Thursday, September 23, 2010

Is Barack Obama a muslim


مسلمان ہونے کے شک پر اوباما پریشان

محمداحمد کاظمی

براک اوباما کو جنوری 2009 میں امریکہ کے عہدہ صدارت پر فائز ہوئے ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ اس مختصرمدت میں ملک کو شدید اقتصادی بحران سے نکالنے کی غرض سے انہوں نے عراق سے افواج کی سنجیدہ واپسی شروع کر کے اور افغانستان میںناٹو افواج کے غیرمعینہ مدت تک موجود رہنے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے لئے بڑا سیاسی خطرہ مول لیا ہے۔ صدر اوباما کے ان فیصلوں کو ان کے سیاسی مخالفین ریپبلکن پارٹی کے ذمہ داران مبینہ طور پرمسلمانوں سے ہمدردی کانتیجہ بتا رہے ہیں ۔ ادھر حال ہی میں صدر اوباما نے نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے نزدیک مسجد کی تعمیر کے حق میں بیان دے کر اپنے خلاف ایک نئی بحث شروع کروا دی ہے۔
قارئین کو توقع ہوگی کہ میں اس ہفتہ امریکہ اور اسرائیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے سلسلے میں مضمون تحریر کر وں گالیکن وزیرداخلہ پی چدمبرم کی میڈیا کو کی گئی اپیل کا احترام کرتے ہوئے میں اس موضوع کو موجودہ حالات میں زیر بحث نہیں لا رہا ۔ اس مضمون کے ذریعہ قارئین کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ امریکہ کے سیاسی نظام میں یہودی اور صہیونی عناصر اس حد تک مضبوط ہیں کہ اگر ملک کے صدر پر مسلمان ہونے کا شک بھی ہوجائے تو اس کے لئے زندگی کس قدر اجیرن بنا دی جاتی ہے۔
صدر براک اوباما کے ذریعہ حال ہی میں دئے کچھ بیانات کا تجزیہ کر نے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ مسلم باپ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ملک کے عوام میںمشکوک ہیں۔ صدر اوباما نے 30اگست2010کو این بی سی نیوز چینل کو انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں جھلاکر کہا کہ وہ اپنا تمام وقت پیدائشی سرٹیفکیٹ پیشانی پر لگائے گھومنے میں صرف نہیں کرسکتے ۔ واضح رہے کہ ٹیلی ویژن کے صحافی نے امریکہ میں کئے گئے اس حالیہ سروے کے نتائج کے حوالے سے سوال کیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ 18فیصد امریکی شہریوں کو یقین ہے کہ صدر اوباما مسلمان ہیں۔ 2009میں صرف 11فیصد امریکی سمجھتے تھے کے اوباما مسلمان ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ سروے اوباما کے گراؤنڈ زیرو کے نزدیک مسجد کی تعمیر سے متعلق دئے گئے بیان سے پہلے کیا گیا تھا۔ 2001 میں جس مقام پر نیو یارک کے ٹریڈ ٹاورس دہشت گردانہ حملوں میں منہدم ہوے تھے اسے گراونڈ زیرو کہتے ہیں۔ یہ سروے معروف پیوریسرچ سینٹر نے کیا ہے۔
صدر اوباما نے مزید کہا کہ حقائق کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔ یہ ایسا موضوع نہیں ہے جس کے بارے میں میںہمیشہ فکر مند رہوں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ امریکی عوام یہ چاہتے ہیں کہ میں ہمیشہ اسی فکر میں وقت خراب کروں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا پروپیگنڈہ ان کے الینائے کے سینیٹر کے عہدہ اور بعد میں عہدہ صدارت کے لئے انتخابات کے دوران بھی کیا گیا تھا۔ لیکن آخر کا رمیں دونوں انتخابات میںکامیاب ہوا ۔ مجھے یقین تھا کہ امریکی عوام ان تمام بیہودگیوں کے باوجود صحےح فیصلہ لیں گے ۔ صدر اوباما نے کہا کہ اگر میں اپنا تمام وقت ان افواہوں کا پیچھا کرنے میں خرچ کردوں تو میں ملک کے لئے کچھ نہیں کرسکتا ۔
واضح رہے کہ براک اوباما کے مخالفین انہیں مبینہ طور پر مسلمان باپ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے مسلمان ہونے کا الزام لگا تے ہیں جس کا وہ کئی بار یہ کہتے ہوئے جواب دے چکے ہیں کہ وہ اپنی والدہ کے عیسائی مذہب کے پیروکار ہیں۔ براک اوباما کی شہریت کو بھی مشکوک بتانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ براک اوباما کی ولادت افریقی ملک کینیا میں ہوئی تھی نہ کہ ہوائی جزیرہ نما میں ۔ اس لئے ان کی امریکی شہریت مشکوک ہے اور انہیں ملک کا صدر بننے کا حق نہیں ہے ۔
صدر اوباما نے ایک اور موقع پرحال ہی میں غیر معمولی بیان دیا ہے۔7ستمبر کو یوم مزدور سے متعلق ایک ریلی سے خطاب کے دوران اپنی پارٹی کی انتخابی مہم شروع کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مخالفین ریپبلکن پارٹی رہنماﺅں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بارے میں ’کتے کی طرح‘ بات کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں ایک لمبے عرصے سے اثر ورسوخ رکھنے والے عناصر ان کے بارے میںہمیشہ خوش نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ (مخالفین) ان (اوباما) کے بارے میں کتے کی طرح بات کرتے ہیں۔ انہوں نے فوراً سنبھلتے ہوئے کہا کہ یہ جملہ ان کی پہلے سے تیار شدہ تقریر کا حصہ نہیں ہے۔ البتہ یہ بات سچ ہے ۔ واضح رہے کہ امریکہ میںنومبر ماہ میں ایوان زیریں اور ایوان بالا کے لئے وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میںاوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔
برا ک اوباما نے رائے دہندگان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن سمجھتے ہیں کہ ووٹر یہ بھول جائیں گے کہ انہوں نے ملک کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریپبلکن حکومت نے ملک میں عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں اور ملک کو اقتصادی بحران میں دھکیل دیا تھا۔
دریں اثنا مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرنفسیات اسپی کو سلوف نے ایک سروے کی بنیاد پر تجزیہ کیا ہے کہ صدر اوباما کو امریکہ کے عام شہری نادانی کی بنیاد پر مسلمان سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق جب اوباما کے مخالفین عام شہریوں کو سمجھاتے ہیں کہ اوباما عام شہریوں سے کن بنیادوں پر مختلف ہیں تو اس میںمذہب کو بھی بنیاد بنایا جاتا ہے۔ عام شہری چونکہ ذہنی طور پر جانے انجانے میں یہ سمجھتے ہیں کہ براک اوباما ان سے مختلف ہیں تو مخالفین کی ہر بات پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسپی کوسلوف کا کہنا ہے کہ یہ تمام باتیں غیرمنطقی ہیں اور انہیں غیر ذمہ دار میڈیا اور نام نہاد ماہرین مزید تقویت دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ پیو ریسرچ سینٹر نے حالیہ سروے اگست2010میں کیا تھا جس کے نتیجہ میں کہا گیا تھا کہ 18فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ صدر اوباما مسلمان ہیں جبکہ مارچ2009 میں صرف 11فیصد امریکی شہری سمجھتے تھے کہ اوباما مسلمان ہیں۔ 43فیصد لوگ اوباما کے مذہب کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے۔ حالیہ سروے صدر اوباما کے گراؤنڈ زیرو کے نزدیک مسجد کی تعمیر کے حق میں دئے گئے بیان سے پہلے کیا گیا تھا۔
مشیگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر اسپی کوسلوف کا کہنا ہے کہ امریکی شہریوں میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ صدر اوباما ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔ ایسے حالات میں جبکہ عام امریکی شہری صدر اوباما کے ذریعہ اقتصادی امور ، صحت اور افغانستان کے معاملات میں اختیار کی گئی پالیسی کو درست نہیں سمجھتے وہ ذہنی طور پر تمام قسم کی افواہوں پر یقین کرنے کے لئے آمادہ رہتے ہیں۔
حال ہی میں جب 11ستمبر 2001کو ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی 9ویں برسی کے موقع پر نیویارک میںگراؤنڈ زیرو کے نزدیک مسجد کی تعمیر کی مخالفت اپنے شباب پر تھی صدر اوباما نے کہا کہ امریکی آئین تمام مذاہب کے لوگوں کو عبادت کرنے اور عبادت گاہ تعمیرکرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پر ان کے مخالفین نے اسے موضوع بحث بنانے کی کوشش کی ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر امریکہ میں موجودہ حالات میں اوباما کے مذہب کے بارے میں سروے کیا جائے تو انہیں مسلمان سمجھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوگا۔
2001میں امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کی زندگی کس قدر مشکل ہو گئی تھی وہ قارئین کو اچھی طرح یاد ہوگا ۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے مختلف ممالک کے چند ہزار مشتبہ افراد کی فہرست تیار کی ہوئی ہے جنہیں پروازوں پر سوارہونے سے روکا جاتا ہے ۔ ایک بار پیرس سے نیویارک کے لئے جانے والی پرواز کو محض اس لئے روک دیا گیا کہ ایک مسافر کا نام مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مشتبہ فرد محض 5برس سے کم عمر کا بچہ تھا ۔ امریکی ہوائی اڈوں پر کس قدر سختی سے مسلم مسافروں کی جانچ ہوتی رہی ہے اسے محسوس بھی نہیں کیا جا سکتا ۔
امریکہ میں دہشت گردانہ واقعات کے بعد کئی مواقع پر امریکی حکومت نے مسلم افسران اور دانشوروں کو مختلف ممالک میں یہ بات عام کرنے کے لئے بھیجا تھا کہ امریکہ میں مسلمان خیریت سے ہیں لیکن امریکہ میں عام مسلمان کس قدر مشکلات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اس کا اندازہ صدر براک اوباما کے حالیہ بیانات سے واضح ہوجاتا ہے۔
چند ماہ قبل ایک امریکی مسلمان افسر ہندوستان کے دورہ پر تھا۔ انہوں نے اردو صحافیوں سے ملاقات کے دوران صدر براک اوباما کا نام کم از کم نصف درجن بار براک حسین اوباما کے طور پر دہرایا ۔ اس پر جب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے براک حسین اوباما پر کافی زور دیا ہے جبکہ سرکاری طور پران کانام براک اوباما ہی لکھا جاتا ہے۔ اس پر امریکی افسر کوئی جواب نہ دے سکا ۔
ادھر مسلم ممالک میں امریکہ کی شبیہ روز بروز خراب ہورہی ہے ۔ امریکہ کی اسرائیل کو غیر مشروط مسلسل حمایت‘ عراق اور افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے مارے جانے اورحال ہی میں امریکہ اور اسرائیل میں قرآن پاک کی اہانت کچھ ایسے واقعات ہیں جن سے مسلمانوں میں امریکہ کے خلاف غصہ اور نفرت میںاضافہ ہی ہورہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے اندر صدر براک اوباما سے وہاں کے شہری ا س لئے ناراض ہیں کہ ان پر مسلمان ہونے کا شک ہے ۔ ان حقائق کو بہر حال جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔(مضمون نگار سے 09811272415 یا ahmadkazmi@hotmail.com را بطہ کیا جا سکتا ہے)

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment