Wednesday, September 29, 2010

Babri-Ayodhya Volcanic Eruption & the Judgement

کاش نہرو نے پٹیل کی بات مانی ہوتی

http://urdutahzeeb.net/current-affairs/articles/babri-ayodhya-volcanic-eruption-a-the-judgement-2

M J Akbar ایم جے اکبر ایم جے اکبر
کئی معاملوں میں یقینی طور پر کچھ کہہ پانا کافی مشکل ہوتا ہے۔ یقینی طور پر سپریم کورٹ کی طرف سے ایودھیا تنازع کا فیصلہ سنانے پر روک لگاتے وقت کچھ باتوں کو دھیان میں رکھا ہوگا۔ اگر الہ آباد ہائی کورٹ ڈویژنل بنچ کے ججوں کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کے بعد صورت حال کوئی کشیدہ شکل اختیار کرلیتی ہے تو اس حالت میں کیا ہوگایہ بھی ایک شک کا موضوع ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک اہم بات ہوچکی ہے کہ اگر اس ماہ کے آخر تک الہ آباد ہائی کورٹ کی وڈیژنل بنچ نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا تو یہ فیصلہ بے اثر ہو جائے گا کیونکہ اس ریجنل بنچ کے ایک جج ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو ا س معاملے کی سنوائی کا عمل از سرنو شروع کرنا پڑے گا۔
ہندوستان کے پاس اب اتنی طاقت اور صبر نہیں ہے کہ وہ سماجی ، سیاسی اور قانونی اثر ڈالنے والے اس معاملے کی سنوائی کے لئے اور چھ دہائیوں تک انتظار کر سکے۔
یہ مسئلہ جو برٹش حکومت اور اس کے بعد آزاد ہندوستان میں لمبے عرصے سے چلا آرہا ہے کے بارے میں شاید اکثر لوگوں کی سوچ رہی ہے کہ یہ وقت کے ساتھ خود حل ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ ایسا بھی مانا جاتا ہے کہ بڑے بڑے مسائل کے گلیشیئر وقت کے تیز دھارے میں خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
کئی بار مذہبی جذبات بھی کافی تیزی سے بڑھتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے مذہبی جذبات نجی معاملہ ہوتا ہے کچھ لوگ اسے مقابلتاً زیادہ اہمت نہیں دیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کو یہ کہنا پڑا ہے کہ دوسری اور باتیں بھی زندگی میں بیحد اہم ہوتی ہیں۔
ایودھیا میں تنازع ایک لمبے عرصہ سے چلا آرہا ہے۔ اس کے لاوے کی طرح باہر ہمارے سماج وقومی کو متاثر کرنے سے پہلے یہ دبا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ سردار پٹیل جو ہندوستان کو بہتر ڈھنگ سے جانتے تھے‘ نے جو اہر لال نہرو سے اپیل کی تھی کہ وہ دو معاملات کا جلد از جلد ڈراپ سین کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں معاملے ہندوستان کے ہندو ذہنوں کو ہمیشہ بھڑکاتے رہیں گے۔ ان میں ایک معاملہ سومناتھ مندر کا تھا جسے محمودغزنی نے تباہ کر دیا تھا۔ دوسرا بابری مسجد کا تھا۔ نہرو اس بات سے ضرور کچھ ڈاواں ڈول ہوئے تھے لیکن انہوں نے سوم ناتھ مندر کی تعمیر نو میں کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں کی۔ انہوںنے اس مندر کی تعمیر کو سرکاری پروجیکٹ قرار نہیں دیا اس مندر کی تعمیر بغیر کسی رکاوٹ کے ہو گئی۔ کیونکہ وہاں کسی نے مسجد نہیں بنوائی تھی۔
سردار پٹیل نے اس وقت یہ بھی وارننگ دی تھی کہ اگر ایودھیا میں رام جنم بھومی تنازع کو ابھی حل نہیں کیا گیا تو پانچ دہائیوںکے بعد یہ ہندوستان کے لئے ایک پریشانی کی وجہ بن جائے گا لیکن یہ مسئلہ اس سے پہلے ہی پیدا ہو گیا۔
ایودھیا کامعاملہ سومناتھ سے الگ تھا کیونکہ وہا ںبابر کے وقت کی ایک مسجد بنائی گئی تھی۔ جب لال کرشن ایڈوانی نے بیس برس پہلے 25ستمبر کو سومناتھ سے ایودھیا کے لئے رتھ یاترا شروع کی تھی تو انہو ں نے دونوں ہی مقامات کو ایک ساتھ جوڑ ریا تھا تب سے دودہائیاں گزر گئیں لیکن ایودھیا مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ سپریم کورٹ کی یہ سوچ اور امید ہو سکتی ہے کہ جو کچھ پچھلے دو دہائیوں میں نہیں ہو سکا ہے وہ شاید چھ دنو ںمیں باہمی رضا مندی سے ممکن ہو جائے۔ آنے والامنگل کافی تناؤ بھرا دن بھی ہو سکتا ہے لیکن مجھے اس بات میںذرا بھی شک نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اس بارے میں واضح طور پر یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ دونوں فریقین میں باہمی رضا مندی سے عدالت کے باہر سمجھوتہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اگر جواب نفی میں ملتا ہے تو پھر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کو اپنا فیصلہ سنانے کی اجازت دینی ہوگی یہی ڈیڈلاک سے بچنے کا محفوظ راستہ ہوگا۔
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment