Wednesday, September 29, 2010

Amir Khusro: Great Symbole Of Indian Composite Culture

حضرت امیر خسرو :ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کی علامت

http://urdutahzeeb.net/art-and-culture/composite-culture-of-india/amir-khusro-great-symbole-of-indian

ایس اے ساگر
امیر خسرو  Amir Khusro حضرت امیر خسرو مشترکہ تہذیب و ثقافت کی علامت سمجھے جاتے ہیںجو صوفی شاعر اور سیکولر روایات کے علم بردار اہیں۔ان کی اس صفت کو ہندوستان کے اولین صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجند پرساد نے بھی اپنے ایک خط میں تسلیم کیا ہے۔انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہندی یا ہندوی ہر طبقے کے لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنائی۔ ان کی شاعری ہندو مسلم اتحاد و یگانگت کی ترجمان ہی نہیں بلکہ وہ اپنی صوفیانہ شاعری سے پوری دنیا میں میل جول اور پیار محبت کی فضا قائم کرنا چاہتے تھے۔حضرت امیر خسرو ایک عبقری شخصیت کے ملک تھے۔وہ گوناگوں صفات کے حامل تھے۔ عہد وسطی کی ہندوستانی تاریخ میں بڑے بڑوں کے نام و نشان مٹ گئے لیکن امیر خسرو آج بھی انسانی ذہنوں میں زندہ ہیں۔ امیر خسرو کی شاعری کے پیغام کی عصری معنویت کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کی آج اشد ضرورت ہے۔ امیر خسرو کی شاعری نے فن شاعری میں جو سنگ میل قائم کیے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی اور انھوں نے ہندی، اردو اور فارسی کی آمیزش سے جو شاعری کی ہے وہ انتہائی اعلی و ارفع ہے۔
حضرت امیر خسروجن کا زمانہ 1253سے 1325تک شمار کیا جاتا ہے‘فارسی اور ہندی شاعر ہی نہیں بلکہ ماہر موسیقی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام ابوالحسن جبکہ یمین الدولہ لقب تھا‘ امیر خسرو انکی عرفیت تھی اور وہ اسی نام سے جانے جاتے ہیں۔ان کے والد ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی یعنی آگرہ میںانھوں نے سکونت اختیار کی۔ امیر خسرو یہیں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ہندوستانی تھیں۔ کچھ عرصے بعد یہ خاندان دہلی منتقل ہوگیا اور امیرخسرو نے سلطنت دہلی کے خاندان غلمان، خلجی ، اورتغلق کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔
خلجی عہد میں علم و فن کو زبردست فروغ حاصل ہوا تھا۔ جس طرح امیر خسرو نے علاؤالدین خلجی کی تعلیمی خدمات کی ستائش کی تھی، اس کے بعد مسلمانوں کے لئے تعلیمی میدان میں فیروز شاہ تغلق، جلال الدین اکبر، سر سید احمد خاں اور حکیم اجمل خاں وغیرہ کے ذریعے انجام دی جانے والی علمی خدمات کی تحسین کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔خسرو نے ہر صنف شعر ، مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، ہندی دوہے ،پہیلیاں ، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔ ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے‘ انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید تھے۔ انھی کے قدموں میں دفن ہوئے۔ان کا مشہور فارسی شعر آج بھی زبان زدد عام ہے:
گر فردوس بر روے زمین است
ہمین است و ہمین است و ہمین است
ہندوی میں انکے دوہے ہر خاص میں مقبول ہیں:
خسرو دریا پریم کا، الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا ، ای پار
سیج وہ سونی دیکھ کے روؤں میں دن رین
پیا پیا میں کرت ہوں پہروں، پل بھر سکھ نہ چین
میر خسرو شاعری سے ہی نہیں بلکہ موسیقی سے بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے۔ ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے ایک اہیم شخصیت بھی مانے جاتے ہیں۔ کلاسیکل موسیقی کے اہم ساز طبلہ اور ستار انہی کی ایجاد مانی جاتی ہے۔ اور فن موسیقی کے اجزا جیسے خیال اور ترانہ بھی انہی کی ایجاد ہے۔
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu Tahzeeb

0 comments:

Post a Comment