Friday, August 20, 2010

Kashmir: Unending conflict, what is the way out ?

http://urdutahzeeb.net/current-affairs/articles/kashmir-unending-conflict-what-is-the-way-out-2

کیوں نہیں ختم ہوتاکشمیرمیں تشدد کا لامتناہی سلسلہ؟

اصغر علی انجینئر
کشمیر کا نقشہ Kashmir mapکشمیر میں جاری تنازع کا کوئی اختتام نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری سیکورٹی فورسز، خاص طور سے سی آر پی ایف مسائل کو حل کرنے کے بجائے الجھنوں میں مزید اضافہ ہی کررہی ہیں۔ بد قسمتی سے مسئلہ کشمیر کو آج بھی صرف قانون اور نظم ونسق کا مسئلہ سمجھاجارہا ہے۔ عام لوگوں کے جذبات ،ان کے خوابوں اور ان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ہماری سیکورٹی فورسز مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہیں۔ انہیں صرف لوگوں کو مارنا آتا ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو مسئلہ کو سلجھانا تو دور، ہم کشمیر کو ایک وسیع قبرستان میں تبدیل کردیں گے۔وہاں تقریباً روزانہ نوجوان مظاہرین کی موت ہوتی ہے، لیکن ہر روز ان کی جگہ نئے مظاہرین آجاتے ہیں۔ موت کا ڈر بھی ان نوجوانوں کو نہیں روک پارہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کشمیر کے لوگ ہندمخالف ہیں یا وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک کے ذریعہ کرائے گئے سروے سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ پاکستانی بننے کی خواہش صرف چار فیصد کشمیریوں کی ہے لیکن ان کے مسائل اور پریشانیاں ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی جگہ انہیں گولیاں مل رہی ہیں۔ابھی حال میں ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ اب سے مظاہرین پر جان لینے والی گولیوں کی بجائے پیپر گن استعمال کی جائے گی۔ ان بندوقوں سے نکلنے والی گولی جان لیوا نہیں ہوتی لیکن جسے وہ لگتی ہے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس پر اصلی گولی چلائی گئی ہو۔
کیا یہ فیصلہ لینے میں تاخیر نہیں ہوئی؟ کیا وجہ ہے کہ یہ فیصلہ، وادی میں15نوجوانوں کی موت اور حکومت کے خلاف غم وغصہ بھڑکنے کے بعد لیا گیا۔کشمیر میں اس غم وغصہ سے پیداشدہ تشدد نے سی ا?ر پی ایف کو بھی زبردست نقصان پہنچایاہے۔تقریباً270جوان گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی زخمی ہوئے ہیں اور پچھلے ایک سال میں زخمی جوانوں کی تعداد 1900سے بھی زیادہ ہے۔ کیا یہی فیصلہ پہلے نہیں لیا جا سکتا تھا جس سے نوجوانوں کی جانیں نہیں جاتیںاور جوان محفوظ رہتے ؟ کیا پیپر گن کی ایجاد کل جماعتی میٹنگ سے ٹھیک پہلے ہوئی تھی؟ کیا ہم مذکورہ تکنیک کا استعمال تبھی کریں گے جب ہمارے کچھ شہری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھولیںگے؟ اگر یہی فیصلہ پہلے لے لیا جاتا تو نہ صرف کئی لوگوں کی جانیں محفوظ رہتیں، بلکہ وادی میں بحران کی صورت حال بھی پیدا نہیں ہوتی۔ میں جون2010میں تشدد اور تنازع کے تصفیہ کے موضوع پر منعقد ورکشاپ کے سلسلے میں کشمیر میں تھا۔ وہاں میں نے سماج کے ہر طبقے کے ارکان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کشمیر مسئلہ کے حل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ان لوگوں میں دانشور اورسماجی کارکن تو شامل تھے ہی، بازاروں میں شاپنگ کرنے نکلے عام لوگ بھی شامل تھے۔ان سبھی کے جوابوں میں جو یکسانیت تھی وہ یہ تھی کہ عمر عبداللہ ایک ناکام وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں اور عام لوگ مفتی محمد سعید کے زبردست مداح ہیں۔
Detaild information : Click Here

0 comments:

Post a Comment