Friday, August 20, 2010

Despite setbacks, Iraq will survive

http://urdutahzeeb.net/current-affairs-south-asia/iraq/despite-setbacks-iraq-will-survive-2

عراق کا سیاسی بحران

صفا اے حسین
U.S. Army soldiers from 2nd Brigade, 10th Mountain Division board a C-17 aircraft at Baghdad International Airport as they begin their journey to the United States, July 13بغداد: جولائی کے مہینے میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ (122 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ گرمی اور بجلی کی شدید قلّت کے باوجود بغداد میں لوگوں کی روزمرّہ گفتگو کا موضوع حکومت کی تشکیل اور اِس سے متعلق معاملات ہیں۔2010 کے عراقی انتخابات کے متنازعہ نتائج اور حکومت کی تشکیل کے عمل میں سست روی، جِسے بعض لوگ سیاسی بحران قرار دیتے ہیں، جیسے موضوع سات مارچ کو انتخابات کے انعقاد کے بعد سے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں پر غالب ہیں۔
پارلیمنٹ کے لئے اجلاس بلا کر اپنے رہنماؤں کا انتخاب کرنے کی ائینی مدّت 14 جولائی تک تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سیاسی دھڑوں نے اجلاس کو دو ہفتے کے لئے ملتوی کردیا اور انہیں توقع تھی کہ اس دوران ان کے درمیان اس سیاسی پیکج پر اتفاق رائے ہو جائے گا کہ صدر، وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ کا سپیکر کون بنے گا۔رہنماؤں کو منتخب کرنے میں ناکام ہو کر انہوں نے عراق کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے لیکن دوسری طرف کِسی پیشگی سمجھوتے کے بغیر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوںکہ کوئی بھی سیاسی جماعت مذکورہ عہدوں پر تقرری کے لئے درکار سادہ اکثریت 163 نشستیں حاصل نہیں کر سکی۔
بہت سے لوگ اس تاخیر کا ذمہ دار سیاسی جماعتوں کو ٹھہراتے ہیں اور ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کو قومی مفاد پر فوقیت دے رہے ہیں۔ کم وبیش ساری جماعتیں ہی ایک دوسرے پر خطّے میں موجود دیگر ممالک کے مؤقف اور مفادات کی حمایت کرنے کا الزام لگا رہی ہیں اور حکومت تشکیل دینے کے لئے مذاکرات کی ناکامی کا قصور وار بھی دوسروں کو ٹھہرا رہی ہیں۔ اگرچہ ان الزامات میں بھی کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے لیکن ان سے بھی زیادہ پیچیدہ اور زیادہ سنگین عوامل موجود ہیں جو اس تاخیر کا موجب بنے ہیں۔ عراق ایک سبک رفتار اور گہری سماجی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ اس وقت وہاں سیاسی اکائیوں کے مابین اختیارات کی دوبارہ تقسیم کے معاملے پر مقابلہ جاری ہے جس میں وہ گروہ شریک ہیں جو 2003 میں عراق پر حملے سے پہلے برسرِ اقتدار تھے اور جو 2003 کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔ ان کے علاوہ 2003 کے بعد کے دور کی متنوع جماعتیں بھی اس کش مکش کا حصّہ ہیں۔
ایک گروہ کو اقتدار چھِن جانے کا خطرہ ہے اور دوسرے کو اقتدار کے غلط استعمال کا خدشہ اور اس کے علاوہ مرکزی حکومت، کردستان کے علاقے اور صوبوں میں اختیارات اور دولت کی تقسیم، کردوں کے ساتھ متنازعہ علاقوں پر مؤقف اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس کھینچا تانی میں اکثر فرقہ ورانہ اور گروہی اختلافات کا رنگ بھی نظر آجاتا ہے جسے عراق میں جبر کی سیاسی تاریخ کی بنا پر کی جانے والی خوف کی سیاست مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے اور کسی سمجھوتے پر پہنچنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ابھی تمام سیاسی جماعتیں اپنے جھگڑے نمٹانے کے لئے تشدد کی راہ اختیار کرنے کی بجائے آئین اور عدالتوں کا سہارا لے رہی ہیں۔ اگر ان تمام پیچیدگیوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ یہ صورت حال فوراً ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ نئی حکومت شاید اگلے دو مہینے میں تشکیل پا جائے لیکن اسے فعال ہونے میں مزید تین سے چار ماہ لگ جائیں گے۔ وزراءکا تعلق مختلف جماعتوں سے ہوگا، ان کا اندازِ فکر اور مفادات بھی مختلف ہوں گے اور ان میں بعض لوگ ناتجربہ کار بھی ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت کے سامنے کام کرنے کے لئے بہت سخت ایجنڈا ہوگا جس میں سرِ فہرست سیکورٹی کے مسائل اور عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا معاملہ ہے۔
عراقی اور امریکی دونوں ہی اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ امریکی افواج دونوں ممالک کے درمیان حفاظتی معاہدے میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق واپس چلی جائیں گی۔ رواں ماہ کے آخر تک لڑاکا فوج کا انخلا مکمل ہو جائے گا اور پیچھے تقریباً پچاس ہزار غیر لڑاکا مِشن رہ جائیں گے جو 2011 تک وہیں رہیں گے۔درحقیقت امریکی لڑاکا افواج کی واپسی کئی مہینوں سے جاری ہے۔ یہ امر خود مختاری سے متعلق عراقی تحفظات کو دور کرتا ہے، عراقی حکومت کی حقانیت کو بڑھاتا اور عراق کے لئے عسکریت پسند گروہوں کی مدد کرنے والے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشغولیت کا صحیح ماحول تخلیق کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ عسکریت پسند گروہوں کو عراق پر بیرونی افواج کے قبضے کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم کرتا ہے اور اس طرح انہیں عوام سے الگ تھلگ کرتا اور عراقی حکومت کو شورش کا قلع قمع کرنے کی کوششوں میں اہم برتری دلاتا ہے۔
علاوہ ازیں عراقی سیکورٹی فورسز کی استعدادِ کار میں حقیقی نوعیت کی بہتری ا?ئی ہے۔ ان کی روزانہ کارروائیاں لڑائی میں ان کی بڑھتی ہوئی کامیابی کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ سب کچھ 2009 کے بجٹ کے بحران اور حالیہ سیاسی جمود کے باجود ہے۔ اس وقت عراق میں کوئی نئی شورش پھوٹنے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ ایک طرف عراقی افواج باغیوں سے نمٹنے کے لئے بہت طاقتور ہو چکی ہیں اور دوسری طرف عراقی عوام اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اب باغیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔لیکن عراق کو بہرحال، بالخصوص ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے، مسلسل امداد کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنی مسلح افواج کو اس حد تک ترقّی دے سکے کہ وہ ملک کو درپیش داخلی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل ہو جائیں۔ اس کے علاوہ عراق کو شہری معاونت کی بھی ضرورت ہے۔ سٹریٹجک فریم ورک ایگریمنٹ کو جو تعلیم، توانائی اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو یقینی بناتا ہے، عراق امریکہ شراکتِ کار کو مضبوط بنانے کا خاکہ سمجھا جا سکتا ہے جس میں مغرب کے عراق اور باقی سارے خطّے کے ساتھ تعلقات کو ٹھوس بنیادوں پر تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
کئی دہائیوں کی ظالم اور جابر آمریت اور کئی سال پر محیط تباہ کن تنازعہ کے بعد یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عراق موجودہ سیاسی بحران سے بھی نِکل جائے گا اور سیاسی عمل انتہائی سست ہونے کے باوجود یہ امکان موجود ہے کہ عراق خطّے میں ایک مستحکم، خوشحال اور قائدانہ کردار کے حامل ملک کے طور پر ابھرے گا۔

* صفا اے حسین عراقی گورننگ کونسل کے سابقہ ڈپٹی ممبر ہیں۔ وہ عراقی ائر فورس میں بریگیڈئر جنرل کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور آج کل عراقی نیشنل سیکورٹی کونسل میں کام کر رہے ہیں۔ ماخذ: بِٹر لیمنز انٹرنیشنل ڈاٹ او آر جی، 4 اگست 2010
Read In English


Bookmark and Share

0 comments:

Post a Comment