Wednesday, September 29, 2010

The Ayodhya controversy

ایودھیا تنازع حقائق کے آئینے میں

http://urdutahzeeb.net/current-affairs/ek-khabar-ek-nazar/the-ayodhya-controversy

عرفان انجینئر
ہندوستان کا ہر شہری بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازع کے عدالتی فیصلے کا خوف واستعجاب کے عالم میں انتظار کر رہا ہے اس حقیقت پر اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ 1528میں میر باقی جو مغل بادشاہ بابر کا ایک گورنر تھا‘اس نے اس مسجد کی تعمیر کروائی تھی جو کہ سنی سینٹرل وقف بورڈ کے رجسٹر میں درج ہے 1886-1885 میں ہندو فریق جوکہ رام جنم بھومی کی حفاظت کے لئے کوشاں تھے۔ ان کا صرف یہ کہنا تھا کہ چبوترہ جس پر رام جی کی مورتی رکھی ہوئی تھی اور جو بابری مسجد کے کمپاؤنڈ کے باہر تھا ‘اس پر چھت ڈالنے کی اجازت دی جائے تا کہ موسم کے اتار چڑھاؤکی وجہ سے بھکتوں کو کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ عدالت جس میں اس تنازع پر مقدمہ چل رہا تھا وہ اس رائے کی حامل تھی کہ بابری مسجد اس جگہ پر بنائی گئی ہے جو ہندوؤں کا مقدس استھان ہے (عدالت اس نتیجے پر کس بنا پر پہنچی یہ معلوم نہیں ) لیکن چونکہ یہ واقعہ 356بر س قبل ہوا ہے اس لئے اس جگہ پر ہندوؤں کا کوئی حق نہیں بنتا ہے۔ اس دلیل کی بنا پر عدالت نے رام جنم بھومی کے سلسلے میں مقدمہ کرنے والے کو رام چبوترہ پر چھوٹی سی چھت بنانے کی بھی اجازت نہیں دی۔ آزادی کے بعد رام جنم بھومی کے ہندو فریق نے چہار طرفہ حکمت عملی اپنائی۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے انہوںنے دھوکہ ، احتجاج ، بھیڑ کو اکٹھا کرنا اور عدالت میں بار بار عرضی دینا شامل کر لیا تھا۔ ان کی یہ چہارطرفہ پیش قدمی اس وقت کا میاب ہو گئی جب رام جنم بھومی پر مندر بنانے والوں نے رام للا کی مورتی کو 22دسمبر 1949کی رات میں بابری مسجد کے اندر رکھ دیا۔ اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لئے رام جنم بھومی کے ہندو فریق نے دو بارہ عدالت میں مقدمہ دائر کیا اور اس بار ان کا کہنا یہ تھا کہ انہیں شری رام کے درشن کے لئے بے روک ٹوک اجازت دی جائے لیکن فروری 1986میں عدالت نے اس بات کو بھول کر کہ یہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی اور مسلمانوں کو عبادت کرنے کی عدالت نے اجازت تو نہیں دی بلکہ اس کے مالکانہ حق پر بھی اپنے فیصلے سے سوالیہ نشان لگا دیا ۔
1986میں بابری مسجد کا تالا کھول دیا گیا ، اس جواز پر کہ اس سے امن کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سرکار کے اس قدم سے ہندو نیشنلسٹ طاقت کی مزید ہمت افزائی ہوئی اور انہوں نے نفرت پھیلا کر ہندوؤں کی زبردست بھیڑ اکٹھی کر کے سرکار کو مجبور کر دیاکہ اگر ان کی بات نہیں مانی گئی تو عام مسلمانوں کی زندگی خطرے میں پڑ جائےگی اور پورے ملک میں ہندو مسلم فساد پھیل جائے گا۔ ہندو نیشنلسٹ طاقتوں کی زبردست بھیڑ اکٹھا کرنے کی صلاحیت کے مد نظر حکومت نے خاموشی اختیار کر لی اور ا س کے نتیجے میں ہندو نیشنلسٹ طاقت بابری مسجد کو 6دسمبر کو منہدم کر نے میں کامیاب ہو گئی ۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ حکومت اور عدالت نے ہندو نیشنلسٹ طاقت پر نکیل ڈالنے کی بجائے اسے انعام سے نوازا ملک میں امن وامان قائم رکھنے کے نا م پر حکومت اور عدالت نے ہندو نیشنلسٹ طاقت کے رام جنم بھومی کی دلیل کو مانا۔بابری مسجد کے انہدام کے بعد حکومت نے متنازع بابری مسجد کی ملکیت پر قبضہ کو منظوری دے دی ۔ حکومت نے نہ صرف بابری مسجد کی ملکیت کو حاصل کر لیا بلکہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے Majorityفیصلے میں رام جنم بھومی نیاس کے ذریعے بابری مسجد کی ملکیت پر قبضہ کو منظوری دے دی اور دلیل یہ دی گئی کہ اگر رام جنم بھومی نیاس کے دعوے کو نہیں مانا گیا تو ملک کے امن کو خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حکومت اور عدالت نے ہندو نیشنلسٹ طاقت کو چبوترہ سے لے کر مندر بنانے کے دعوے کو اس لئے مانا کہ انہوںنے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانیں گے ۔

رام جنم بھومی اور اعتقاد
بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازعہ میں دونوں فریقین کے درمیان جو بات جھگڑے کی وجہ بنی تھی وہ یہ تھی کہ بابری مسجد جس جگہ تعمیر کی گئی تھی اس کی ملکیت کس کی ہے۔ لیکن آر ایس ایس کو یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ وہ ٹائٹل سوٹ نہیں جیتے گی۔ اسی لئے انہوںنے چالا کی سے اس معاملے کو عقیدت کا معاملہ بنا دیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بابری مسجد وقف کی ملکیت ہے 425سال سے تھی جب 1949میں اس سلسلے میں ٹائٹل سوٹ دائر کیا گیا۔ اگر اس بات کو تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کر بھی لیا جائے کہ اس جگہ پر بابری مسجد کی تعمیر ہوئی جہاں پر رام مندر تھا تو بھی اس قانون یعنی Law of Adverse Possession کی بنا پر کہ 12سال سے زیادہ اگر کسی جگہ کی ملکیت ایک پارٹی یا فریق کے ساتھ ہاتھ میں رہتی ہے تو اسے بے دخل نہیں کیا جاسکتا جبکہ بابری مسجد تو سیکڑوں سال سے موجود تھی اور اس کی ملکیت بھی وقف کے ہاتھ میں تھی ، سنگھ پریوار نے رام جنم کے سلسلے میں احتجاجی رخ اپنایا اور ہندوؤں کی بھیڑ کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ سنگھ پریوار کے احتجاجی رخ اور ہندوؤں کی بھیڑ اکٹھا کرنے کی صلاحیت کے مدنظر الہ آباد ہائی کورٹ نے اس بات کو ایشو بنایا کہ اس بات کی جانکاری ضروری ہے کہ جہاں پر بابری مسجد ہے وہاں پر رام مندر تھا یا نہیں؟ آر کیولو جیکل سروے آف انڈیا نے پتہ لگایا وہاں رام مندر تھا یا نہیں اس سلسلے میں اس نے اپنی رپورٹ عدالت کو سونپ دی۔ اسے کچھ ملا ، اس پر شک ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سنگھ پریوار پورے ملک میں ہنگامہ کھڑا کر چکا ہوتا ۔ سب سے بڑا سوال یہاں پر یہ ہے کہ حکومت اور عدالتی کارروائی کی بنیاد مذہبی اعتقاد ہوگا یا ٹھوس ثبوت؟ اگر عدالتی کارروائی اسی طرح مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر چلنے لگے تو ہندوستان میں اتنے سارے مذہب اور فرقے کے لوگ رہتے ہیں کہ حکومت اور عدالتی کارروائی چلانا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ ملک میں امن وامان کا ماحول خراب ہو جائے گا اور ہر وقت ایک دوسرے فرقے میں جھگڑے اور لڑائی کا ماحول بنا رہے گا۔

