Friday, August 20, 2010

A Christian response to the Islamic community centre near Ground Zero


تعمیری سوچ:گراؤنڈ زیرو کے قریب مسلم کمیونٹی مرکز پر ایک عیسائی کا ردّعمل

جولی کلاسن
A Christian response to the Islamic community centre near Ground Zeroآسٹن، ٹیکساس: گزشتہ ہفتے نیویارک سِٹی کے میئر مائک بلوم برگ نے مقامی مذہبی گروہوں کے نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ واضح کیا تھا کہ "نیویارک شہر میں کوئی محلّہ ایسا نہیں ہے جہاں خدا کی محبّت اور رحم کا داخلہ منع ہو۔" گراؤنڈ زیرو کے نزدیک مسلم کمیونٹی پارک 51، جسے پہلے قرطبہ ہاؤس کا نام دیا گیا تھا، کی تعمیر کی حمایت کرنے والے عیسائی کی حیثیت سے مجھے بلوم برگ کے الفاظ میں خود اپنے گہرے دِلی جذبات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
بہت سے امریکی عیسائی ایسے ہیں جنہوں نے اس مرکز کے خلاف باتیں کی ہیں اور اسے نامناسب اور جارحانہ سرگرمی قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ گراؤنڈ زیرو سے اِس کی قربت مسلمانوں کو گیارہ ستمبر کے حملوں کا تمسخر بنانے کا موقع دے گی۔ اس مرکز کی حمایت میں بات کرنے پر بہت سے عیسائیوں نے مجھ پر شیطان کے کام کی حمایت کرنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ میں نہ صرف اپنے مذہب بلکہ ہر اس اصول سے روگردانی کر رہی ہوں جس کے لئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ جدوجہد کرتا ہے۔میں یہ تسلیم کرنے والا پہلا فرد ہوں گی کہ دیگر تمام مذاہب کے پیروکاروں کی طرح عیسائی بھی بعض اوقات پیار ومحبت اور رحم دلی کے اس راستے پر چلنے میں ناکام رہتے ہیں جو مسیح نے ہمیں دکھایا تھا۔ ہم اپنے ہمسائے سے محبّت کرنے کا حکم ماننے کی بجائے اپنے سیاسی جھکاؤ یا ثقافتی خوف کے تحت عمل کرتے ہیں۔یہ یاد رکھنا بہت مشکل ہو سکتا ہے کہ ہم جِس خدا کی عبادت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ہم سے بہت بڑا ہے۔ خدا کی محبّت پر ہماری کوئی اجارہ داری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جگہ ایسی ہے جہاں ہمیں اِس محبت کو پھیلانے اور مفاہمت اور شفا کے لئے کام نہیں کرنا چاہئے لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں سے شروع ہو کر ابھی تک جاری سراسیمگی اور بدگمانی کی اس فضا میں میرا اکثر خوف اور انتقام کے رویّوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض عیسائی یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے افعال اسلام کے اصل مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ اپنے ڈر اور نفرت کا ہدف مسلمانوں کو بناتے ہیں، انہیں دہشت گردوں کی کارروائیوں کا ذمہ دار گردانتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کی آزادیوں اور عیسائیت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جب عیسائی کہلانے والے لوگ کوئی بھیانک حرکت کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دلیل دینے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں کہ ان عیسائیوں کے افعال سارے عیسائیوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ مذہب کی نمائندگی کرنا تو دور کی بات ہے وہ تو اصل میں عیسائی ہی نہیں ہیں۔ حال ہی میں جب مِشی گن میں حطاری ملیشیا کے ارکان کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قتل کی منصوبہ بندی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا تب بھی یہی رویّہ دیکھنے میں آیا تھالیکن ایسی رعایت ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو نہیں دیتے۔
کاش میں اتنی غلط فہمیوں پر مبنی عقائد رکھنے والوں کی طرف سے، ان عیسائیوں کی طرف سے جو یسوع مسیح کے راستے پر چلنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور جو اس کی بجائے مسلمانوں کو اپنے ملک میں آزادی سے عبادت کرنے کا حق دینے کی مخالفت کر رہے ہیں، معافی مانگ سکتی۔ لیکن میں ان کی طرف سے کوئی بات نہیں کر رہی۔ میں تو صرف اپنی زندگی جی سکتی ہوں اور اپنی آواز کو عیسائیت کے ایک مختلف پہلو کی نمائندگی کرنے کے لئے استعمال کر سکتی ہوں، وہ پہلو جو حقیقی معنوں میں اس پر یقین رکھتا ہے کہ خدا کی محبّت اور رحم ہر طرف پھیلتا ہے۔میں بھی بلوم برگ کی طرح یہ امید رکھ سکتی ہوں کہ کمیونٹی مرکز کی تعمیر سے اس کا مفاہمت کے لئے کام کرنے کا مقصد پورا ہوگا اور یہ اس غلط اور گھناؤنے تصوّر کو دور کرنے میں مدد دے گا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا کِسی بھی طور اسلام کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔جب متنوع عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں جیسا کہ پچھلے ہفتے نیویارک میں اس کمیونٹی مرکز کی حمایت میں اکٹھے ہوئے تھے، تو ہم اس طرح کے جھوٹے تصوّرات کو توڑنے کا آغاز کر سکتے ہیں اور سچ کی خاطر اجتماعی طور پر اٹھ کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے میں ان خاندانوں کی شکرگزار ہوں جو گیارہ ستمبر کو اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے تھے اور انہوں نے مسلمانوں کی طرف سے اور پارک 51 کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔ ان میں "ایک پر امن کَل کے لئے گیارہ سمتبر کے خاندان" نامی تنظیم بھی شامل ہے جو مکالمے، عدمِ تشدد اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے اور اس تنظیم نے خاص طور پر اِس مرکز کے قیام کی حمایت کی ہے۔ شدید صدمے کے کرب سے آشنا ہونے کی بنا پر وہ مسلمانوں کو اس تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں جو سب کی مذمت کا ہدف بننے اور کمیونٹی سے کَٹ جانے سے ہوتی ہے۔ آزادی کو درپیش چند خود ساختہ خطرات سے ڈرنے کی بجائے وہ یہ قیمتی آزادی خوش دِلی سے سب تک پھیلا رہے ہیں۔یہی وہ عیسائی محبت ہے جو اس وقت پوری طرح حرکت میں ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض عیسائیوں نے اس کمیونٹی مرکز یا گیارہ سمتبر کے بعد سارے مسلمانوں کے ساتھ اجتماعی طور پر اچھّا برتاؤ نہیں کیا۔ اگرچہ مجھے اس پر افسوس ہے لیکن میں اس حقیقت کو چھپانا نہیں چاہتی۔ ہم میں سے بعض لوگ ہمارے عقیدے کے بنیادی اصول سے، جِس کی جڑ محبّت اور آزادی میں ہے، انحراف کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ ہم بلوم برگ کے اِن الفاظ پر دِل سے عمل کریں: "مسلمان بالکل اسی طرح ہمارے شہر اور ہمارے ملک کا حصّہ ہیں جس طرح کسی بھی دوسرے عقیدے کے لوگ ہیں۔ اور کِسی بھی دوسرے گروہ کی طرح مسلمان بھی لوئر مین ہیٹن میں کھل کر عبادت کر سکتے ہیں۔" ہمیں اپنے اجتماعی ردّعمل کو ایک ایسے رویّے میں بدلنا چاہئے جو سب کے لئے مذہبی آزادی کی بنیادی اقدار کی عکاسی کرتا ہو۔

*جولی کلاسن "روزمرّہ انصاف: ہمارے روزانہ انتخاب کا عالمی اثر" کی م ±صنفہ ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔

0 comments:

Post a Comment