Wednesday, August 11, 2010

Revealing the Afghan war’s ugly side



رحیم اللہ یوسف زئی
ویکی لیکس WikiLeaksکے آسٹریلوی بانی جولین آسانجJulian Assange نے شاید افغانستان کی جنگ کے حوالے سے امریکی راز فاش کرکے اور اور اس نو سالہ پرانے تنازع کر کے چند بدنما پہلوؤں کو اجاگر کر کے شاید دنیا کیلئے بہتری چاہی۔ان انکشافات سے ہوسکتا ہے اس بدنام جنگ کے خلاف مزید رائے عامہ ہموار ہو اور ممکنہ طور پر اس کا خاتمہ ہو سکے۔
آسانج کو خطرہ ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کا سفر کیا توانہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے لیکن وہ پر عزم ہیں اور انہوں نے مزید راز افشا کرنے کی دھمکی دی ہے۔اس سے مزید انکشاف کی بھوک میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ویکی لیکس جو کہ دنیا بھر میں راز افشاءکرنے کے حوالے سے مشہور ہے اور کہا جا رہاہے کہ 77ہزار دستاویزات منظر عام پر لانے کے بعد اس کے پاس 15ہزار مخصوص دستاویزات اور موجود ہیں۔باقی ماندہ 15ہزار وار ڈائریوں میں انتہائی خفیہ معلومات درج ہیں جوکہ ابھی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں کیونکہ ان میں سے معلومات فراہم کرنے والوں کے نام مٹانا باقی ہیں کیونکہ اس اقدام سے نقصان کو محدود کرنا ہے۔
یہ ایک احسان ہے جو وہ امریکہ اور اس کے تنخواہ دار مخبروں پر کیا جارہا ہے خواہ وہ افغان ہوں پاکستانی یا کوئی اور ، کیونکہ وہ لوگ امریکہ کے لئے جاسوسی کر رہے ہیں اور ان کا اپنے ہی لوگوں کے خلاف امریکہ کی مدد کرنا لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے گا اور وہ جنگجوؤں کے انتقام سے بچ سکیں گے۔ یہ ایک اور معاملہ ہے کہ افغان طالبان اور ان کے ساتھیوں کا اپنا ایک موثر خفیہ نیٹ ورک ہے اور ان مخبروں میں سے اکثر وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتے جائیں گے اور ہو سکتا ہے بہت سوں کی قسمت کا اب تک فیصلہ ہو بھی چکا ہو۔یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ منکشف ہونے والی دستاویزات میں افغان مخبروں یا طالبان غداروں کے نام شامل ہیں یا پھر ان میں ان کے گاؤں ،والد یا شناخت کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ان افراد کے لئے افغانستان جیسے پختون قبائلی علاقوں میں خود کو ظاہر نہ ہونے دینا انتہائی مشکل ہے حتیٰ کہ وہ نقصان سے بچنے کیلئے کہیں دور دراز منتقل نہ ہو جائیں۔اس صورتحال میں اس شخص کی کسی مخصوس علاقے سے معلومات کا حصول ممکن نہیں رہتا۔ بہرحال ابھی تک کوئی ایسی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے کہ ویکی لیکس کی وجہ سے کسی کی جان کو کوئی نقصان پہنچا ہو حالانکہ افغان طالبا ن کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا تھا کہ ہم ویب سائٹ پر مواد کا مطالعہ کر رہے ہیں تا کہ مخبروں کا پتہ لگایا جا سکے۔
ویکی لیکس اپنے جنگ مخالف انداز کی وجہ سے جانی جاتی ہے اور وہ خود کو لوگوں کی خفیہ ایجنسی کہتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی عوامی سروس ہے جوکہ ہر اس شخص کے تحفظ کیلئے پر عزم جوکہ لوگوں کی دلچسپی کی کسی بھی اطلاع کو دوسرے تک پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے۔ ویکی لیکس کی جانب سے افغان وار ڈائریزکے سامنے لانے کے بعد کئے جانے والے مزید انکشافات زیادہ توجہ نہیں حاصل نہیں کر سکے ،واضح رہے کہ ویکی لیکس کی جانب سے آنے والی دستاویزات نے امریکی حکومت اور فوج کو ہلا کر رکھ دیا اور جنگ کی حمایت کرنے والوں کو شدید شرمندگی اٹھانا پڑی۔ان مخصوص دستاویزات سے بآسانی وضاحت کر سکتے ہیں افغانستان میں ’اچھی ‘ سمجھی جانے والی عراق کی ’بری‘ جنگ سے اس کا موازنہ کیا جارہا تھا اب وہ بری اور اب بد تر ہو چکی ہے۔یہ جنگی ڈائریاں اگرچہ جنوری 2004سے دسمبر 2009 کے دوران کی امریکی فوجیوں ، خفیہ ایجنٹوں ،سفارتخانے کے عملے اور دیگر کی غیر مصدقہ رپورٹس پر مشتمل ہیں ان میں افغان طالبان اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مابین تعلقات کا ذکر ہے، طالبان کو ایران کی جانب سے ملنے والی مدد کا بھی ذکر ہے، افغان حکومتی عہدیداروں کی کرپشن اور فوجی آپریشنوں کے دوران امریکی فوج کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت چھپانے کی کوششوں کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کی گئی ہے۔
لوگ چاہتے ہیں افغان جنگ کے ابتدائی دور 7اکتوبر2001سے دسمبر 2003کے حوالے سے انکشافات سامنے آئیں کہ جب امریکہ نے القاعدہ کا خاتمہ کرنے کے لئے افغانستان پر چڑھائی کی تاکہ 9/11کا بدلہ لیا جاسکے اور اسامہ اور اس کے ساتھیوں کی مدد کرنے والی طالبان حکومت کو غیر مستحکم کر دیا جائے۔ان انکشافات سے امریکی فوج کی 2001 میں تورابورا میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے یا پکڑنے میں ناکامی کے حوالے سے معلومات ملے گی جب اس نے نا قابل بھروسہ طالبان مخالف افغان جنگجو سرداروں کی خدمات حاصل کیں اور پہاڑی علاقوں میں غیر مصدقہ اہداف کو نشانہ بنایا۔یہ حقیقی طور پر گزشتہ 9سال میں امریکہ کو ملنے والا واحد موقع تھا جب وہ اسامہ اور اس کے ساتھیوں کو صرف اس علاقے تک محدود کر سکتا تھا۔اس دور کے انکشافات سے امریکہ کی سول اور فوجی قیادت کی خامیوں کا پتہ چلے گا اور طالبان جنگجوؤں کے دوبارہ متحد ہونے اور ان کی جانب سے شروع ہونے والی مزاحمت کے اسباب کا پتہ چل سکے گا۔
مزید امید ہے کہ جنوری 2010کے بعد بھی انکشافات ہوں جب امریکی صدر بارک اوباما کی افغانستان کے حوالے سے نئی حکمت عملی پر عملدرآمد شروع ہوااور جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے صرف چند سوطالبان جنگجوؤں کیخلاف 25ہزار فوجیوں کی مدد سے صوبہ ہلمند کے علاقے مرجہ میں بڑے آپریشن کا آغاز کیا۔ان نئے انکشافات سے مرجہ آپریشن ناکامی کے حوالے سے امریکی نقطہ نظر سامنے آئے گا اور اس سے قندھار کے آپریشن پر پڑنے والے منفی تاثر کا بھی پتہ چلے گاجسے التوائ کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر نظر ثانی کی گئی تاکہ ایک اور شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے،ساتھ ہی افغان قبائلی عمائدین اور قانون سازوں کی مخالفت اور جنرل میک کرسٹل سے فوری فوجی کمان کو جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو منتقلی کے حوالے سے بھی پتہ چلے گا۔اس دور کے انکشاف سے ہمیں قندوز میں طالبان قیدیوں کے قتل عام کے بارے میں بھی پتہ چلے گاجنہیں کنٹینروں میں مزار شریف منتقلی کے دوران مارا گیا اور سب سے آخر میں عبدالرشید دوستم کے ہاتھوں مرنے والے طالبان جوکہ امریکی فوج کے ساتھ شراکت دار تھا۔امریکی جنگی جہازوں نے قلعہ جھنگی پر بمباری کی جہاں طالبان قیدی موجود تھے کیونکہ انہوں نے ایک امریکن اسپیشل فورس کا ایک فوجی مار دیا تھا۔یہ انکشافات ہمیں امریکہ کی جانب سے شمالی اتحادکے کمانڈروں، طالبان غداروں اور سابق مجاہدین کو ادا کئے جانے والے ڈالروں کے بارے میں بھی بتائیں گے جو انہیں طالبان کے خلاف لڑنے کے لئے آمادہ کرنے پر خرچ کئے گئے۔
امریکی حکومت اور فوجی حکام ویکی لیکس کے انکشافات کا بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں ان انکشافات سے افغانستان میں جاری فوجی مہم کو کسی قسم کا حقیقی نقصان نہیں پہنچا۔بہرحال یقینی طور پر یہ ایک سیکورٹی کی ایک خامی ہے کیونکہ کوئی حکومت یا فوج نہیں چاہے گی کہ اس کے راز اور حکمت عملی منظر عام پر آئیں۔ایک امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاربریڈلی میننگ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے افغان جنگ کے حوالے سے مخصوص دستاویزات ویکی لیکس کو فراہم کرنے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔اس کے مالک آسانج کو نقص امن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ویب سائٹ ویکی لیکس کیلئے آن لائن موجود رہنا مشکل ہو جائے۔
ویکی لیکس باقی ماندہ 15ہزارافغان ڈائریزکو منظر عام پر لاکر امریکی حکومتی حکام و اداروں کو مزید اشتعال دلا سکتا ہے ، مزید یہ کہ اگر وہ 2009 میں افغانستان کے جنوب مغربی گرانی گاؤں میں امریکی فوج نے مبینہ طور پر 100شہری مارنے کی ویڈیوجاری کردی جن میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی اور ساتھ ہی 2004کے2009عراق جنگ میں ایسے ہی 5لاکھ واقعات بھی۔
اعلیٰ امریکی فوجی ایڈمرل مائیک مولن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ آسانج نے اپنے ہاتھ خون سے رنگ لئے ہیں کیونکہ ان انکشافات سے امریکی فوجیوں اور ان کے افغان اتحادیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ویکی لیکس کے بانی نے ان الزامات کو ’فرضی خون ‘قرار دیا ہے اور کہا کہ امریکی فوجی اور سول قیادت کے ہاتھوں پر عراق اور افغانستان میں اصل خون لگا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان پر جنگی جرائم کے تحت مقدمات قائم کئے جا سکتے ہیں۔سپر پاور اور تنہا جنگجو کی یہ جنگ دلچسپ موڑاختیار کر رہی ہے کیونکہ آسانج کو جنگ مخالف قوتوں اور امریکی فوج میں موجود وہ عناصر جو یہ راز افشاءکررہے ہیں ان کی حمایت حاصل ہے۔یہ یقینی طور پر اندرونی کارروائی ہے کیونکہ صرف اندر کے بندوں کے علاوہ کسی کو بھی ان خفیہ دستاویزات تک رسائی نہیں ہے۔
فوج اور حکومتیں اپنے ملک اور قوم کے نام پر جنگوں کا آغاز کرتے ہیں لیکن اس جنگ پر آنے والے اخراجات اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے تمام معلومات ان کو فراہم نہیں کرتے۔حقائق کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور بیگناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر نہیں کیا جاتا اور بات سامنے آ بھی جائے تو اسے دشمن جنگجو قرار دے دیا جاتا ہے۔ امریکی ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ مک نامارا نے اپنی 1995کتاب، ”دی ٹریجڈی اینڈ لیسنز فرام ویتنام “میں تسلیم کیا کہ ہم غلط تھے بالکل غلط۔لیکن یہ کام بہت تاخیر سے کیااور ویتنام کو بالکل ناانصافی میں تباہ و برباد کردیا ، امریکہ نے جنگ مسلط کی اور اس کے ہزاروں فوجی مر گئے۔یہی افغان جنگ میں ہوالیکن اب امریکیوں کو برسوں گزر جانے سے قبل ہی تسلیم کر لینا چاہئے کہ غیر ضروری ہے اور نا قابل تسخیر ہے۔ ویکی لیکس کو چاہئے کہ وہ امریکہ کے اس فیصلے پر پہنچنے کی راہ ہموار کرے۔

0 comments:

Post a Comment