے کی راحت رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ یو پی میں گنگا اور رام گنگا ندیاں متعدد مقامات پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں جبکہ جمنا کی سطح بھی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ مغربی اتر پردیش کے سیلاب سے متاثرہ علاقہ میں گذشتہ روز بدھ کو 14افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان علاقہ میں تقریباً 4.73لاکھ کی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سیلاب زدہ اترا کھنڈ کیلئے 500کروڑ لاکھ کی رقم کا اعلا ن کیا ہے۔ اتراکھنڈ کا دورہ کرنے کے بعد یو پی اے سربراہ سونیا گاندھی نے مذکورہ ریاست کو زیادہ سے زیادہ راحتی رقم دینے کی بات کی ہے۔ 
ہریانہ اور پنجاب میں حالات نازک 
ہریانہ میں جمنا اور پنجاب میں ستلج کے کنارے آباد تقریباً 60دیہاتوں میں سیلاب کی وجہ سے حالات نازک ہیں۔ احتیاطی تدابر کے تحت کچھ دیہاتوں کو خالی کر واتے ہوئے وہاں کے باشندوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ 
ہماچل میں کھیتی کی زمین سیلاب کی زد میں 
ہماچل پردیش کے پانوٹہ صاحب میں جمنا خطرے کے نشان سے ایک میٹر بلند بہہ رہی ہے جس کی وجہ سے کنارے پر آباد نصف درجن دیہاتوں میں سیکڑوں ایکڑ زرخیز زمین سیلاب کی زد میں آگئی ہے۔ 
پروازیں بھی متاثر 
خراب موسم اور شدید بارش سے اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایر پورٹ پر پروازوں کا نظام بھی متاثر ہوا ہے جس کے تحت طیاروں کو رن وے پر اترنا دشوار ثابت ہو رہا ہے۔ اس دوران دو طیاروں کو شہر کے گرد مسلسل گردیش کرنی پڑی نیز پروازوں کے ٹکرا جانے کے دو معاملے بھی پیش آئے ہیں۔ 1000ملی میٹر سے 1023.1ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ صفدر جنگ میں منگل کے روز 32.4ملی میٹر سے 15.9ملی میٹر تک بارش درج کی گئی تھی گذشتہ روز پالم پر 52.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ہوائی اڈے کے ذرائع کے مطابق گذشتہ شام خراب موسم کی وجہ سے کم پروازوں میں تاخیر رہی جس کی بنیاد ی وجہ منظر کا واضح نہ ہونا تھا۔ گذشتہ شام 4.3بجے وزی بیٹی گھسٹ کر 600ایم رہ گئی ۔ یہی نہیں بلکہ شدید بارش کی وجہ سے ہوائی اڈے پر پروازوں کی خاصی تعداد بھی دیکھی گئی۔ گذشتہ روز الامارات کی پرواز EK 512رات کو 2.40بجے ایک پرندے سے ٹکرائی جبکہ انڈین ایر کا ایک طیارہ IC 471جو دہلی سے جودھ پور تھا دوپہر سے 1.20بجے پرندے سے ٹکرایا۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں پر یقین کریں تو شمالی ہندوستان میں جمعہ کی صبح تک شدید بارش کے خدشات ہیں جن میں جموں کشمیر ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، مغربی یوپی ، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ ،دہلی شمالی راجستھان بھی شامل ہیں۔


For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment