Wednesday, August 11, 2010

A role for the US in Afghan national reconciliation ?

http://urdutahzeeb.net/current-affairs-south-asia/afghnistan/a-role-for-the-us-in-afghan-national-reconciliation-2

شکریہ دلاور
افغانستان Afghanistanواشنگٹن، ڈی سی: جون میں افغانستان کے قبائلی سرداروں کے سب سے بڑے اجلاس 'لوئی جرگہ' میں 1600 مقامی افغان رہنماؤں نے نچلی سطح کے ایسے طالبان جنگجوؤں کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے کے پروگرام کی توثیق کی جو تشدد ترک کرنے، افغان آئین کو قبول کرنے اور اپنے گھروں کو واپس جانے پر تیار ہیں اور اس ضمن میں ان کے لئے مختلف ترغیبات مثلاً روزگار، پیشہ ورانہ تربیت یا ان کی کمیونِٹیز کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔یہ جرگہ افغانوں کے مابین اتفاق رائے اور قومی مفاہمت قائم کرنے کی سمت میں بہت اہم قدم تھا۔ یہ پروگرام ایسے طالبان باغیوں کو راغب کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے جن کی طالبان کے ساتھ کوئی نظری وابستگی نہیں ہے بلکہ وہ مالی فوائد کے حصول کی خاطر اس شورش میں شامل ہیں۔ تاہم طالبان کی پیدل فوج کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنا وسیع تر مفاہمتی عمل کا محض ایک پہلو ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ اگرچہ ان پیادوں کے انضمام کا حامی ہے اور اس پروگرام کے لئے فنڈز بھی فراہم کر رہا ہے لیکن وہ ابھی تک طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ گفت وشنید پر آمادہ نہیں ہے اور اس طرح افغانستان میں افغانوں کی زیرِ قیادت مفاہمتی کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ناٹو اتحادیوں کی اکثریت اور افغانستان اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اعلانیہ یہ تسلیم کرنے کے باوجود جاری ہے کہ افغانستان کی جنگ صِرف فوجی حربوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ افغانستان کو دیرپا امن کی طرف آگے بڑھانے کے لئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو اپنی مجموعی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑے گی۔امریکہ اور طالبان قیادت دونوں ہی کابل حکومت پر ایک دوسرے کے خلاف ایسی پیشگی شرائط عائد کر رہے ہیں جو قومی اتفاق رائے کے عمل کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کی شرط ہے کہ طالبان لڑائی ختم کر دیں اور افغان آئین کو تسلیم کر لیں۔ دوسری طرف طالبان نے حکومت کے سیاسی عمل میں شریک ہونے کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ پہلے غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس جائیں۔ مزید برآں طالبان کی اعلیٰ قیادت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بات چیت پر رضامند ہے لیکن اس کی شرط ہے کہ مذاکرات کے انعقاد کے لئے کوئی اور پیشگی شرائط نہیں رکھی جائیں گی۔
اس جمود کو توڑنے، فریقین کے درمیان اعتماد قائم کرنے اور مفاہمتی عمل میں سہل کاری کے لئے کرزئی انتظامیہ نے پچھلے چند ماہ کے دوران اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ طالبان کے بعض کمانڈرز کا نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ کابل اور اسلام آباد طالبان کی اعلیٰ ترین قیادت کو افغانستان کے سیاسی عمل میں شریک ہونے کے لئے لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ پیٹریئس کی طرف سے پاکستان اور افغانستان میں سرگرم باغی گروہ حقّانی نیٹ ورک، جو طالبان کا قریبی اتحادی ہے، کو بلیک لِسٹ کرنے کا حالیہ فیصلہ ان سرگرمیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔امریکی صدر براک اوبامہ نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں ان کے ملک کا مِشن طالبان کے زور کو توڑ کر "القاعدہ کو اکھاڑنا، منتشر کرنا اور شکست دینا" ہے۔ شورش کو کچلنے کے لئے امریکہ نے جو حکمتِ عملی اپنائی ہے اس کا مقصد کرزئی انتظامیہ اور باغی کمانڈروں کے درمیان رسمی مذاکرات کی منظوری دینے سے پہلے طالبان کی طاقت کو توڑنا ہے۔ لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے اس حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اوّل، امریکی اور افغان حکام کے مطابق اس وقت افغانستان میں القاعدہ کے صرف 50 سے 100 فعال ارکان ہیں جس کا مطلب ہے کہ اتنی تھوڑی تعداد میں شَر پسندوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے اتنی بڑی فوج انتہائی غیر متناسب ہے۔
دوم، طالبان کا زور توڑنے کا واحد طریقہ افغانستان کے اندر مفاہمتی عمل کو جاری رکھنے میں سہولت پہنچانا ہے جس کے لئے طالبان کے سینِئر کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات کی بھرپور تائید کرنا ضروری ہے۔بالآخر ہم نے یہ تو دیکھ ہی لیا ہے کہ باغی عناصر کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کی کِسی سنجیدہ مشغولیت کے بغیر 9 سال تک شورش سے نمٹنے کی کوشش نے طالبان کو کمزور نہیں کیا بلکہ مزید طاقتور بنایا ہے۔ لہٰذا افغانستان کا استحکام سخت قوت پر انحصار کی بجائے دیرپا پالیسی اہداف کے حصول کے لئے بالا?خر نرم قوت کے بھرپور استعمال کی سوچ اختیار کرنے پر منحصر ہے۔ ملک کو مستحکم بنانے میں کابل حکومت کی مدد کا بہتر طریقہ اس کے سارے مفاہمتی عمل کی تائید کرنا ہے جس میں طالبان کے سینئر کمانڈروں کے ساتھ رابطہ کرنا بھی شامل ہے۔
سوم، تمام بڑے فریقوں کو جن میں افغانستان، پاکستان، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ناٹو کے اتحادی ممالک کی حکومتیں بھی شامل ہیں، افغانستان میں سماجی واقتصادی ترقی، تعمیرِ نو، اداروں کو مضبوط بنانے، تعلیم اور انسانی حقوق پر خاص طور پر زور دینے کی ضرورت ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو علاقائی اور داخلی کرداروں کی طرف سے سیاسی مفادات کی خاطر گروہی دراڑیں وسیع کرنے کے رجحان کا سدّباب کرنا چاہئے۔ افغانستان کے اکثریتی اور اقلیتی سبھی رہنماؤں کو اِس جنگ زدہ ملک میں امن قائم کرنے کے لئے مِل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔تشدد کے تسلسل اور فوج کی طویل المدّت مشغولیت کا نتیجہ افغان معاشرے کی مزید تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ خود اپنے درمیان موجود اختلافات پر مصالحت اور افغان مملکت کے اداروں کو مضبوط بنانے کی افغان کوششوں کی حمایت سے پائیدار استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے کی اجازت نہ افغان قوم دے سکتی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی برادری اس کی متحمل ہو سکتی ہے۔

*شکریہ دلاور ( rdellawar@gmail.com یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے ) واشنگٹن ڈی سی میں قیام پذیر ایک خود مختار تجزیہ نگار ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment