Sunday, August 08, 2010

Is there life in outer space ?

http://urdutahzeeb.net/science-a-technology/articles/is-there-life-in-outer-space

ارض سے باہرموجود ہے زندگی ؟
Is there life in outer space? مدتوں پہلے مرزا غالب نے تمنا کی تھی کہ :رہئے اب ایسی جگہ چل کرجہاں کوئی نہ ہو۔دراصل اس وسیع و عریض کائنات میں انسان اکیلا اور تنہا ہے اورلامحدود وسعتوں میں گردش کرتے ہوئے کھربوں سیاروں اور کروڑوں کہکشاؤں میںوہ کسی ایسی جگہ کی تلاش کا متمنی رہا ہے جہاں انسان کا کوئی ہمسر، اور اس جیسی ذہین مخلوق موجودنہ ہو۔سائنسی نقطہ نظر سے یہ وہ تلاش ہے جس تک پہنچنے کے لیے سائنس دان اور فلکیات کے ماہرین متعدد دہائیوں سے مسلسل کوششیں ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ ان منصوبوں پر اب تک کھربوںکی رقم خرچ کی جاچکی ہے۔فلکیات کے کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ کائنات کے مختلف سیاروں سے زمین پر برس ہا برس سے ایسے ریڈیائی سگنلوں کا ایس سلسلہ موصول ہورہا ہے کہ جس پر بےشمارمضامین لکھے جاچکے ہیں اورمتعدد فلمیں بن چکی ہیں۔ ان مبہم اشاروں کو جنہیں وہ اب تک نہ توسائنسداں سمجھ سکے ہیں اورنہ ہی یہ جانتے ہیں کہ وہ کہاں سے بھیجے جارہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سگنل کائنات کے اندر کسی مقام پر کسی خود کار عمل سے پیدا نہیں ہورہے ہیں بلکہ انہیں پیغامات کی شکل میں زمین پر بھیجا جارہاہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یقینی طور پرسگنلوں کوبھیجنے والی انسان جیسی ہی کوئی ذہین مخلوق ہے۔
دراصل کائنات اس قدر وسیع ہے کہ اس کی حدیں انسان کے علم اور اس کی سوچ کے دائرے سے کہیں پرے ہیں۔فلکیات کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ کائنات میں موجود اکثر سیارے ایسے ہیں جو ہماری زمین سے روشنی کے اربوں سال کے فاصلے پر واقع ہیںیعنی اگر انسان روشنی کی رفتارسے سفر کرے توبھی اسے وہاں پہنچنے کے لیے اربوں سال درکار ہیں جو فی الحال ممکن نہیں ہے۔اس سلسلے میںماہرین کا کہنا ہے جن سیاروں کی روشنی زمین تک پہنچ رہی ہے ان میں سے اکثر ایسے ہیںجنہیں ختم ہوئے لاکھوں کروڑوں سال کا عرصہ گذرچکاہے اس کے باوجود جب تک وہاں سے چلنے والی روشنی کی آخری کرن اپنا سفر پورا نہیں کرلیتی وہ ہمیںحسب سابق دکھائی دیتے رہیں گے بلکہ بعض سائنس دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ممکن طور پر وہ سگنل بھی کسی ایسے ہی کسی سیارے سے آرہے ہیں جو اب اپنا وجود نہیں رکھتے۔
یوںفلکیات کے ماہرین برسوں سے کائنات سے ملنے والے سگنلوںکے مقام کا تعین کرنے اور انہیں بہتر طورپر سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم اس سلسلے میں ہنوز کوئی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جسے انقلابی کہا جاسکے پھر بھی اکثر ماہرین فلکیات کو یقین ہے کہ کرہ ارض کے باہر کائنات میں زندگی کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس امکان میںزندگی کی شکل کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ممکن ہے کہ وہ حیات کرہ ارض پر پائے جانے والی زندگی سے بالکل مختلف ہویااس کی ہیت کچھ اور ہو نیز اسے جینے کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہی نہ ہو! ایسی بے شمار اٹکلیں ہیں جن پر آج بھی تجسس کا پردہ پڑا ہوا ہے۔چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد سے ان سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی توہوئی تھی جو پانی کو زندگی کا ایک بنیادی حصہ سمجھتے ہیں۔اگرچہ چاند کے خوبصورت اور خاموش ویرانے میں اترنے والے خلابازوں کواساطیری دنیا کی چرخا کاتنے والی بڑھیا کا تو کہیں سراغ نہیں ملا تھا تاہم کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پانی کی دریافت کے بعد وہاں زندگی کی کسی شکل کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس سلسلے میںسرخ سیارہ مریخ نہ صرف زمین کے قریب ترین ہمسایہ ہے بلکہ وہاں پانی کی موجودگی کا امکان، موسمی اور جغرافیائی حالات زندگی کے امکان کو تقویت بخشتے ہیں۔ کچھ عرصے سے مریخ کا ایک مخصوص چٹانی حصہ جسے ماہرین نے نائیلی فوسائی کا نام دیاہے یوں بھی ماہرین کی توجہ مرکز بنا ہوا ہے۔وہاں پائی جانے والی چٹانوں کی ساخت آسٹریلیا کے شمال مغربی علاقے کی ان چٹانوں سے مشابہت رکھتی ہے جہاں سے زمین پر ابتدائی زندگی کے شواہد دستیاب ہوئے تھے۔
گذشتہ دنوں مشہورجریدے ارتھ اینڈ پلینٹیری سائنس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ مریخ کے نائیلی فوسائی علاقے میں زندگی کے آثار اسی معدنی حالت میں ہیں جیسا کہ آسٹریلیا سے ملے تھے۔لہٰذاسائنس دانوں کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کی قدیم ترین چٹانوں میں پائی جانے والی معدنیات اور سبز نیلگوں کائی اور مٹی کی پرتوں کی مشترکہ خصوصیات کا زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ہے اور مریخ کے نائیلی فوسائی علاقے میں ایسی ہی چٹانوں کی نشان دہی ہوئی ہے جس سے یہ امکان بڑھا ہے کہ وہاں زندگی اپنی کسی ابتدائی شکل میں محفوظ ہوسکتی ہے۔سٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سائنس دان ایڈریان براؤن کی مانیں تو ان چٹانوں کی یہ مخصوص شکل زندگی کی موجودگی کے باعث ہے نہ کہ جغرافیائی تغیر و تبدل کی وجہ سے۔یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ مریخ کے نائیلی چٹانی علاقے کی دریافت 2008میں ہوئی تھی اور اس وقت سے ماہرین ان کا مسلسل مشاہدہ کررہے ہیں۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ مذکورہ چٹانیں کم ب بیش چار ارب سال پرانی ہیں اور ان میں کاربونیٹس موجود ہیں۔
گہرائی میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ کاربونیٹ وہ کیمیائی مرکب ہے جوپانی کے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کیلسیم، لوہے یا میگنیشم کے امتزاج سے وجود میں آتا ہے۔ یہ مرکب اب تک دریافت ہونے والی قدیم ترین حیات کی باقیات اور ان ہڈیوں میں بھی موجود ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کسی زمانے میں مریخ پر موجود تمام پانی تیزابی خصوصیات کا حامل تھا جو اپنے آپ میںزندگی کی موجودگی کا ایک ٹھوس ثبوت ہے۔ زندگی وہاں کس شکل میں تھی؟ یا ممکن ہے کہ اب بھی ہو، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہنوز کسی کو معلوم نہیں ہے لیکن اب شایدوہ وقت دور نہیں ہے کہ اس را ز سے نہ صرف پردہ اٹھے گا بلکہ زمانے کے ستائے ہوؤں کی برسوں پرانی تمنا پوری ہوگی کہ:رہئے اب ایسی جگہ چل کرجہاں کوئی نہ ہو!
Read In English


Bookmark and Share

0 comments:

Post a Comment