Friday, August 27, 2010

Land Acquisition: Rights And Wrongs

http://urdutahzeeb.net/economics/articles/land-acquisition-rights-and-wrongs-2

ایس اے ساگر
Land Acquisition: Rights And Wrongsہندوستان میں زمین ایکوائر کرنے کی رکاوٹوں کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعتوں میں توسیع کی رفتار سست پڑگئی ہے۔یوں سمجھئے کہ جیسے جیسے ملک کی معیشت ترقی کر رہی ہے‘اسی اعتبارسے زرعی زمینوں کو صنعتی مقاصد کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے۔ زرعی زمینوں کو صنعتی استعمال میں لانے سے دیہی علاقوںمیں ناراضگی اور مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک میںنئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔شمالی ہند کی ریاست اتر پردیش میں پر تشدد مظاہروں کی وجہ کسانوں کے یہ مطالبات تھے کہ انہیں اس زمین کا زیادہ معاوضہ ادا کیا جائے جو نئی دہلی کو آگرے سے ملانے والی شاہراہ کی تعمیر کے لیے ان سے لے لی گئی ہے۔آگرہ سیاحت کا مرکز ہے۔ مغلیہ دور کی مشہور عمارت تاج محل اسی شہر میںواقع ہے۔ مظاہروں میں تین کاشتکار ہلاک ہو گئے۔ملک بھر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں یا صنعتوں کے لیے زرعی زمینِیں حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے خلاف ملک کے بہت سے حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ، کاروباری ادارے فیکٹریوں کی تعمیر کے لیے زمینیں تلاش کر رہے ہیں۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت پر قدیم زمانے کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے جدید بنانے اور زیادہ سڑکیں ، بجلی گھر اور ریلویز تعمیر کرنے کے لیے سخت دباو پڑ رہا ہے۔جتنی بھی زمینیں دستیا ب ہیں وہ آباد ہی نہیں ہیں بلکہ دیہی علاقوں کے زرخیز کھیتوں پر مشتمل ہیں۔ان زمینوں سے کسانوں اور قبائلی آبادیوں کو منتقل کرنا خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ بعض کاشتکاروں کو شکایت ہے کہ ان کی زمینوں کے لیے دیا جانے والا معاوضہ بہت کم ہے اور انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ و ہ اپنی گذر اوقات کے ذریعے سے محروم نہ ہو جائیں۔ ملک کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا دو تہائی حصہ زمین سے اپنی روزی حاصل کرتا ہے۔
نئی دہلی میں فورم فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ فوڈ سکیورٹی کے دیوندر شرما کہتے ہیں کہ جن کاشتکاروں کی زمینیں لی جاتی ہیں ان سے نئی صنعتوں میں روزگار کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن بیشتر کسانوں کو ان صنعتوں میں ملازمتیں نہیں ملتیں۔بیشتر کسان شہروں میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں ان کا مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نئی معیشت اس قسم کا روزگار فراہم نہیں کر سکتی جو بہت بڑی آبادی والے ملک میں کاشتکاری کے ذریعے مل جاتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی بھی صنعت یا صنعتوں کا گروپ اس قسم کے اور اتنی بڑی تعداد میں روزگار فراہم نہیں کر سکتا جن کی ملک کو ضرورت ہے۔ایک ایسے ملک میں جہاں کاشتکاروں کی تعداد 60 کروڑ ہے جس میں ان کے گھرانے بھی شامل ہیں ، میرے خیال میں کسی صنعت میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ آبادی کے دسویں حصے کو بھی روزگار فراہم کر سکے۔‘تا ہم کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور ہندوستان ایک صنعتی ملک بن سکتا ہے۔
زمین حاصل کرنے میں رکاوٹوں کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعتوں میں توسیع کی رفتار سست ہوگئی ہے۔ فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ماہر اقتصادیات انجان رائے کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے اور ایسے جوابات کا متقاضی ہے جن میں دونوں فریقوں کے مفاد کوپیش نظر رکھا گیا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک تجویز یہ ہے کہ بے دخل ہونے والی دیہی بستیوں کو نئی صنعتوں میں حصے دار بنا لیا جائے۔
یہ خیال عام ہے کہ ماؤ نواز باغی جنہیں ہندوستان کی داخلی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں زمین کے حصول سے متعلق مسائل کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ ملک میں ان اطلاعات کی وجہ سے کہ مقامی حکام اکثر کاروباری اداروں کے ساتھ ساز باز کر لیتے ہیں تا کہ گاؤں والوں سے ان کی مرضی کے بغیر زمینیں ہتھیائی جا سکیں، ملک میں ناراضگی اور غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔غذائی مسائل کے تجزیہ کاروں کو یہ تشویش بھی ہے کہ زمین کے بہت بڑے بڑے ٹکڑے جن پر کاشتکاری ہوتی ہے صنعتوں کو منتقل کرنے سے، ملک میں غذائی قلت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ہندوستان کی آبادی بہت زیادہ ہے اور وہاں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے لاکھوں غریب گھرانوں کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
وزیرِ مالیات پرنب مکرجی نے حال ہیں میں پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ صنعت کی مانگ اور ہندوستان کے دیہی علاقوں کے مطالبات کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہو گا۔’ہمیں اس بات کویقینی بنانا ہوگا کہ کاشتکاروں کو پریشانی نہ ہو اور ان کے مفادات پر برا اثر نہ پڑے کیوں کہ غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں انتہائی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔‘
ہندوستانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ کاشتکاروں کے مفادات کی حفاظت کے لیے ایک نیا قانون بنانا ضروری ہے جبکہ قانون کے دو مسودے پارلیمنٹ کے سامنے موجود ہیں۔ ان مجوزہ قوانین کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کاشتکاروں کو مارکیٹ کی قیمت کے لحاظ سے ان کی زمین کی قیمت ادا کی جائے۔ان مسودوں میں متاثر ہونے والے کاشتکاروں کی دوبارہ آباد کاری‘ ان کیلئے روزگار کے مواقع اور تربیت شامل ہے جبکہ ترقیاتی تجزیہ کار وں کی مانیں تو حکومت کے پاس ان پیچیدہ مسائل پر توجہ دینے کے لیے بہت کم وقت ہے جس سے بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ چھوٹے کاشتکاروں کے اس ملک کو جدید معیشت میں ڈھالنے کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر پورا کیا جا سکے۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment