Thursday, September 23, 2010

Mandal Chapter is now a Book

منڈل کا باب اب بن چکا ہے کتاب


ایم جے اکبر
کیا منموہن سنگھ حکومت نے ہندوستان کی پہلی ہندو مردم شماری کے احکامات جاری کر دئے ہیں؟ 2011میں ذات کی بنیاد پر ملک کی آبادی کی مردم شماری ایک ایسی کارروائی ہے جس میں وہ لوگ شامل نہیں ہوں گے جو ذات پات کی تفریق میں یقین نہیں رکھتے۔
اگر کوئی شخص مجھ سے دریافت کرے کہ میرا تعلق کس ذات سے ہے تو میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ میں قومیت کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں، میرا عقیدہ اسلام ہے اور میری جائے پیدائش بنگال ہے۔ میری ایک ثقافتی شناخت ضرور ہے ، تاہم وہ بھی خلط ملط دکھائی دیتی ہے کیونکہ میرے والد بہاری تھے اور بنگال میں رہائش پذیر رہے تھے ، میری والدہ ایک کشمیری خاتون تھیں، جن کی پرورش وپرداخت امرتسر میں ہوئی تھی اور خود میں بھی اب ہریانہ میں رہائش پذیر ہوں۔ میرا یہ جواب اگرچہ پیچیدہ ہو سکتا ہے پھر بھی جواب تو ہے ہی ۔ تاہم جہاں تک ذات کا تعلق ہے تومیری کوئی ذات نہیں ہے۔ اس صورت میں اگر کوئی مجھے ذات کی پیشکش کرتا ہے تو کیا مجھے ڈاکٹر منموہن سنگھ اور مسز سونیا گاندھی کے اس دور میں اپنی سیاسی اصلاح کے لئے ایک ذات اپنا لینی چاہئے۔ میںنے ان ناموں کا ذکر جان بوجھ کر اس لئے کیا ہے کیونکہ جہاں تک میرے علم میں ہے ، ان دونوں حضرات کی بھی اگر وہ اپنے عقیدے کی سچائی پر قائم ہیں‘ کوئی ذات نہیں ہے۔ مردم شماری کے کارکن کے ذریعہ دروازے پر دستک دئے جانے پر کیا وزیر اعظم یہ دعویٰ کریں گے کہ یاتو وہ جاٹ ہیں یا پّپا سکھ یا پھر کچھ اور ؟ کیا مسز سونیا گاندھی مردم شماری کارکنوں کے اپنی رہائش گاہ پہنچنے پر یہ کہیں گی کہ وہ براہمن ، عیسائی بن گئی ہیںکیونکہ انہوںنے ایک ایسے شخص سے شادی کی تھی جس کی والدہ کشمیری پنڈت تھیںجبکہ اس کے والد کا تعلق پارسی فرقے سے تھا۔
یہاںسوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں سماج سطح پر پائے جانے والے زبردست فرق والی اور بے حدمہنگی وتھکادینے والی مردم شماری کی آخر کیا ضرورت آپڑی ہے؟ عام مردم شماری کے ذریعہ پہلے ہی سے ہمارے پاس یہ جانکاری موجود ہے کہ کس حلقہ انتخاب میں کتنے دلت، براہمن ، یا دو اور مسلمان ہیںجس سے سیاستدانوں کو ذات وفرقے کی بنیاد پر امید واروں کے انتخاب کرنے کا موقع ملتا ہے۔ حکومت کے پاس ان ذانوں وفرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی صحیح تعداد کے بارے میں جانکاری ہمیشہ موجود رہتی ہے اور وہ اسے شہریوں کے فائدے کےلئے وقتاً فوقتاً شائع بھی کرتی رہتی ہے تاکہ وہ اسے پڑھ سکیں اور ملازمتوں میں ریزرویشن اور کوٹے کے اعتبار سے حکمرانی میں اپنے حصہ کا مطالبہ کر سکیں۔ تو کیا اب اس سے بھی آگے ہم ذیلی ذاتوں اور گوتروں کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ملازمتوں میں حصہ پانے کے لئے ہماری جدوجہد کچھ مزید شدت اختیار کرلے اور ہم کچھ اور ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائیں؟
طویل مدتی نتائج کے حامل فیصلے بھی صرف آئندہ علاقائی انتخابات کو ذہن میں رکھ کر ہی کئے جا رہے ہیں ۔ وزرانے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی مخالفت کی تھی، انہیں وراننگ دے دی گئی تھی کہ اگر اس سلسلے میں کانگریس نے ذراسی بھی آتا کانی کی تو بہار اور اترپردیش میں اسے کچھ اہم ووٹوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی پارٹی اس درجہ فرشتہ صفت نہیں ہوتی کہ وہ ان سمجھوتوں کو بھی مسترد کر دے جن سے اسے ذاتی سطح پر فائدہ پہنچ سکتا ہو، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی پارٹی سطحی فوائد کے لئے اپنی اہم بنیادی اقدار کو ہی قربان کر دیتی ہے تو اس کے لئے اپنے سیاسی توازن کو کھو بیٹھنے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
اعلیٰ جمہوری اقدار کے طور پر ذات کی مدح سرائی ایک ایسے معاشرے میں شائدناگزیر ہی تھی جہاں شناخت کے احساس کمتری نے اقتصادی ناانصافی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس پورے نظام سے اس طرح کے مسائل کا اخراج بے حد ضروری تھا اور اس کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں تھا جب تک کہ ہم یہ بہانہ بازی ترک نہ کر دیں کہ کہ ایسے کسی بھی مسئلہ کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے ۔ مانو ہم نے 1947میں برطانوی تسلط سے آزادی کے حصول کے بعد ایک قسم کا گاندھیائی رام راجیہ ہی حاصل کر لیا ہو۔ مساوات سے متعلق دلت جدوجہد کا آغاز اگر آزادی سے قبل ہو پایا تھا تو اس کا تمامتر سہرابا با صاحب امبیڈکر کی ہمت وروشن دماغی کو ہی جاتا ہے۔ جو سیاسی اور اقتصادی ریز رویشن کے بارے میں گاندھی جی کو پابند عہد کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اس کے بعد زیادہ غریب طبقے کے احتجاج کے ذریعہ اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کارروائی محض ایک رسمی فعل ہی تھا۔ اقتصادی ترقی اور سماجی خواہشات کے بیچ کافرق تو معاشرے میں ہمیشہ ہی موجود رہتا ہے کیونکہ ترقی کے فوائد کی سبھی طبقات کے درمیان تناسب کے اعتبار سے تقسیم ایک ناممکن امر ہے۔ خاص طور پر اس صورت میںجبکہ مار کسز م بھی اس کے حصول میں ناکام رہا تھا ، یہ تو توقع کرنا کہ نیم سرمایہ دارانہ نظام ایسا کر پائے گا محض خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ جمہوری عمل ہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے تحت دولت کی منتقلی طویل مدتی بنیاد پر عمل میں آسکتی ہے۔ یہ دولت مند طبقہ کی جانب سے غریب طبقہ کےلئے کوئی مراعت نہیں ہے بلکہ مزدوروں کو اچھی اجرت اور ان کی ملازمتوں و روزگاروں میں توسیع کسی بھی جمہوریت میں ان کا جائز حق مانا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی سب سے بڑی خصوصیت یہاں ذات پات کی حقیقت کے ارد گرد اقتصادی اور سیاسی محرکات کا معرض وجود میں آنا ہی ہے۔ منڈل رپورٹ کی حیثیت اسی لئے ہندوستان کی اقتصادی تاریخ کے ایک ناگزیر باب کی ہے۔ منڈل ریز رویشنز کی منظوری کے دو دہائی بعد سوال یہ کھڑا ہورہا ہے کہ کیا اس باب کو مکمل کتاب کی شکل اختیار کرنی چاہئے ؟ ووٹوں اور عوامی تسکین و اطمینان کسی بھی جمہوریت کے لئے ایک فطری عمل کی حیثیت رکھتا ہے تاہم اگر محض اسی کو فیصلوں کا واحد پیمانہ مان لیا جائے تو وہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ ‘جو ذات پات کو تسلیم نہیں کرتیں‘ نا انصافی نہ ہو جائے اس کے لئے کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں کی زمرہ بندی اسلام سے قبل ان کی شناخت اور قبول اسلام سے قبل ان کی شناخت اور قبول اسلام سے قبل ان کی ذات کی بنیاد پر کی جائے کیونکہ اس طرح ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرونشستوں کی مسلمانوں کو پیشکش کی جاتی ہے ، اسی لئے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اسے بہ آسانی تسلیم کر لیا ہے۔ لیکن سمجھوتہ کسی بھی مسئلہ کا مناسب حل نہیں ہوتا، اس کے علاوہ یہ ایک ایسی کھائی بھی ثابت ہو سکتا ہے جس کی تہہ کا اندازہ ہی نہ کیا جا سکے۔ ذات کی بنیاد پر مردم شماری ایک بہت بڑی ادارہ جاتی خامی ہے۔ ذات پات ایک ایسی سواری ہے جس میں واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے اورنہ ہی مستقبل کی راہ پر آگے بڑھنے پر اس میں کوئی U-Turn دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا جواب ہمیں شاید ان امکانات میں ہی تلاش کرنا ہوگا جبکہ پرائیویم سیکٹر سرکاری کام کاج کو اپنے ہاتھوں میں لے لے گا اور سرکاری ملازمتیں ہمارے لئے خواب وخیال ہی بن کر رہ جائیں گی۔ سیاستداں تو پہلے ہی اس کی ابتدا کر چکے ہیں اور انہوںنے پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ریزرویشن کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اگر ہم ہو شمندی سے کام لیں گے تو ہمارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ ہم پرائیویٹ سیکٹر میں اس طرح کی دخل اندازی سے قبل ہی اپنے لئے ایک لائن کھینچ لیں۔

Read In English


For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News, Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment