Friday, August 06, 2010

The Urdu Language and Composite Culture of India



سلمان عبدالصمد
urdu اردوہندوستان ، مختلف مذاہب وملل کا سنگم اور کثیر لسانی ملک ہے۔ ان زبانو ں میں صاف شستہ اور شگفتہ زبان اردو بھی ہے ، جو اپنی جا ذبیت ، دلکشی ، شفافیت ، حلا وت و چاشنی اوردیگر اوصاف کی بنیا د پر انفرادیت کی حامل ہے۔ با شندگا ن ِ ہند تقریبا ً 1652زبانیں بو لتے ہیں۔ ایک سروے کے مطا بق 1455زبانیں اور بولیاںایسی ہیں جس کے بو لنے والے افراد کی تعداد دس دس ہزار سے بھی کم ہے۔یعنی 197زبانیں ایسی ہیں جنہیں بڑے خطوں میں بو لی جانے والی زبا ن کا درجہ حاصل ہے اور مزید ان مختلف زبانوں میں کل 18زبانیں ہی آئین کے آٹھویں جدول میں مقام پا سکیں۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اردو ہندوستان کی ایک ایسی زبان ہے جو کسی مخصوص خطہ ،طبقہ اور صوبہ کی نہیں بلکہ وہ یہاں کی مشترکہ تہذیب کی زبان ہے ،اس کی پہچان اورعلامت ہے۔ ورنہ بقیہ زبانیں کسی نہ کسی حصار میں مقید ہے۔ کوئی مذہبی تو کوئی علاقائی حصار میں۔ غر ض کہ دیگر زبانیں کسی نہ کسی سطح پر محدد ہے۔
اردو ایک ایسی شیریں زبا ن ہے جس کی مٹھاس ہر ہندوستانی کے کانوں میں رس گھولتی ہے۔ یہ الگ با ت ہے کہ لسانی تعصب کے مریض اس کے قا ئل نہیں۔ یہا نتک کہ ایک و ہ فلم جس پر ہندی کا لیبل چسپاں ہوتا ہے۔ اس میں بھی دوتہائی الفاظ اردو ہی کے ہوتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ریڈیو، اخبار، ٹیلیویڑن وغیرہ کے وہ پروگرام لوگ زیادہ دیکھنا پسند کرتے ہیںجن کا تعلق براہ راست اردوزبان وادب سے ہو یا اس کی حلاوت و چاشنی اس میں گھلی ہو اور غیر سرکاری اداروں میں خالص انگریزی تعلیم یافتہ حضرات کے مقابلہ میں اردو جاننے والے امید وار پسندید گی کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس حقیقت کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ ابتدائی درجات کے نو نہالوں میں ہندی کی طرح اردو پڑھنے کی خواہشات اور امنگیں مچلتی ہیں تاہم ان کے خواہشات کی قدر نہیں کی جاتی۔
اردو تو ایک ایسی زبان ہے جس کے سر آزادی? ہند کے سہرا بندھ تا ہے۔ کیوں کہ زمانہ آزادی کی گہماگہمی میں اردو صحافت نے جو نقوش چھوڑے وہ فی الواقع انمٹ ہیں۔ یہی وہ زبان ہے جو اس نا گفتہ بہ حالات میں بھی ہندو مسلم اتحاد میں نمایا ں رول ادا کیا اور آزادی کے لئے جانبازوں کی سرد انگیٹھیوں کو گرمایا
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
ماضی قریب و بعید سے قطع نظر آج بھی نظر انداز کئے جانے کے باوجود اردو دنیا کی ایک بڑی زبان کی حیثیت سے جانی پہچانی جاتی ہے، وہ اپنا فعال کردار اداکر رہی ہے، اس کے ذریعہ بے شمار افراد اقبال وعروج کے منازل طے کر رہے ہیں ، کتنے افراد نے انڈین سول سروس میں اردو کو اختیاری مضمون رکھ کر کامیابی حاصل کی۔
تمام امور اردو کی حقیقت و اہمیت ثابت کرتے ہیں کہ وہ بھی ایک روز مرہ کی صاف، نہایت شستہ و شگفتہ اور شیریں زبان ہے اسی طرح رابطہ کی بھی، تاہم باوجود ان سب کے لسانی تعصب اور فرقہ واریت کی کند چھری اس کی گردن پر چل رہی ہے۔ یوں تو اسے نظر انداز کرنے کا سلسلہ متواتر آزادی کے بعد سے جاری ہے۔ اردو کی زخم خوردہ گردن پر آنجہانی اندرا گاندھی نے مرہم پٹی کی اور بموقع غالب صدی1969کو یوپی بہار کی دوسری بڑی زبان قرار دی۔ اس کے بعداردوکی کچھ ترویج و اشاعت ہوئی، اکادمیوں کا قیام عمل میں آیا۔ پھر اس کے بعد سے اس سے ناروا سلوک اور سوتیلا برتاﺅ کیاجانے لگا۔ اردو ہے کہ غلط سیاست کے غضب ناک کھیل سے کراہتی نظر آرہی ہے۔ مزید یہ ستم ظریفیاں کہ اس زبان کو سیا ست اور لسانی تعصباتی عنصر نے مذہبی حصار میں قید کردیا،اس پر مسلمانیت کا لیبل چسپاں کردیا کہ یہ تو محض شیدائے حرم کی زبان ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کن وجوہات کی بنیاد پر مسلمانوں کی زبان اردو ٹھہری ؟ قرآن و حدیث کی زبان تو اردو نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اردو مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے۔ اردو فقط اس خطہ کی زبان ہوتی جہاں کی اکثریت آبادی مسلمانوں کی ہے تو چند لمحات کیلئے یہ مان بھی لیا جاتا کہ یہ زبان صرف مسلمانوں کی ہے۔ مگر کوئی ایسی بات نہیں یہ تو زبان زد خاص و عام ہے۔ بلا تفریق مذہب و ملت اس کے شیدائی بے شمار ہے۔ برادران وطن کی کثیر تعداد نے بھی اردو سے والہانہ عقیدت و محبت کا مظاہرہ کیا۔ پنڈت رتن ناتھ سرشار، پریم چند، سرور جہاں آبادی، گیان چند جین، جگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ، پنڈت دیا شنکر نسیم، پرج نارائن جکبست، رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری وغیرہ آسمان اردو کے چمکتے ستارے ہیں۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ فقط مسلمانوں کی زبان نہیں۔ ذات پات اور فرقہ سے اسے جوڑنا ایک سازش اور محدود علم کا غمازہے۔
رسائل و جرائد کی دنیا پر طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ بہت سے اردورسائل و اخبارات مسلمانوں کے نہیں ،بلکہ انہیں پابندی سے برادران وطن نکال رہے ہیں۔ ”ہند سماچار، راشٹریہ سہارا، ملاپ، پرتاب” وغیرہ کے مالک و مختار کون ہیں؟ کن کی ماتحتی میں یہ کام بحسن و خوبی انجام پارہا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ خواہ ہندو ہو یا مسلمان، ان سب کی پیاری زبان اردو بھی ہے۔
اردو کے تئیں ایک بڑی غلط فہمی یہ پیدا کی جارہی ہے کہ ”اردو پاکستان کی زبان ہے ہندوستانیوں کی نہیں” سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اردوتقسیم وطن سے قبل نہیں تھی؟ کیا آزادی کی گہما گہمی میں اردو صحافت نے نمایاں رول ادا نہیں کیا؟جواب اگر اثبات میں ہو کہ ما قبل آزادی بھی اردو کے شیدا ان گنت تھے، اردو رابطہ کی زبان تھی، تو پھر اردو پر پاکستان کا ہی لیبل چسپاں کرنا انتہائی مضحکہ خیز اور کج فہمی پر مبنی ہے۔ یہ بھی واضح ہو کہ شاید پاکستان کا ایک بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں کے باشندوں کی مادری زبان اردو ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اردو اس وجہ کر زندہ ہے کہ وہ یہاں کے رابطہ کی زبان ہے۔ پاکستان کے وہی باشندے اردو کو اپنی مادری زبان مانتے ہیں جو دہلی ،لکھنو ¿، بھوپال یا پٹنہ وغیرہ سے گئے ہیں۔ پاکستان میں تو سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور پنجابی بھی کثرت سے بولی جاتی ہیں، مگر پنجابی وغیرہ بولنے پر ہندوستان میںترچھی نگاہ نہیں اٹھتی، اس زبان کو پاکستانی زبان نہیں مانی جاتی۔ آخر وجہ اس کی کیا ہے؟؟
اردو کے متعلق یہ بھی پروپیگنڈہ ہے کہ اردو مسلمانوں کے ساتھ آنے والی غیر ملکی زبان ہے یا ہندوستان پر مسلمانوںکے غلبہ کی نشانی ہے۔ اس پر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابتدا ًکیسے اور کن مسلمانوں کی آمد ہندوستان ہوئی؟ جو مسلمان اولین دو ر میں ہندوستان آئے ان کی مادری زبانیں کیا تھیں؟ اگر ان کی زبانیں ایسی تھیں کہ وہ اردو کی مماثل ہو تب تو وثوق کے ساتھ نہ سہی مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو ان مسلمانوںکے ساتھ آنے والی غیر ملکی زبان ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے مالا بار کے علاقہ میں بعض تابعین اور بعض روایات سے واضح ہوتا ہے کہ چند صحابہ مالا بار کے ساحل پر اترے اور وہاں پر انہوں نے اپنی اپنی تجارتیں شروع کیں۔ بر صغیر میں اسلام کا سورج سب سے پہلے مالا بار میں طلوع ہوا، یہ تاریخی حوالہ بتاتا ہے کہ آمد اسلام تابعین یا صحابہ کے ذریعہ بر صغیر میں ہوئی۔ ان کی مادری زبانیں کیا تھیں اس کی صراحت قطعی نہیں، مگر قرین از قیاس یہی ہے کہ ان کی زبانیں عربی ہی ہوںگی نہ کہ اردو یا دیگر زبانیں۔ کیونکہ صحابہ اور تابعین اکثر حجاز اور اس کے اطراف کے ہی تھے۔ جب ان کی زبان اردو نہیں تھی تو ظاہر ہے کہ اردو مسلمانوں کے ذریعہ انے والی غیر ملکی زبان نہیں بلکہ اردو تو دو قوموں یعنی ہندو ¿ں اور مسلمانوں کے سماجی ملاپ، اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی یادگار ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اگر اردو مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کی یادگار ہوتی تو آنند نرائن ملا یہ کیوں کر کہتے ”میں اپنا مذہب چھوڑ سکتا ہوں لین اپنی مادری زبان اردو نہیں”۔
یہ تو جگ ظاہرہے کہ ہندی ہماری قومی زبان ہے، ہندی اردو کی آواز میں کوئی حد درجہ تفاوت نہیں بلکہ یک گونہ یا اس سے کہیں زیادہ دونوں میں مماثلت ہے، ان دونوں میں مما ثلت ہی دراصل یہ دلیل ہے کہ اردو ایک غیر ملکی نہیں، بلکہ ہندوستان کی زبان ہے۔ اردو ہندی کی معاون ہے تو ہندی اردو کی۔ ان دونوں کو اس نظریہ سے دیکھنے سے ہی اس زبان کو بھی ایک مقام مل سکتا ہے۔باوجود ان سب حقیقتوں کے فرقہ پرست عناصروں کو اردو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ عجب فلسفہ اور ایک المیہ ہے اردو سے برادران وطن کے بہت سے افراد کو کتنی چڑھ اور کیسی بے اعتنائی ہے ، اس کا اندازہ اس سے کیجئے ، ایک مرتبہ ہندوستان کے صوبہ بہار میں جہاں اردو دوسری سرکاری زبان ہے، کسی ڈاکیہ نے رجسٹری ڈاک اس وجہ سے وصول کرنے نہیں دیا کہ وصول کنندہ اردو میں دستخط کر کے وصول کر رہا تھا۔ جب وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے تو وصول کنندہ نے بھی ہندی میں دستخط کر نے سے انکار کر دیا۔ پھر دوسری مرتبہ کسی عالم دین کو اسی ڈاکیہ محترم نے انگلش میں دستخط کرنے کی پاداش میں ڈاک وصول کرنے نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری صرف ہندی سے واقفیت ہے، اسی وجہ سے صرف ہندی میں دستخط کرنے والوں کو ڈاک دے سکتا ہوں کیسی ہے یہ ستم ظریفی کہ اردو تو اردو مسلمانوں کی انگریزی دستخط بھی قابل قبول نہیں؟ یہ سانحہ شعبہ ڈاک پر ایک بدنما داغ سے کم نہیں۔
لب لباب یہ ہے کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب ہے، ہندو مسلم اتحاد کی یادگار ہے، مگر لاتعداد افراد اس خوف سے اردو زبان و ادب کی تعلیم حاصل کرنے سے کتراتے ہیں کہ روزی روز گار سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ اس سطحی فکر کے حامل افراد سے افہام و تفہیم کے لئے یہ کہنا مناسب ہے کہ یاد رکھیں کوئی زبان بالکلیہ روزی روٹی کی ضامن نہیں۔یہ الگ سی بات ہے کہ جس دور میں جو زبان رابطہ کی ہوتی ہے اس سے بآسانی روزگار کے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم اردو کو دلجوئی سے پڑھیں، اسے رابطہ کی زبان بنانے کی سعی پیہم کریں تو اس زبان کے ذریعہ بھی روزی روٹی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اردو کی اس خستہ حالی کے لئے اردو والوں کی اس سے بے اعتنائی سب سے اہم ہے۔ اردو کے وقار اور اس کی شان کو بحال کرنے کے لئے اردو کو سینے سے لگانا ناگزیر ہے۔
 
http://alqamar.info/2010/2010/06/22/urdu-indian-language.html

0 comments:

Post a Comment