Wednesday, August 11, 2010

In Tunisia, a home for musical dialogue

http://urdutahzeeb.net/film-and-music/music/in-tunisia-2

مارٹینا صابرہ
Tunisiaبون، جرمنی: شمالی تیونس کے شہر سِیدی بو سعید میں موجود آرٹسٹوں کی بستی تیونس آنے والے غیر ملکی سیاحوں کا پسندیدہ مقام بن گئی ہے۔ تنگ، ٹیڑھی میڑھی گلیاں، اندلسی طرز کے سفید گھر، دیواروں کے اوپر سے جھانکتی ہوئی بوگن ویلیا کی آتشیں سرخ بیلیں، اور وہاں سے سمندر کا شاندار نظارہ، سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں۔ تاہم بہت کم سیاح اس بات سے واقف ہیں کہ سِیدی بو سعید بحِرروم کے سارے خطّے میں سب سے ولولہ انگیز ثقافتی منصوبوں کا گھر بھی ہے۔تیونس کی وزارتِ ثقافت نے یہاں النّجم الزّہرہ (صبح کا ستارہ) محل میں عرب اور بحرِ روم کے خطّے کی موسیقی کا مرکز (سی ایم اے ایم) قائم کیا ہے۔ یہ وسیع وعریض محل جس کی دوبارہ تزئین وآرائش کی گئی ہے، کبھی فرانسیسی مصوّر اور موسیقار بیرون روڈولف دے ارلانگر کی رہائش گاہ تھی جس کا 1932 میں انتقال ہوا تھا۔سی ایم اے ایم نے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں جن میں موسیقی کی تقاریب کا انعقاد، تیونسی موسیقی کو اکٹھا کرنا اور نیشنل ساؤنڈ آرکائیو یعنی آواز کا قومی ذخیرہ بھی شامل ہیں جس میں موسیقی پر تحقیق کرنے والوں کے لئے تیونس اور عرب موسیقی کے ریکارڈ کو محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ میوزک کنسرٹ منعقد کرنے کے مقام اور میوزیم دونوں طرح سے کام کرتے ہوئے دے ارلانگر کے ا?رٹ اور موسیقی کے ورثے کے تحفّظ کو بھی یقینی بناتا ہے۔
سی ایم اے ایم اس وقت یوروپ اور دنیائے عرب کے درمیان موسیقانہ اور ثقافتی تبادلوں میں سہولت فراہم کرنے والے اہم ترین اور متحرک اداروں میں سے ایک ادارہ بن چکا ہے۔ سی ایم اے ایم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور کمیونیکشن کے شعبے کے سربراہ منیر ہنتاتی بتانے ہیں کہ "ہماری ورکشاپس میں شرکت کرنے والے نوجوان مغربی موسیقاروں کا عرب موسیقی کے ساتھ پہلی بار تعارف آنکھیں کھول دینے والے تجربے کی مانند ہوتا ہے اور اِسی طرح تیونس والوں کو جاز یا مغربی کلاسیکی موسیقی سیکھنے کا موقع ہاتھ آتا ہے۔"اگر النّجم الزّہرہ محل تعمیر کرنے والے کو پتہ چلے کہ یہاں یہ سب کچھ ہورہا ہے تو اسے یقیناً بہت خوشی ہوگی۔ دے ارلانگر، جس نے 1910 سے لے کر اپنی موت تک سیدی بو سعید میں رہائش اختیار کی تھی، نے مشرق اور مغرب کے درمیان عظیم تر تفہیم پیدا کرنے میں بہت مدد کی تھی۔ 1932 میں قاہرہ میں پہلی عرب میوزک کانفرنس کی منصوبہ بندی میں بھی اس نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
دے ارلانگر کو تیونس منتقل ہونے کی سب سے زیادہ تحریک اندلسی عرب تہذیب کو دوبارہ زندہ کرنے کی خواہش سے مِلی تھی۔ النّجم الزّہرہ محل اس مقصد کے لئے بہترین جگہ ثابت ہوئی جہاں رہتے ہوئے اس مصوّر نے اندلسی روایت کی عظیم الشان عمارتوں کا مطالعہ کیا اور تیونس کے قدیم شہر میں ساری عمارتوں کی مفّصل تصویر کشی کی۔ پھر اس نے الاندلس کا خود اپنی طرز کا نمونہ تخلیق کیا: ایک عرب محل جس کی اندرونی آرائش عرب، اطالوی اور برطانوی طرز کی تھی جو مشرق اور مغرب کی ثقافتوں کا حسین امتزاج تھی۔
1989 میں تیونس کی حکومت نے یہ محل خرید لیا اور اِسے قومی یادگار قرار دے دیا۔ تیونس کے معروف آرٹسٹ جن میں مشہور ستار نواز انور ابراہیم اور تیونسی شاعر اور مصوّر علی لواتی بھی شامل ہیں، نے بھی اس مرکز کو نہ صرف ایک میوزیم بلکہ ایک کثیر الجہتی اور متحرک منصوبہ بنانے میں پوری مدد کی ہے۔نیشنل ساؤنڈ آرکائیو میں جن سب سے پرانے نمونوں کی نمائش کی گئی وہ گروہی موسیقی کے جرمن ماہر پاؤل ٹریجر نے اکٹھے کیے تھے جس نے 1903 میں تیونسی فوک گیتوں کی ریکارڈنگ کی تھی۔ ہنتاتی، جو موسیقی پر ریسرچ کے لئے مزید فنڈز اکٹھے کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، نے بتایا کہ انہیں یہ ذخیرہ برلن پروگرام آرکائیو کا دورہ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ انہوں نے بتایا "برلن کے دورے کے دوران مجھے پتہ چلا کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران جرمن ریسرچرز نے تیونسی جنگی قیدیوں کے گائے ہوئے گیت، دھنیں اور ردھم ریکارڈ کیے تھے۔"اس ریسرچ کے بعض نتائج کی بنیاد پر جرمن زبان میں کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ دوسری طرف تیونس میں بیشتر لوگ انٹریوز اور ان کے ساتھ اکٹھے کیے گئے مواد سے قطعی لاعلم ہیں۔
موسیقی کے بارے میں سی ایم اے ایم کا اندازِ فکر پچھلے برسوں کے دوران بہت بدل گیا ہے۔ ہنتاتی بتاتے ہیں "ابتدائی سالوں میں ہم نے ساری توجہ اپنی روایتی موسیقی کی پروڈکشن پر دی تھی۔" لیکن اب اس توجہ کا مرکز پبلک کنسرٹس اور ماسٹر سطح کی کلاسوں کے ذریعے بین الاقوامی تبادلوں کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ ہر سال بیلجیم اور تیونس کے علاوہ دیگر ممالک سے جاز موسیقار "رنگوں" کے عنوان سے منعقد ہونے والے پروگرام میں اکٹھے ہوتے ہیں۔فرانس کے تعاون سے منعقد ہونے والا ایک اور پروگرام "نوجوان فطری آرٹسٹ" کلاسیکی ساز بجانے والے نوجوانوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے سی ایم اے ایم میں اکٹھا کرتا ہے۔اس کے علاوہ پانچوں برّ ِاعظموں سے عالمی سطح کے موسیقار سی ایم اے ایم کی "میوزک" سیریز میں بھی شرکت کرتے ہیں جو صرف تیونس کی موسیقی کے لئے مخصوص ہے۔انور ابراہیم نے سی ایم اے ایم کی افتتاحی تقریب میں کہا "مجھے امید ہے کہ یہ مرکز نہ صرف عرب دنیا اور یورپ کے درمیان بلکہ ساری دنیا کے ساتھ باہمی تبادلوں کی حوصلہ افزائی میں مددگار ثابت ہوگا۔" ایسا لگتا ہے کہ کچھ خواب واقعی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں!

* مارٹینا صابرہ ایک فری لانس رایٹر ہیں۔ یہ مشترکہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) نے قنطرہ ڈاٹ ڈی ای کی اجازت سے تقسیم کیا ہے۔ مکمل متن www.qantara.de پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
Read In English


Bookmark and Share

0 comments:

Post a Comment