Wednesday, August 11, 2010

Extend Sleep on Weekends

http://urdutahzeeb.net/health/articles/extend-sleep-on-weekends-2

نیند کی معمولی زیادتی سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ
Extend Sleep on  Weekends!کیا آپ کو معلوم ہے کہ 24گھنٹوں میں سے اوسطاّ8گھنٹے کا وقت ایک عام آدمی سونے کی نذر کردیتا ہے۔گویاکہ60بر س کی زندگی نصیب ہوتو ہم اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ سوکر گذاردیتے ہیں۔یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے بلکہ دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے اور اگلی صبح تازہ دم ہوکراپنا کام کاج پھر سے شروع کرنے کے لیے رات کی پرسکون اور آرام دہ نیند اتنی ضروری ہے کہ اس کے بغیر جسم کو چاق وچوبند اور ہشاش بشاش رکھنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دماغ کو بھی تازہ دم ہونے کے لیے پرسکون اور آرام دہ نیند درکار ہوتی ہے۔تاہم اس سوال نے کہ نیند کا دورانیہ کتنا ہو‘ ماہرین کو اکثرتشویش میں مبتلا رکھا ہے۔ ماہرین کی مانیں تو نیند کی کمی اتنی جان لیوا ہے کہ اس سے کئی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن میں ہائی بلڈ پریشر، اور دل کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند کافی ہوتی ہے لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو 12 گھنٹے مسلسل سونے کے بعد بھی یہ کہتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ ان کی نیند ابھی پوری نہیں ہوئی اور وہ مزید کئی گھنٹے سوسکتے ہیں۔ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لیے چار پانچ گھنٹے کی نیند ہی کافی ہوتی ہے۔ اور جب وہ بستر سے اٹھتے ہیں تو ہشاش بشاش اور تروتازہ نظرآتے ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں کئی ایسے جرنیلوں کے نام ملتے ہیں جو گھوڑے کی پیٹھ پر محض چند لمحوں کے لیے آنکھیں موند کر اپنی نیند پوری کرلیتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچے سب سے زیادہ سوتے ہیں۔ اپنی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں ان کی نیند کا دورانیہ 18 سے 20 گھنٹے تک ہوتاہے۔ پھر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، نیند کا دورانیہ کم ہونے لگتا ہے جو بڑھاپے میں اکثر اوقات چار پانچ گھنٹے رہ جاتا ہے۔
ذہنی دباؤ، پریشانیاں، اور گردوپیش کا ماحول بھی نیند پر اثر اڈلتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض بیماریاں بھی نیند کو متاثر کرتی ہیں، اور سونے کے لیے خواب آور دواؤں کے استعمال کی نوبت آجاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے تک خواب آور دواؤں کااستعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پھر ان کے بغیر نیند نہیں آتی اوربعد ازاں خواب آور دوائیں بھی اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔جبکہ کچھ لوگ نہایت شور شرابے میں، حتیٰ کہ کارخانوںمیں مشینوں پر سر رکھ کرنیزسڑک پر رواں دواںبھیڑ اور ٹریفک کے شور کے باوجود فٹ پاتھ پہ سوجاتے ہیںلیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھیں پھولوں کی سیج پر بھی نیندآنا تو درکنار سکون بھی میسر نہیں ہوتا۔
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
سوجاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھاکے
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند ایک فطری عمل ہے جو جسم کی اندورنی گھڑی کے تحت انجام پاتا ہے۔ چنانچہ روزانہ ایک خاص وقت گذرنے کے بعد ہمارا اندورنی کلاک دماغ کو ایک سگنل بھیجتا ہے اور ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ سونے کا وقت ہورہا ہے اور ہمیں نیند آنے لگتی ہے۔ یہ کلاک زمین کی گردش اور اس کے مقناطیسی نظام کے مطابق کام کرتا ہے۔ چنانچہ جب ہم کسی طیارے پر طویل سفر کرکے کسی ایسے علاقے میں چلے جاتے ہیں جہاں کے وقت میں نمایاں فرق ہوتا ہے تو ہمیں بہت دنوں تک پرانے وقت کے مطابق نیند آتی رہتی ہے کیونکہ ہمارے قدرتی کلاک کو نئے نظام الاوقات میں خود کو ڈھالنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔کچھ لوگوں کی نیند ایسی ہوشربا ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی نیند اڑا دیتی ہے۔ ایسے لوگ جب سوتے ہیں تو اتنے بلند خراٹے لیتے ہیں کہ قریب میںکسی اورشخص کے لیے سونا تو کیا جاگنا بھی ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خراٹوں پر قابو پانا ممکن ہے اور اس کا علاج موجود ہے۔
بہر کیف کچھ لوگ بعض اوقات کام کو نیند پر ترجیح دیتے ہیں۔ بعض طالب علم امتحان کی تیاری یا کسی اسائنمنٹ کی تشفی بخش تکمیل کے لیے محض رات رات بھر جاگتے ہی نہیں بلکہ نیند بھگانے کے لیے معاون دوائیںتک استعمال کرنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیںکرتے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی قیمت پر کیے جانے والے کام اکثر اوقات معیاری نہیں ہوتے۔ اور اکثر وبیشتر ان پر معمول سے کہیں زیادہ وقت اور محنت صرف کرنی پڑتی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ جس طرح جسم کو چاق وچوبند اور ہشاش بشاش رکھنے کے لیے نیند کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح دماغ کو بھی تازہ دم ہونے کے لیے پرسکون اور آرام دہ نیند درکار ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق جو لوگ چھٹی کا دن خوب لمبی تان کر سوتے ہیں ، اس سے اگلے دن دفتر میں ان کی کارکردگی عام دنوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔ کیونکہ ہفتے میں ایک دن معمول سے زیادہ نیند دماغ مزید کو توانائی دیتی ہے۔
یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے کرونو بیالوجی ڈپارٹمنٹUniversity of Pennsylvania School of Medicine in America کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ ڈنگز Dr. David Dingesکہتے ہیں صبح کے وقت ایک سے دو گھنٹے کی اضافی نیند دماغی صلاحتوں کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ڈاکٹر ڈنگز نے نیند کے دماغی صلاحتیوں پر اثرات کے مطالعے کے لیے 159 صحت مند بالغ افراد پر تجربات کیے جن کی اوسط عمریں 30 سال تھیں۔مطالعاتی جائزے کے دوران 142 رضاکاروں کو ہفتے کی دو راتوں میں ہررات دس گھنٹے سونے کے بعد باقی پانچ راتیں انہیں صبح چار بجے سے آٹھ بجے تک چار گھنٹے روزانہ نیند کے لیے ملے جبکہ 17 رضاکاروں کو سونے کے لیے 10 گھنٹے دیے گئے۔ اس کے بعد سب رضاکاروں کو کمپیوٹر پر 30 منٹ دورانیہ کا ایک ٹیسٹ دینے کے لیے کہا گیا۔ پتہ چلا کہ جو لوگ جتنا کم سوئے تھے، ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی اتنی ہی خراب تھی جبکہ سب سے اچھا رزلٹ ان رضاکاروں کا تھا جنہیں سونے کے لیے10 گھنٹے دیے گئے تھے۔
Read In English


Bookmark and Share

0 comments:

Post a Comment