Friday, August 06, 2010

Shab-E-Barat

انا انزلنا فی لیلة مبارکة انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم

”ترجمہ : بے شک ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں ہماری یہ شان ہے کہ ہم بروقت خبردار کر دیا کرتے ہیں اسی رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر اہم کام کا۔“ اس آیت کریمہ میں علماءکے دو قول ہیں:
(۱) حضرابن عباس ؒ ، قتادہؒ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس رات سے مرادلیلہ القدر ہے کیونکہ سورئہ قدر میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے ۔ انا انزالناہ فی لیلة القدر۔(۲) عکرمہ او رایک جماعت کا خیال ہے کہ آیت کریمہ پندرہ شعبان کی رات کے بارے میں ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلی ؒ لکھتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا : ”شعبان شہری و رمضان شہر اللہ“
ترجمہ : شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ کا مہینہ، اس فرمان رسول سے معلوم ہوا کہ تاجدار کائنات کو شعبان کا مہینہ بڑا محبوب تھا اس لئے آپ اس ماہ مبارک میں زیادہ روزے رکھتے تھے اور شب بیداری فرماتے تھے۔ آیت مذکورہ کے تحت صاحب تفسیر روح البیان لکھتے ہیں” اللہ پاک اس رات میں رزق کا پروگرام حضرت میکائیل کے سپرد فرمادیتے ہیں اور اعمال وافعال کا پروگرام پہلے آسمان کے فرشتے اسماعیل کے حوالے کردیا جا تاہے۔ مصائب وآلام کا پروگرام حضرت عزرائیل کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
ایک اور روایت کے مطابق آنحضرت سے پوچھا گیا کہ شعبان المعظم میں آپ کے روزہ دار رہنے کی کیا وجہ ہے؟
آپ نے فرمایا: شعبان تک مرنے والوں کی اجل لکھی جاتی ہے تو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میری موت لکھی جائے تو میں روزہ دار ہوں۔
ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ شب برات وہ رات ہے جس میں سارے سال میں واقع ہونےوالے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے بخشش حاصل کرنے کے لئے اس رات کو عبادت وریاضت میںتوبہ اوستغفار میں گزرایں۔ اس رات کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث و روایات بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
(۱) حضرت علیٰ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا: ” جب شعبان کی پندرہ ہویں رات ہو تو رات کو جاگا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو ۔ جب سورج غروب ہوتا ہے اس وقت سے اللہ پاک اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا کہ ہے کوئی مغرفت طلب کرنے والا؟ تاکہ میں اس کو بخش دوں، ہے کوئی رزق طلب کرنے والا؟ تاکہ میں اس کو رزق دوں، ہے کوئی مصیبت زدہ؟ تاکہ میں اس کو اس سے نجات دوں ۔یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
(۲) ام المومین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے : آپ فرماتی ہیں ”کہ ایک رات میں نے حضور کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں نے حضور کی تلاش میں نکلی۔ میںنے آپکو جنت البقیع میں پایا کہ آسمان کی طرف حضور ﷺ نے سر اٹھایا ہواتھا۔ مجھے دیکھ کر حضور نے فرمایا: اللہ پاک نصف شعبان کی رات کو آسمان سے دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے جیتنے بال ہیں اتنے ہی لوگوں کو اللہ پاک بخش دیتا ہے۔
(۳) حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا: بے شک اللہ پاک پندرہ شعبان کی رات کو رحمت کی تجلی فرماتا ہے پس تمام مخلوق کو سوائے مشرک اورکینہ پرور کے بخشش فرماتا ہے۔
(۴) رسول اللہ نے فرمایا: جس طرح زمین پر مسلمانوں کے لئے عید کے دو دن ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان پر فرشتوں کی عید کی دوراتیں ہیں۔
۱۔شب براءت
۲۔ شب قدر
مسلمانوں کی عید دن میں ہوتی ہے اور فرشتوں کی عید رات کو ہوتی ہے۔
(۵)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا: نصف شعبان کی رات کو جب چوتھائی رات ہوئی تو جبرائیل اترے اور کہا اے محمد ! سراٹھاؤ ڈ میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا تو جنت کے دروازے کھلے نظر آئے۔ پہلے دروازے پر ایک فرشتہ صدا دے رہا تھا کہ خوشی ہو اس شخص کے لئے جس نے اس رات کو رکوع کیا۔ دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ کہہ رہا تھا خوشی ہو اس شخص کے لئے جس نے اس رات میں سجدہ کیا، تیسرے دروازے پر ایک فرشتہ پکار رہا تھا خوشی ہو اس شخص کے لئے جس نے اس رات دعا کی۔ چوتھے دروازے پر ایک فرشتہ صد ادے رہا تھا کہ خوشی ہو اس شخص کے لئے جو اس رات میں عبادت و ذکر میں مصروف رہا۔ پانچویں دروازے سے یہ آواز آ رہی تھی کہ خوشی ہو اس شخص کے لئے جو اس رات میں اللہ کے خوف سے رویا۔ چھٹے دروازے پر فرشتہ آواز لگا رہا تھا کہ خوشی ہو اس شخص کے لئے جو مسلمانوں و مومن ہے۔ ساتویں دروازے سے آواز آرہی تھی کہ ہے کوئی مانگنے والا جس کی دعا قبول ہو اور خواہش قبول ہو اور آٹھویں دروازے پر ایک فرشتہ پکار رہا تھا کہ ہے کوئی معافی کا طلب گار کہ اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں۔
آنحضرت نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ دروازے کب تک کھلے رہیں گے؟ جبرائیل نے عرض کی اول شب سے مطلع فجر تک ۔ ا سکے بعد جبرائیل نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس رات میں اللہ کی طرف سے رہائی پانے والوں کی تعداد دبنی کلب کی بکریوں کے برابر ہوتی ہے۔
(۶) حضور کا فرمان ہے ” کہ شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو جبرائیل میرے پاس آئے اور عرض کی یا رسول اللہ ! اپنا سرانور آسمان کی طرف اٹھائےے میں نہ پوچھا یہ کیسی رات ہے؟ تو انہوںنے عرض کیا کہ یہ وہ رات ہے جس میں اللہ پاک تین سورحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ہر اس شخص کو بخش دیتا ہے جو مشرک نہ ہو۔ اس رات میں بحشش فرماتا ہے سوائے جادوگر، ہمیشہ شراب پینے والا اور سودخور کے ۔ جب تک یہ تو بہ نہ کرلیں“۔
(۷) نزہتہ المجالس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ایک دن ایک پہاڑ سے گزرے وہاں ایک سفید پتھر دیکھا اس کی خوبصورتی اور دلکشی پر بہت متعجب ہوئے۔ آپ کے اظہار تعجب پر اللہ نے فرمایا: کہ اے عیسیٰ ! کیا تم چاہتے ہو کہ اس پتھر سے زیادہ تعجب خیز ایک چیز تم پر ظاہر کر دوں؟ حضرت عیسیٰ نے عرض کی یا اللہ ! ہاں میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ کے حکم سے وہ سفید پتھر پھٹ گیا اور اس میں سے ایک شخص نکلا جس کے ہاتھ میں سرسبز شاخ تھی جس پر انگور لگے ہوئے تھے۔ اس شخص نے کہا اے اللہ کے نبی! یہ میری روزانہ کی خوراک ہے اور میں یہاں اللہ کی عبادت میں مصروف رہتا ہوں ۔ حضرت عیسیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو کب سے اس پتھر میں عبادت کر رہا ہے تو اس نے جواب دیا چار سوسال سے ۔ یہ سن کر عیسیٰ نے کہا تو بڑا خوش نصیب ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے پیارے عیسیٰ ! میرے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ کی امت میں سے جو شخص شعبان کی پندرہویں رات میں دورکعت نفل پڑھے گا وہ اس شخص کی چار سوسالہ عبادت سے بھی زیادہ ثواب پائے گا۔(سبحان اللہ)
شب براءت میں صلوة الخیر پڑھنی چاہئے اس کی بے شمار برکات ہیں۔ سلف صالحین اس نماز کو باجماعت ادا کرتے رہے ہیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سور کعتوں میں ایک ہزار مرتبہ سورئہ اخلاص یعنی ہر رکعت میں دس مرتبہ پڑھی جائے۔ اس کی فضیلت کے بارے میں حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں۔ مجھ سے رسول اللہ کے تیس صحابہ نے بیان کیا کہ اس رات جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ پاک اس کی طرف ستر بار نظر رحمت فرماتا ہے اور ہر نگاہ میں ستر حاجتیں پوری کرتا ہے اور جن میں سب سے ادنیٰ حاجت گناہوں کی مغرفت ہے۔
ان تمام احادیث ورایات میں ’شب براءت‘کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رب کی بارگاہ میں التجا کے وہ ہم سب کو اس مقدس رات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور جان کائنات کے اسوئہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمارے ان مسلمان بھائیوں کو ہدایت نصیب فرمائے جو اس رات آتش بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی عافیت تباہ برباد کر تے ہیں۔
کرتے رہے تلاوت وعبادت تما م رات
خود مصطفیٰ نے ایسے منائی شب براءت

For more  :  

0 comments:

Post a Comment