مذہبی اعتقاد حکومت پر قابض ہونے کی سیڑھی
جمہوری نظام می ںہر شہری کو حکومت کی کارروائی کے ایماندارانہ نفاذ و عمل پر یقین ہوتا ہے۔ اس نظام میں کسی مذہبی فرقہ یا مکتبہ فکر کو اس بات کی آزادی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی فکر کو دوسرے طبقے سے زبردستی منوائے ۔ گاندھی اورکیبر کی فکر الگ تھی لیکن کسی نے اپنی فکر کو دوسرے پر زبردستی تھوپنے کی کوشش نہیں کی ۔
جمہوری نظام میں سیاسی اور معاشی اعتبار سے ہر طاقت ور آدمی اس بات کو دوہراتا ہوا نظر آتا ہے کہ اسے عدالتی کارروائی یہ مکمل یقین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عدالت سے پورے ایماندارنہ فیصلے کا یقین رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ جہاں بعض وعتاد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ لیکن سنگھ پریوار کو عدالت پر یقین نہیں ہے کیونکہ اسے دھرم سے زیادہ ملک کی حکومت پر قابض ہونے کی فکر ہے۔

عدالتی فیصلہ اور امن کی راہ:
بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے سلسلے میں عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو امن کی راہ بہت پر خطر ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر فیصلہ رام جنم بھومی نیاس کی حمایت میں آتا ہے اور اسے رام جنم بھومی کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں سنگھ پریوار نہ صرف مضبوط ہوگا بلکہ وہ مزید اپنی فرقہ پرست سازشوں کو عمل در آمد کے لئے پہلے سے زیادہ حرکت میں لائے گا۔ اگر رام مندر زبردست حفاظتی نظام میں بنا بھی دیا جائے تو امن قائم کرنا بہت مشکل ہو جائے گا اور اگر عدالت کا فیصلہ بابری مسجد کی حمایت میں ہوتا ہے اس کی ملکیت کو وقف بورڈ کو لوٹا نے کا حکم بھی جاری ہوتا ہے تو بھی بابری مسجد کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ سنگھ پریوار اس فیصلے کو نہیں مانے گا اور وہ یہ تحریک چلائے گا کہ حکومت قانون بنا کر وقف بورڈ کی ملکیت ختم کرکے اسے رام جنم بھومی نیاس کے حوالے کر دے۔ یہ دونوں فرقوں کے درمیان نہ ختم ہونے والا تنازعہ ہے۔ اگر عدالت کا فیصلہ بابری مسجد کی حمایت میں ہوتا ہے تو مسلمانوں کو اپنی دوراندیشی کاثبوت دیتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ پر ایک ایسے ہی میموریل کی تعمیر کرنی چاہئے جہاں پر ہر مذہب کی تعلیم دی جائے۔ چونکہ اگر الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کی حمایت میں آجانے پر بھی حکومت کےلئے یہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ بابری مسجد کی ملکیت وقف بورڈ یا کسی مسلم ٹرسٹ کے حوالے کر دے۔
وقت کی ضرورت یہ ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو پسپا کیا جائے اور امن کو مضبوط ،انصاف ضرور ہونا چاہئے اور اس کی بنیاد مذہبی اعتقاد نہیں ہوسکتا کیونکہ میں مختلف مذہب اور مکتبہ فکر ہے اورضرورت اس با ت کی ہے کہ سبھی کا برابری سے عزت واحترام کیا جائے۔
The article was translated by Anwer Hussain from my English article

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment