Friday, August 20, 2010

ON BEING KAFIR


گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایئربلیو کے طیارے کو حادثہ پیش آیا جس میں جہاز میں موجود تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے کی خبر کے ساتھ ہی غم کی ایک چادر تھی جو پورے ملک پر تن گئی۔جاں بحق ہونے والو ں میں یوتھ پارلیمنٹ کے چھ اراکین بھی شامل تھے جن میں ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائی پریم چندکے علاوہ اویس بن لئیق، بلال جامعی، حسن جاوید خان ، سید ارسلان احمد اور سیدہ رباب زہرہ نقوی شامل تھے۔ یوتھ پارلیمنٹ کے یہ اراکین اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تاہم ان کی موت نے پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو سوگوار کر دیا۔
آجکل بلاگستان اور میڈیا میں پریم چند کے حوالے سے کچھ باتیں گردش کر رہی ہے کہ لاشوں کی حوالگی کے لیے جو تابوت لواحقین کو دیے گئے ان میں پریم چند کے تابوت پر ’کافر‘ لکھا ہوا تھا۔ گو کہ اس کے بہت زیادہ شواہد موجود نہیں ہیں محض چند ایک لوگوں کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے کافرلکھا ہوا دیکھا تاہم مرحوم کے رشتہ داروں، عزیزوں حتی کہ اسلام آباد میں پمز ہسپتال میں ان کی لاش وصول کرنے والے رشتہ دار نانک رام تک نے ایسا کچھ تابوت پر لکھا ہوا نہیں دیکھا۔
لیکن اگر حقیقتا ایسا کوئی لفظ مرحوم کے تابوت پر لکھا بھی گیا ہے تو میرے خیال میں اصل مسئلہ یہاں پیدا ہوا ہوگا کہ مسلمان کا تابوت اٹھاتے ہمارے ہاں کلمہ شہادت کہنے کی رسم ہے اور ایک غیر مسلم کی میت اٹھنے پر کلمہ شہادت نہیں پڑھا جاتا۔ اس لیے لاشوں کو تابوتوں میں رکھنے والے عملے نے ’مناسب‘ سمجھا ہوگا کہ پریم چند کے تابوت پر ایسا کوئی نشان لگا لیا جائے تاکہ وضاحت ہو جائے کہ یہ غیر مسلم کا جنازہ ہے۔ مجھے اس طبی و امدادی عملے کی تعلیمی قابلیت کا کچھ اندازہ تو نہیں ہے لیکن امکان یہی ہے کہ وہ معمولی تعلیم کے حامل افراد ہوں گے جنہوں نے اپنی عقل کے مطابق اس پر کافرلکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس پر ’ہندو‘ یا ’غیر مسلم‘ لکھ دیتے تو شاید اتنا اعتراض نہ ہوتا لیکن ہمارے لبرل و سیکولر حلقوں نے ہمیشہ کی طرح موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو بہت زیادہ اچھالا، جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ جہاں مذہب کا معاملہ آئے فورا ہی اسے آڑے ہاتھوں لو، ان کے دلائل تھے کہ پریم چند کو کافر کیوں قرار دیا گیا ہے؟ اس خبر کی رپورٹ کرنے والی ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹر ماہا مصدق نے گو کہ اس تابوت کو خود نہیں دیکھا لیکن انہوں نے یوتھ پارلیمنٹ کے رکن احسان نوید، جو میڈیکل کے چوتھے سال کے طالب علم ہیں، کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے خود اس تابوت کو دیکھا جس پر کافر لکھا تھا جسے بعد میں انہوں نے خود مٹایا۔
درحقیقت عربی کی اصطلاح ’کافر ‘غیر مسلم ہی کا متبادل ہے اور اسے غیر مسلم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں کی چند شدت پسند جماعتوں نے اس لفظ کا اتنا بے دریغ استعمال کیا ہے کہ اب یہ لفظ ایک اصطلاح کے بجائے ایک گالی بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے پریم چند کے حوالے سے یہ خبر سامنے آتے ہی لبرل حلقوں میں گویا آگ لگ گئی اور انہوں نے جذبات میں وہی حرکتیں کرنا شروع کر دیں جو ہمارا نام نہاد ’مذہبی حلقہ‘ کرتا ہے۔ ایک طرف لبرل حلقوں نے اس حرکت کے مرتکب افراد پر اعتراض اٹھایا کہ وہ کسی کے مذہب پر انگلی اٹھانے والے یا کافر قرار دینے والے کون ہوتے ہیں اور پھر خود بھی یہی بعینہ حرکت کی کہ کافر لکھنے والے خود کتنے مسلمان ہیں؟ ان کی اپنی قبروں پر منافق لکھنا چاہئے، منافق بہتر ہوتا ہے یا کافر؟ وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے لبرل و سیکولر طبقے کو سمجھنا چاہئے (اگر ان میں سمجھ ہے تو) کہ جس طرح وہ فوری طور پر جذباتی ہو جاتے ہیں، یہ بالکل وہی انداز ہے جیسا کہ ہمارا مذہب سے محبت کا دعوی رکھنے والے طبقہ کرتا ہے کہ بجائے عقلی دلائل کے دوسرے کو قائل کرنے کے فوری طور پر چڑھ دوڑو، منہ سے جھاگ اڑاو ¿ اور جتنا اونچی آواز میں بول سکتے ہو بولو تاکہ دوسرے کی آواز دب جائے۔ لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جو بھی نکلتا ہے ان کے حق میں نہیں نکلتا۔ میں پہلے بھی اس موقف کا قائل رہا ہوں کہ مسلم ممالک میں انتہا پسندی پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہمارے لبرل طبقے کا اپنے موقف پر انتہا پسندانہ حد تک ڈٹے رہنا اور زمینی حقائق کو دیکھنے بغیر اپنے موقف کا جبرا نفاذ کرنا ہے۔ اس کی کئی عملی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر آپ اتنی شدت کے ساتھ اپنے موقف کی حمایت کر سکتے ہیں اور دوسرے کی معمولی غلطی کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ میں اور ایک انتہا پسند میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟ایک جانب جہاں پے در پے آفات و حادثات کے باعث ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں اسی دوران بد قسمت طیارے کو پیش آنے والا حادثہ ایک عظیم سانحہ تھا اور اس حادثے میں یوتھ پارلیمنٹ کے ان چھ اراکین کی موت نے پاکستان کو مستقبل کی ممکنہ قیادت نے محروم کر دیا ہے۔

0 comments:

Post a Comment