Friday, August 27, 2010

Vile West wars

عراق میں لاکھوں افرادکی موت کا ذمہ دار کون ؟

http://urdutahzeeb.net/current-affairs-south-asia/iraq/vile-west-wars-2

ارون نہرو
arun nehruارون نہرو عراق میں جنگ جاری ہے اور جو بھی امریکی فوج یا وہاں کی موجودہ سرکار کی مدد کرتا ہوا دیکھا جاتا ہے ان پر خودکش بموں کے حملے آئے دن جاری ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد بھی برابر بڑھتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں عراق میں فوج کے ایک بھرتی سینٹر میں ہوئے اسی طرح کے حملے میں 61اشخاص مارے گئے اور 125زخمی ہو گئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ کوئی انسانی حقوق کا رکنان آج بش اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی طرف سے شروع کی گئی جنگ سے اب تک مارے گئے عراقی شہریوں مرد عورتوں اور بچوں کی موت کے اعداد شمار اکٹھا کر رہے ہوں گے۔
بش اور ٹونی بلیر نے وہ جنگ ان جھوٹی انٹیلی جنس رپورٹوں کی بنیاد پر چھیڑی تھی کہ عراق کے پاس اجتماعی تباہی کے ہتھیار ہیں جس نے بھی اس وقت اس طرح کے ہتھیار وں کے نہ ہونے کی بات کہی اسے یا تو حاشیئے میں ڈال دیا گیا اس کا جنگ چھیڑ نے پر آمادہ عناصر کی طرف سے مذاق اڑایا گیا ۔ہم اکثر انصاف اوراخلاق کی بات کرتے ہیں ہم جمہوری اقدار پر بات کرتے ہیں لیکن میں سوچتا ہوں کہ عراق میں جاری اس جنگ میں اب تک مارے گئے دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہون ہوگا۔ امریکہ کے موجودہ صدر براک اوبامہ نے پچھلے ایک سال میں افغانستان اور عراق میں کیا حصولیا بیاں حاصل کی ہیں۔ یہ جنگیں ختم ہوتی ہوئیں دکھائی نہیں دیتی ہیں اور مغربی ایشاءمیں امن با ت چیت بحران میں پھنسی ہے۔ عراق افغانستان اور پاکستان میں حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔
میںنے ایک رپورٹ دیکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹونی بلیر اپنی یادوں ’ اے جرنی‘ سے حاصل ہونے منافع کو جنگ میں زخمی فوجیوں کی فلاح کے لئے عطیہ کرنے کے اعلان کے بعد ایک تلخ تنازع میں پھنس گئے ہیں۔ جنگ مخالف لوگوں کی طرف سے اس ’دان‘ کو خونی بنک‘ کہہ کر اس کی مخالفت کی جارہی ہے۔ یہ جنگ مخالف لوگ ٹونی بلیر کو جنگی مجرم قرار دے کر ان پر مقدمہ چلانے کی مانگ کر رہے ہیں۔
جو بھی اس ناجائز جنگ کے لئے ذمہ دار تھے انہیں چناؤ میں بھاری ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ تاریخ کے صفحات میں اپنی بھاری بھرکم کمائی کے ساتھ کہیں کھوگئے۔ اس کے علاوہ انہیں کوئی اور سزا نہیں ملی۔ آج بھی جنگ میں جیتنے والوں پر اور ہار والوںکے لئے الگ الگ قانون ہیں۔ عراق میں جو لاکھوں لوگ مارے گے انکی موت کی جواب دہی کس کے سر پر ہے؟ اتنا خون خرابہ کے باوجود آج بھی عراق میںامن کا امکان دور دورتک دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ سب سے بڑ ی بات یہ ہوئی کہ اس جنگ میں دہشت گردوں کے اصلی منبع افغانستان کے لوگوں کا دھیان بٹا دیا اور ہم سب لوگوں کو اس خوفناک سیاسی غلطی کی بھاری قیمت آج چکانی پڑ رہی ہے۔
اقتدار کی راج نیتی کی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ایٹمی ہتھیار (چاہے وہ قانونی طور سے حاصل ہو ں یا غیر قانونی طور سے ) ہیں تو کوئی بھی جنگ چھیڑنے کی ہمت نہیں کر سکتا ۔ یہ بات ہم شمالی کوریا اور پاکستان کے معاملے میں دیکھ چکے ہیں اس وقت عراق اور افغانستان میں جس طرح کے حالات ہیں ان میں مستقبل قریب میں وہاں کے حالات کا کوئی حل نہیں دکھائی دیتا اور ان دونوں ہی ملکوں میں تشدد جاری رہے گا۔ عراق جنگ کئی وجوہات سے ایک بڑا المیہ رہی ہے۔ راج نیتی سائنس کا ایک ودیارتھی ہونے کے ناطے مجھے اس بات پر بہت حیرانی ہوتی ہے کہ دنیا کے دو بڑے جمہوری ملکوں امریکہ اور برطانیہ میںکنٹرول اور توازن کرنے والے ادارے بے اثر ہو گئے اور جنگ چھیڑنے والی لابیاں ان پر حاوی ہو گئیں۔ اس لابی نے ساری جمہوری اقدار کا مذاق بنا کر رکھ دیا جو کچھ عراق میںہوا ہے ویسا ہی کچھ مستقبل میں کسی ایسے دوسرے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کے خلاف بھی ہوسکتا ہے جس کے پاس اپنی حفاظت کے لئے کافی فوجی یادفاعی صلاحیت نہ ہو۔
مجھے بنگلہ دیش جنگ کی یاد ہے اس وقت وزیر اعظم اندراگاندھی نے اس بات کی پوری کوشش کی تھی کہ پاکستان سے جنگ نہ ہو۔ مجھے یہ بھی یا د ہے کہ پاکستانی فوج نے اس وقت ڈھاکہ اور دیگر مقامات میں نرسنگھار کرنا شروع کر دیا تھا۔
اس وقت امریکی صدر نکسن اور وزیر خارجہ کسنجر نے پاکستان کی مدد کے لئے اپنی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اینٹرپرائزکو بنگال کی کھاڑی میں بھیجنے کے حکم دئیے تھے۔ امریکہ نے اس وقت ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کیطرف سے کئے جانے والے قتل عام کے تئیں ذرا سی بھی تشویش ظاہر نہیں کی تھی۔ آخر کار ہندوستانی فوج نے بنگلہ دیش کو پاکستان کے اس خونی کھیل سے آزاد کرایا تھا۔
ملک کی دفاعی کے لئے شریمتی اندرا گاندھی نے جو مناسب سمجھا تھا وہ بے خوف ہو کر کیا تھا۔ ہمیں اس کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن ان کی طرف سے ہمارے سیکورٹی مفادات مضبوط ہوئے اور اپنے سیاسی فیصلے آزادنہ طور پر کرنے کی حالت میں رہے۔ اس طرح ہم اپنے موجودہ حال کو اپنی طاقت کے مطابق بہتر بناسکے اور مستقبل کے لئے منصوبے بنا سکے۔ ہمارے یہاں اچھی سرکار اقتدار میں آئی اور ہمارے پاس اپنے اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں آگے بڑھنے کےلئے کئی بہتر نعم البدل ہیں۔ ہم ان حالات میں ایک سپریا ور کا درجہ حاصل کرنے کی سمت میں مسلسل آگے بڑھ سکتے ہیں کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا ہماری حالت کبھی اس طرح کی پوزیشن میں آسکتی تھی اگر ہم نے اپنی ایٹمی صلاحیت ڈیویلپ نہ کی ہوتی ۔
عالمی سیاسی توازن
عالمی سیاسی توازن اب آہستہ آہستہ جگہ تبدل کرنے لگا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عراق اور افغانستان میں جنگ کا حل اور مغربی ایشیاءمیں امن کا قیام اکیلے امریکہ کے بس کاروگ نہیں ہے۔ ہم دیکھ رہے کہ آرتھک شعبوں میں آرہے بدلاؤ کے ساتھ ہی عالمی کاروباری ادارے دوسرے معاشی اداروں کے ڈھانچے میں بھی تبدیلی آتی ہوئی دکھائی دینے لگی ہے ۔ لیکن سیاسی سسٹم ابھی بھی وہی پر انے طور طریقے پر ہی چل رہے ہیں اور بڑے امیر ملکوں کے سپرکلب کے جذبہ میںکوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے لیکن یہ سب کچھ زیادہ وقت تک چلنے والا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سبھی بین الاقوامی اداروں کو اب مستقبل میں اس شعبہ میں آنے والی بڑی تبدیلیوںکے لئے ابھی سے بنیاد تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
میںنے پچھلے ہفتے لکھا تھا کہ ہمیں پختگی اورضبط کے ساتھ بڑھنا چاہئے کیونکہ آنے والے وقت میں کسی نہ کسی روپ میں ہمارے سامنے اشتعال انگیز حالات آسکتے ہیں۔ ہم اس کی ایک مثال امریکہ کیطرف سے اپنے سیکورٹی خرچ کو پورا کرنے کے لئے ویزا فیس میں کئے گئے اضافہ کے روپ میں دیکھ سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس پر زیادہ رد عمل ظاہر کئے بغیر اب یہ دیکھنا چاہئے کہ امریکی صنعتی دنیا اپنے اقتصادی پہلوؤں پر اس طرح باتوں سے پیدا مسائل سے کس طرح نپٹتا ہے۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment