Friday, August 20, 2010

Media targeted over Zardari 'shoe attack' reports



زرداری: بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟

آصف علی زرداری فرانس اور برطانیہ کے دورہ کے بعد واپس پاکستان پہنچ گئے ہیں لیکن ابھی انہوںنے عوام کو درشن دینے شروع نہیں کئے۔ شاید سفر کی تھکاوٹ اور برمنگھم کے جلسے میں جوتا پھینکنے اور ’گوبیک‘ کے نعروں سے پیداہوئی پریشانی کے بعد ابھی انہیں کچھ دن آرام کی ضرورت ہوگی۔اپنے حالیہ لندن دورہ کے دوران انہوںنے ایک میڈیا کے ذریعے لئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ پاکستان میں اتنے زبردست سیلاب آنے ہیں تو وہ یہ دورہ نہ کرتے۔ برمنگھم میں انکے ملک کے باشندوں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے بعد زرداری شاید یہ کہہ رہے ہیں ہو ں گے کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ جلسے میں ان پر جوتے برسائے جائیں گے تو وہ انگلینڈ کا دورہ کرتے ہی نہیں۔

کیمرون کی ایسی کی تیسی نہیں ہوسکی
پاکستان میں باڑھ اور سیلاب سے آئی تباہی نے اس وقت تب اتنی بھیانک شکل اختیار نہیں کی تھی جتنی کہ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان نے وہاں شدید سیاسی طوفان پیدا کر دیا تھا کہ ” پاکستان دنیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے“ ۔اس بیان کے خلاف پاکستان میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جوشیلے مظاہرے کئے گئے۔ کیمرون کے پتلے جلائے گئے۔ زرداری کا دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی زوردار آوازیں اٹھنی شروع ہو گئی تھیں کہ پروٹسٹ کے طور پر وہ لندن کادورہ منسوخ کر دیں لیکن زرداری صاحب اپنی اس ضد پر آڑے رہے کہ وہ لندن ضرور جائیں گے اور وہاں جا کر ڈیوڈ کیمرون کی ایسی کی تیسی کر دیں گے۔ دونوں لیڈروں کی ملاقات کے دوران کیا کچھ ہوا اس کی تفصیل تو ناظرین پڑھ چکے ہیں ۔ ڈیوڈ کیمرون نے نہ بیان واپس لیا اور نہ اس میں کوئی تبدیلی کی اور نہ ہی کوئی معافی مانگی۔ زرداری کے حوالے سے بھلے ہی اخباروں میں یہ چھپوادیا گیا کہ انہوںنے ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ’ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ‘ بات کی لیکن پاکستان کے ایک سرکردہ اخبار نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملاقات کے دوران صدر زرداری نے دہشت گردی کے بارے میں لگائے گئے الزام کا کیمرون کے ساتھ ذکر تک بھی نہیں کیا ہوگا۔ ہر معاملے میں برطانیہ پر انحصار کرنے والا پاکستان کس طرح آنکھیں دکھا سکتا ہے؟ دہشت گردی کے نام پر برطانیہ سے ملنے والے کروڑوں اربوں بونڈ کا سوال تھا ۔مصنف ضرور ہی یہ جانتا ہوگا کہ
تیر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
جس دن زرداری صاحب برطانوی وزیر اعظم سے ان کی نجی رہائش گاہ پر ملے اس سے اگلے دن مشہور برطانوی اخبار’ گارڈین ‘ میں وہ کارٹون چھپا جو اس ملاقات کی منہ بولتی تصویر تھی۔ اس بارے میں مجھے کچھ اور کہنے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بدنامی کے سوا کچھ نہ ملا
لیکن زرداری کو کیا معلوم تھا کہ کارٹون کا تیکھا طنزیہ پہلویہ شکل اختیار کرکے برمنگھم کے جلسے میں ان کے سامنے آجائے گا۔ ان کے انگلینڈ دورہ کے خلاف پاکستان میں تو ناراضی تھی ہی باڑھ سے ہو رہی تباہی سے پاکستان کے عوام کراہ رہے تھے۔ ہر طرف سے مانگ ہو رہی تھی کہ زرداری اپنا دورہ منسوخ کر کے مصیبت میں پھنسے اپنے عوام کا دکھ درد بانٹنے کے لئے فوراًواپس وطن لوٹ آئیں۔ برطانیہ میں بھی پاکستانیوں کی طرف سے اس بات کو پسند نہیں کیا جا رہا تھا کہ اپنے ملک میں پیدا ہوئی ایمرجنسی کی حالت سے منہ موڑ کر وہ جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ اخبارات اور ٹی وی کے لئے فوٹو کھنچواکر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کا دورہ بڑا ہی کامیاب رہا ہے۔برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کا ایک بڑا بااثر طبقہ اس پر بڑا دکھی تھا۔برطانیہ پاکستان کے باہر پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا سرگرم گڑھ ہے۔ ملک کی دونوں سیاسی پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) یہاں سرگرم ہیں۔ دونوں پارٹیوں کے ورکر ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں پورے زور شور سے حصہ لیتے ہیں۔ خبر یں گرم تھیں کہ زرداری برمنگھم کے جلسے میں اپنے بیٹے بلاول کی تاجپوشی کر کے پارٹی صدر کے طور پر اسے پاکستان پیپلز پارٹی کی گدی پر بٹھانا چاہتے ہیں اور سیلاب کی تباہی اور زرداری کی بے رخی سے پاکستانی لوگ بھڑکے ہوئے تھے اور یہ بھی یقینی تھا کہ وہاں تاجپوشی کی یہ تقریب ہوتی تو اس ہال کے باہر لوگوں کا مظاہرہ بھی ہوتا۔ شاید حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے انہوںنے بلاول کی تاجپوشی کا فیصلہ ہی بدل دیا اور جلسے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اگر وہ ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے خلاف پروٹسٹ کرنے نہ آتے تو پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہونا تھا۔ اس کے علاوہ انہوںنے یہاں آکر پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے بھاری رقم اکٹھی کی ہے۔اگر وہ انگلینڈ نہ آتے تو یہ رقم اکٹھی نہیں ہوتی ۔ جلسے میں کھڑے ہو کر ابھی وہ دو منٹ بھی نہیں بول پائے تھے کہ غصے سے بھرے پاکستانی نوجوانوں نے کھڑے ہوکر ان کے خلاف ’ گوبیک ‘ ’گو بیک‘ کے نعرے لگانے شروع کر دئےے اور ایک ادھیڑ عمر کے آدمی نے ان پر جوتا پھینکا۔ زرداری بچ گئے۔ اس کے بعد اپنا خطاب بند کر کے ہال سے چلے گئے ۔ ہال کے باہر مظاہرین نے زرداری کے کارٹونو ںپر جوتے برسائے۔
پاکستان کے صرف سرکاری ٹی وی کو ہی جلسے کی کارروائی ریکارڈ کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن برطانوی اور پاکستانی میڈیا کے لوگ خاصی تعداد میں ہال کے اندر موجود تھے ۔ جوتاپھینکنے کے منظر پرائیویٹ ٹی وی چینلوں پر دیکھنے کو نہ مل سکے لیکن اس واقعہ کی خبر فوراً ساری دنیا میں پھیل گئی‘ خاص کر پاکستان میں۔ جیوٹی وی اور اے وائی آر وغیرہ پر۔ ٹی وی چینلوں اور جنگ گروپ آف پیپرز نے اسے خوب جم کر نشر کیا جس سے فکر مند ہو کر پاکستان سرکار نے ان دونوں چینلوں اور جنگ اخبار پر یہ خبر شائع کرنے پر پابندی لگا دی۔ اس پابندی کے خلاف ملک بھر میں زرداری کے خلاف زور دار مظاہرہ کئے گئے ۔دوسری طرف پاکستانی پیپلز پارٹی کے ورکروں نے ان چینلوں اور اخباروں کے خلاف جوتے دکھاکر مظاہرہ کیا۔ برطانیہ سے ایک پاکستانی صحافی نے جنگ میں لکھا ہے کہ اس لندن دورے سے زرداری نے بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا۔
زرداری صاحب واپس وطن تو پہنچ گئے ہیں لیکن ان کے پاس غیر ملکی دورہ بحران میں اپنے لوگوں سے منہ موڑنے کے خلاف ملک میں پھیلے غصے اور ناراضی کا سامنا وہ کر کس طرح کر سکیں گے ؟ جھجھک تو ہوگی ہی لیکن باہر تو نکلنا ہی پڑے گا۔ خاص کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور سیلاب زدگان کے سامنے تو آنا ہی پڑے گا۔ اب بھی ان کا دکھ بانٹنے نہیں جائیں گے تو زیادہ بدنامی ہوگی۔
لیڈروں پر جوتے پھنکنا تو اب سیاسی مظاہروں کا ایک اہم حصہ بن گیا لگتا ہے۔ صورت حال مشکل ہے لیکن وہ لیڈر ہی کیا جو اپنے خلاف لگ رہے نعروں مخالفوں کی طرف سے پھینکے گئے ٹماٹروں پتھروں اور جوتوں سے گھبر اجائے۔ آخر عراق کی پریس کانفرنس میں اپنے اوپر جوتا پھینکے جانے کے بعد امریکی صدر جارج بش نے بھی تو مسکرا کر فوراً فوٹو کھنچوانے لگ گئے تھے۔ شرم کیسی؟ ندامت کیسی؟
دو پیئیاوسر گئیاں
یاراں دیاں دور بلائیاں گئیاں

0 comments:

Post a Comment