Friday, August 06, 2010

Sudden death and gradual justice

http://urdutahzeeb.net/current-affairs/articles/sudden-death-and-gradual-justice

یہ بات نہ صرف عجیب لگے لگی بلکہ اس صورت میں یہ قابل قبول بھی ہوگی اگر گجرات میں ایک گینگیسٹر کی قسمت کے فیصلے کے ذریعہ سیکولرزم کی تشریح کی جائے گی۔ سہراب الدین شیخ کے کیس میں معاملہ ایک فرد کے مذہب یا اس کی گزر بسر کے ذرائع کا (اس کیس میں جو کہ جرائم پیشہ ہی تھا) نہیں بلکہ قانون کی برتری کا ہے۔اسی اصول کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ایک فرضی انکاؤنٹر میں اس کی ہلاکت اور اس کے فوراً بعد اس کی اہلیہ کرثر بی کے قتل کے چھان بین کا کام 13جنوری 2010کو سی بی آئی کو سونپا تھا تو گجرات سرکار کی معتبریت کو اس وقت کافی دھکا لگا تھا جب اسے دسمبر 2006میں یہ اعتراف کرنا پڑا تھا کہ سہراب الدین کی ہلاکت 26نومبر 2005کو ایک فرضی انکاؤنٹر کے تحت کی گئی تھی اور یہ کہ اس کی اہلیہ کو بھی دوروز بعد ہی قتل کر دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں جو موقف اپنایا ہے وہ صرف گجرات سرکار کو ہی نہیں بلکہ کسی بھی انتظامیہ کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا پولیس کا نہیں بلکہ عدالت کا کام ہے کہ کوئی شخص گنہگار ہے یا بے گناہ ۔ حقیقت یہ ہے کہ کم از کم گزشتہ دو دہائیوں اور کچھ معاملات میں اس سے بھی زیادہ مدت تک سیکورٹی فورسز جرائم پیشہ افراد اور ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ میں فرضی مڈبھیڑ کو ہی ایک آسان متبادل کے طور پراستعمال کر تی رہتی ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ ممبئی میں بدنام زمانہ انڈر ورلڈ سے مقابلے کے نام پر اب تک کتنے معصوم افراد کو مت کے گھاٹ اتار ا جا چکا ہے۔ ان پولیس افسران کو، جنہوںنے پہلے گولی چلائی تھی اور بعد میں سوالات کا جواب دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ صرف مہاراشٹر سرکار نے ہی نہیں، بلکہ بالی ووڈ کیجانب سے بھی ہیرو کادرجہ دیا جاتا رہا ہے۔ یہ بات خواہ پولیس اور عوام کو پسند نہ آئے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ بالی ووڈ کی جانب سے اس معاملہ میں مداخلت صرف اسی لئے کی گئی تھی کیونکہ اس کارروائی کو متعدد شہریوں کی حمایت حاصل تھی۔ ہمیں اس بات کا اب یقین نہیں رہا ہے کہ جرائم تو رہے درکنار ملک کے خلاف کی جانے والی دہشت گردانہ کررائیوں کاسدباب بھی جائز وقانونی طریقوں سے ممکن ہے ، کیونکہ کرپشن کی وجہ سے پولیس ونظام عدل کا ایک بہت بڑا حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کا ایک وقت طلب پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کے شہری یعنی ہم خود بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، کیونکہ ہم انڈر ورلڈ کے ذریعہ فروخت کی جانے والی منشیات کو خریدتے ہیں۔ ممبئی میں ممنوعہ ادویات و منشیات کو استعمال کرنے والا ہر شخص ہی کرپشن میں پوری طرح ملوث ہے، کیونکہ انڈرورلڈ کی بقا کاپورادارومدار اسی کا روبار پر ہی تو ہے۔ ممبئی کے دولت مند طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ، جنہیں رقص وسردو کی پارٹیوں کے لئے حشیش کے کشوں کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے استعمال سے قبل اس کے نتائج پر تھوڑا غور کر لینا چاہئے۔ ہمارے اندر چھپا ایک خود غرض انسان اپنی کمزوریوں کی حد تک تو جرائم کو برداشت کرنا چاہتا ہے، تاہم ان جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ کا بھی خواہاں بھی فوراً ہو جاتا ہے، جو ہمارے عیش و آرام کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔
امت شاہ خواہ کتنے ہی شاطر سیاستداں کیوںنہ ہوں، اب ان کا بچ پانا مشکل ہی دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستانی نظام عدل کے تحت کچھ تاخیر تو ضرور ہوتی ہے ، تاہم جب وہ رفتار پکڑ لیتا ہے تواس کے عمل سے بچ پانا مشکل ہی نہیں بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ شاہ عوام کے ذہنوں میں پائے جانےوالے تصادات کا ضرور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ، کیونکہ کچھ لوگ ایسی بھی ہیں، جو اس طرح کے مجرمین کے”ہلاک کئے جانے کے ہی“ حامی ہوں گے تاہم اس کیس میں سب سے بڑی خرابی ان پر لگائے گئے یہ الزامات ہیں کہ انہوںنے اس سلسلے میں تاجروں کے ساتھ روپیہ پیسہ کا لین دین کافی بڑے پیمانے پر کیا تھا۔ امت شاہ اور نریندر مودی کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی کہ اقتدار کا دائرہ اختیار سیاسی دنیا سے کہیں بڑا ہو تا ہے۔ اس کیس سے نریندر مودی ک مستقبل میں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے اپنی پارٹی کا امیدوار بنائے جانے کے امکانات پر بھی کافی خراب اثر پڑے گا اور اس سے ان کی پارٹی کے کافی لوگ نا خوش بھی نہیں ہوں گے ۔
تاہم جوابدہی کے معاملے کوبھی یقینا صرف ایک ہی ریاست کے کسی ایک کیس تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ 55سالہ نکسلی لیڈر، راجکمار چیروکوری آزاد کی موت کے لئے جسے آندھراپولیس نے عادل آباد ضلع میں ہلاک کر دیاتھا، آخر کون ذمہ دار ہے؟ یہ انکاؤنٹر تھا یا فرضی انکاؤنٹر؟ کیا پولیس کے پاس ایسی کوئی شہادت یا ثبوت ہے کہ یہ ایک نکسلی حملہ تھا، جس کے لئے انہیں جوابی کارروائی کرنی پڑی تھی؟ یا پولیس نے دہلی اور حیدرآباد کے احکامات کے تحت ٹوہ لگا کر ہی اس کا قتل کیا تھا؟ آزاد کی ہلاکت کا ایک سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت اور نکسلی تحریک کے درمیان میں مستقبل کی گفت و شنید کے سلسلے میں اس کی حیثیت ایک پل کی تھی۔ کہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مرکزی حکومت اس کی ہلاکت کی اس لئے خواہاں تھی، کیونکہ وزارت داخلہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نکسلیوں کو ہلاک کر کے ہی اس علاقے میں اپنا تسلط قائم کرے گی اور بات چیت کی پیش کش کے بارے میں وہ سنجیدہ نہیں تھی؟ سوامی اگنی ویش جیسے مصالحت کاروں کی تو رائے یہی ہے۔ کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ سوامی اگنی ویش سپریم کورٹ میں ایک رٹ پیٹشن کے ذریعہ دلیل پیش کریں کہ کیونکہ آندھرا پولیس بذات خود آزاد کی ہلاکت میں ملوث ہے، اس لئے وہ ان سوالوں کے جواب دینے کی کوئی کوشش نہیں کرے گی؟ چونکہ ہمارا سامنا فی الحال ایک پیچیدہ مسئلے یعنی ملک کا دشمن کون ہے، سے ہے تو اس طرح کے حالات میں جوابات کی بہ نسبت سوالات کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے؟ قصاب اور اس کے جیسے دیگر ہزاروں دراندازوں کے بار ے میں جو بین الاقوامی سر حد کو پار کر کے ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے کی غرض سے یہاں آتے ہیں کسی طرح کا تذبذب یا گھبراہٹ نہیں پائی جاتی ، تاہم سپریم کورٹ کے لئے مسئلہ اس صورت حال میں ضرور غیر واضح ہو جاتا ہے جب زمروں میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ رولنگ دے کر کہ سہراب الدین جیسے شخص کو بھی ، خواہ اس نے جبراً پیسہ وصول کرنے کی غرض سے گینگسٹرز کوہی ہلاک کیون نہ کیا ہو اور اس کے ملازمین آٹو میٹک آتشیں اسلحہ سے ہی لیس کیوں نہ ہوں ، ظالمانہ ڈھنگ سے ہلاک نہیں کیا جاسکتا ، ایک جراءت مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ کیا کورٹ کی رائے ہو سکتی ہے کہ مقدمہ کے بغیر ہی آزاد کا ہلاک کیا جانا اس لحاظ سے صحیح ہے، کیونکہ آندھرا پردیش اوردہلی میں بیٹھے چند لوگوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسا ہی کیا جانا ضروری ہے؟
سپریم کورٹ ایک سیاسی پارٹی تو ہے نہیں اس لئے چند افراد کی ضروریات کے تحت اس کے لئے اس 
سلسلے میں اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

0 comments:

Post a Comment