Sunday, August 08, 2010

Demographics point to bleak future

http://urdutahzeeb.net/science-a-technology/environment/demographics-point-to-bleak-future


عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں اضافہ‘کام کاجی افراد کی کمی اورغریبی -امیری میں بڑھتا ہوا فاصلہ
Demographics point to bleak futureواشنگٹن میں قائم ریسرچ گروپ پاپولیشن ریفرنس بیورو Population Reference Bureauنے ہوشربا پیشگوئیاں کی ہیںجس کے مطابق گزشتہ صدی کے دوران عالمی سطح پر آبادی کے اضافہ میں کمی کے باوجود صحت کی دیکھ بھال کے بہتر انتظامات کی مرہون منت دنیا کی آبادی میں آج سالانہ آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ کرچکی ہے۔ تا ہم اس ہفتے جاری ہونے والی 2010 کی ورلڈ پاپولیشن ڈیٹا شیٹ کے مطابق دنیا کے خوشحال ملکوں میں کام کرنے کی عمر اتنی تیزی سے زوال پذیر ہے کہ ایک دن انھیں اپنی معمر آبادی کی دیکھ بھال مشکل ثابت ہو جائے گا بلکہ دنیا کے غریب ملکوں میںآبادی میں اضافہ کی وجہ سے غربت اور ماحولیات کے مسائل اور مزید شدت اختیار کر لیں گے۔یوںتفصیل میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ2010میں دنیا کی آبادی چھ اعشاریہ نو ارب ہو گئی۔ آبادی میں تقریباً سارا اضافہ ترقی پذیر ملکوں میں ہوا۔واشنگٹن میں قائم ریسرچ گروپ پاپولیشن ریفرنس بیورو ہر سال ڈیٹا شیٹ تیار کرتا ہے۔ اس گروپ کے صدر ولیم بِل بٹزWilliam P. Butz کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ملکوں کے لیے آبادی میں اضافے کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اس سے آنے والے نسلوں کے لیے بھی مزید مسائل پیدا ہورہے ہیں۔رواں سال کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال آٹھ کروڑ افراد کا اضافہ ہوتا ہے اور اس میں سے دو کروڑ افراد کی آبادی غریب ترین ترقی پذیر ملکوں میں بڑھتی ہے۔ 2050 تک صرف افریقہ کی آبادی میں ایک ارب کا اضافہ ہو چکا ہوگا۔
آبادی کے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں شرح پیدائش بالآخر کم ہو جائے گی۔ صنعتی ممالک میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ تا ہم 2010 کی ڈیٹا شیٹ کے مطابق 2050تک آبادی میں سب سے زیادہ یعنی تقریباً ایک اعشاریہ تین ارب افراد کا اضافہ محض ایشیا میں ہوگا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کم عمر افراد پر مشتمل آبادی کے لیے صحت ، تعلیم اور اقتصادی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعلقہ حکومتوں پر بوجھ بہت بڑھ جائے گا۔ اس کے برخلاف ترقی یافتہ دنیا میں مسئلے کی نوعیت بالکل مختلف ہو گی۔ ان ملکوں میں کافی عرصے سے شرح پیدائش اتنی کم ہو گئی ہے کہ کام کرنے کی عمر کے لوگوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ یوں ان ملکوں میں عمر رسیدہ افراد کو زندگی کی سہولتیں فراہم کروانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
پاپولیشن ریفرنس بیورو کے کارل ہبCarl Haub ایتھیوپیا اور جرمنی کی مثال کے ذریعے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہیںکہ ان دونوں ملکوں کی آبادی یکساں ہے‘ اس کے علاوہ ان میں کوئی اور چیز مشترک نہیں۔2050 تک توقع ہے کہ ایتھیویا کی آبادی دگنی یعنی موجودہ آٹھ کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 17 کروڑ 40 لاکھ ہو جائے گی۔ اسی مدت میں جرمنی کی آبادی آٹھ کروڑ 20 لاکھ کی موجودہ آبادی سے کم ہو کر سات کروڑ 20 لاکھ رہ جائے گی۔کارل ہب کی مانیں تو ایتھیوپیا میں بچوں کی سالانہ شرح پیدائش 33 لاکھ ہے جبکہ جرمنی میں ہر سال چھ لاکھ 50 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اب ذرا بچوں کی شرح اموات پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایتھیوپیا میں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار بچوں میں سے 77 ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ جرمنی میں یہ شرح تین اعشاریہ پانچ ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ جرمنی میں شرح پیدائش بہت کم ہونے کی وجہ سے، جرمنی میں کام کرنے والے بالغ افراد کی تعداد کم ہو گئی ہے۔’جرمنی میں پہلے ہی یہ حالت ہو گئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جانے والے ہر فرد کے لیے صرف تین کام کرنے والی عمر کے لوگ ہیں۔ انہیں فوری طور پر پینشن اور علاج معالجے کے نظام میں بحران کا سامنا ہے اور وہ اس مسئلے سے بخوبی واقف ہیں۔‘
اس رپورٹ میںیہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں یوروپ پہلا بر اعظم ہے جسے طویل عرصے سے شرح پیدائش میں کمی کا سامنا ہے۔آج کل یوورپ میں 65 برس کی عمر کے ایک فرد کے لیے 4 کام کرنے والی عمر کے افراد ہیں۔2050 تک یہ تناسب کم ہو کر محض دو اور ایک کا رہ جائے گا۔ انٹرنیشنل پروگرامز فار دی پاپولیشن ریفرنس بیورو کے جیمز گربل کہتے ہیں کہ جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے جن سے بوڑھے لوگوں کی ریٹائرمنٹ اور صحت کی دیکھ بھال متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کی تعداد کافی ہو تا کہ وہ بڑے ہو کر ’لیبر فورس‘ یعنی کام کرنے والے عملے میں شامل ہوتے رہیں۔
توقع ہے کہ امریکہ میں 2050 تک 65 برس اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد 4 کروڑ سے بڑھ کر8 کروڑ90 لاکھ یعنی دگنی ہو جائے گی نیز امریکہ کی کل آبادی جو آج کل 31 کروڑ ہے‘بڑھ کر42 کروڑ ہو جائے گی۔ آبادی میں اضافے کا انحصار امریکہ آکر بسنے والوں کی تعداد پر ہو گا۔پاپولیشن ریفرنس بیورو کی لِنڈا جیکبسن کا ماننا ہے کہ ترک وطن کر کے امریکہ آنے والے لوگ بوڑھے لوگوں اور کام کرنے کی عمر کے لوگوں کے درمیان تناسب کو بہتر بنا سکتے ہیں اور سوشل سکیورٹی کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مسئلے کا حتمی حل ہے لیکن اس سے یہ ضرور ہوا ہے کہ امریکہ میں آبادی کی صورت ِ حال ویسی نہیں ہے جیسی جاپان میں اور مغربی یورپ کے بعض ملکوں میں نظر آتی ہے۔2010کا ورلڈ پاپولیشن ڈیٹا شیٹ دنیا کے 200 سے زیادہ ملکوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔ پالولیشن ریفرنس بیورو کے صدر بل بٹز کو امید ہے کہ ان کی رپورٹ سے پالیسی سازوں کو آبادی میں اضافے سے عالمی صحت ، معیشت اور ماحول کے لیے پیدا ہونےو الے مسائل کی واضح تصویر دستیاب ہو گی۔

Read In English


Bookmark and Share

0 comments:

Post a Comment