Sunday, September 26, 2010

'Israel's 'incredible violence

اسرائیل کی ’کھلی دہشت گردی ‘


http://urdutahzeeb.net/comunilism-and-terrorism/terrorism/israels-incredible-violence-2
جون سوون‘ ایڈرائن بلوم فیلڈ
Israel's 'incredible violence'نیویارک/یروشلم: غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے کہا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز قتلِ عمد میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں31مئی کو غزہ امدادی قافلے پر اسرئیلی فوج کے حملے کو قتلِ عمدقرار دیا۔ کونسل کا کہنا ہے کہ واقعے میں انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی گئی اور اسرائیلی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے واضح شواہد موجود ہیں۔کونسل کے مطابق اسرائیلی فوج اور دیگر اہلکاروں کا قافلے کے ارکان پر تشددحالات کے لحاظ سے غیر موزوں تھا اور اس میں جس سطح کے تشدد کا مظاہرہ کیا گیا وہ غیر معمولی اور قطعی غیرضروری تھا۔چھپن صفات پر مشتمل دستاویز میں یہودیوں کی جانب سے کئے گئے تمام جرائم کی فہرست د ی گئی ہے۔ کونسل کے مطابق صہونیو ں نے لوگو ں کی زندگی ، آزادی اور اظہار رائے جیسے حقوق بھی چھین لئے ہیں۔ کونسل نے اسرائیلی فوجیوں کے حملے کو مکمل وحشیانہ قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ جانے والے امدادی جہاز پر کارروائی کے دوران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے ناقابلِ قبول بربریت کا مظاہرہ کیا اور ان کے وہ اقدامات جن کے نتیجے میں نو افراد مارے گئے صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلیوں کے خلاف ’دانستہ ہلاکتوں‘ کا مقدمہ چلانے کے لیے واضح ثبوت موجود ہیںجبکہ اسرائیل اس بات پر مصر ہے کہ اکتیس مئی کو ہونے والی اس کارروائی میں اس کے فوجیوں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔امدادی قافلے پر اسرائیلی چھاپے اور اس دوران فلسطین کے حامی نو ترک افراد کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر نے اسرائیل کی مذمت کی تھی اور اس کے ترکی سے تعلقات بھی انتہائی خراب ہوگئے تھے۔ اس رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے پینل میں شامل تین عالمی ججوں نے کہا ہے کہ ’چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت، دانستہ قتل، تشدد اور غیر انسانی سلوک اور جسم اور صحت کو گہری چوٹ پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمات چلانے کے لیے واضح ثبوت موجود ہے‘۔
جنیوا کنونشن ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو کہ حالتِ جنگ میں شہریوں کے تحفظ کے بارے میں ہے۔اقوامِ متحدہ کے اس ’فیکٹ فائنڈنگ‘ مشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقے کا محاصرہ ’غیر قانونی‘ ہے کیونکہ اس علاقے میں انسانی بحران ہے۔ادھر اس رپورٹ کے اجراءکے بعد اسرائیل نے اسے ایک جانبدار ادارے کی جانب سے جاری کردہ جانبدار اور یکطرفہ رپورٹ قرار دیا ہے۔ اسرائیل رپورٹ کے سامنے آنے سے قبل بھی حقوقِ انسانی کونسل کو جانبدار، سیاسی دباؤ کا شکار اور انتہاپسند قرار دے چکا ہے۔اسرائیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی خود تحقیقات کر رہا ہے جو کہ ابھی جاری ہیں۔
For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment