Wednesday, August 25, 2010

Career In Mass Communication



جب بھی پروفیشنل کورسوں کی بات کی جاتی ہے تو ایک عام ذہن انجینیر اور ڈاکٹر سے آگے کچھ نہیں جانتا۔ گویا روزی روٹی کیلئے یہی دوذرائع دنیا میں ہیں جبکہ ایسے متعدد شعبے ہیں جہاں اچھی صلاحیتوں کی اشد ضرورت ہے جیسے ماس کمیونی کیشن کا شعبہ۔ماس کمیونی کیشن کورس کی افادیت سمجھے بغیر اس کا حصول مشکل ہوگا۔دراصل ماس کمیونی کیشن موجودہ دور کا سب سے پرکشش اور پسندیدہ ترین پروفیشن ہے۔شعبے میں دولت اور شہر ت دونوں ہی شامل ہیں۔نئی نسل میں یہ پروفیشن آہستہ آہستہ مقبول ہوتا جارہا ہے۔ نوجوانوں کی کثیر تعداداب اس کی جانب راغب ہورہی ہے اور ماس کمیونی کیشن کو بطور پیشہ اختیار کررہی ہے۔ یہ کوئی نیا پیشہ نہیں ہے جس کا تعارف کروانے کی ضرورت ہوتاہم گذشتہ کئی دہائیوں پہلے میڈیا وجود میں آچکا تھاجبکہ صدیوں قبل سے کبوتروں کے ذریعے اطلاعات ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی رہی ہیں۔بعد کے زمانے میںجب سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور ریڈیو اور ٹیلی ویژ ن معرض وجود میں نہیں آئے تھے تو اس وقت اخبارات کے ذریعہ خبریں عوام تک پہنچائی جاتی تھیں ‘جس کو آج ماس میڈیا کا ایک محض ایک جزو تسلیم کیا گیا ہے اور اس کا نام پرنٹ میڈیا تجویز ہوا ہے۔میڈیا کی یہ تقسیم ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے آجانے کے بعد کی گئی ۔ اس طرح اخبارات کو پرنٹ میڈیا کا نام دیا گیا جبکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو الیکٹرانک میڈیا کے نام سے پکارا گیا۔جام جمشید کی طرح ٹیلی ویژن کے وجود میں آجانے کے بعد میڈیا کے شعبے میں زبردست انقلاب آگیا۔ ماس کمیونی کیشن کے ساتھ بہت سے شعبے وابستہ ہوتے چلے گئے جیسے جرنلزم‘ فلم میکنگ‘ ایڈورٹائز منٹ وغیرہ۔ان کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا توہوئے اور یہ چیلنج سے بھر پور پروفیشن بن گیا۔اس میدان میں آنے کے لئے بے خوف وخطر بات چیت کرنے کی مہارت ‘سخت محنت اور کئی زبانوں پر عبور کے ساتھ ساتھ معلومات عامہ کا ہوناضروری ہے۔اس شعبہ کا اصل مقصدعوام کی بات کو عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔ماس کمیونی کیشن وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہا اور اخبارات سے ریڈیو اور ریڈیوسے ٹیلی ویژن اور فلم تک کا سفر طے کیا۔آج ماس کمیونی کیشن میں ان لوگوں کے لئے بے شمار مواقع ہیں جونوجوان اس شعبہ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیںانھیں ماس کمیونی کیشن کورس کے بارے میں بنیادی جانکاری حاصل کرنی ضروری ہے۔
کورس کی تفصیل میں جائیں تو یہ سمجھنا اہم ہے کہ ماس کمیونی کیشن کے کورس مختلف سطحوں پر دستیاب ہیں۔ڈپلومہ ‘پی جی ڈپلومہ ‘ انڈر گریجویٹ ‘ پوسٹ گریجویٹ یہاں تک کہ ڈاکٹریٹ کی سطح کے پروگرام بھی موجود ہیں۔طلباء ان پروگراموں میں سے کسی کا بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔جہاں تک داخلے کے لئے اہلیت کا سوال ہے تو یہ اس بات پر موقوف ہے کہ ا کس کورس کا انتخاب کیا جارہا ہے کیونکہ ہر کورس میں داخلے کی اہلیت کے معیار مختلف ہیں۔
کیریئر کے نقطہ نظر سے دیکھیں تواس شعبے میں کیریئر بہت ہی تابناک ہے کیونکہ یہاں کیریئر سازی کے بے شمار مواقع ہیں۔ ماس کمیونی کیشن ایک وسیع وعریض میدان کی طرح ڈیولپ ہورہا ہے لہٰذا مختلف شعبوں جیسے پبلک ریلیشن‘ اخبارات‘ریڈیو ‘ٹیلی ویڑن‘ پبلیشنگ ہاؤس ‘ ایڈور ٹائزنگ ایجنسیاں‘سرکاری ادارے وغیرہ میں نفع بخش روزگار کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔
جہاں تک اہلیت کا تعلق ہے اگرطلباءماس کمیونی کیشن کے ڈپلومہ یا انڈر گریجویٹ کورس میں داخلے کے خواہشمند ہیں تو انھیں کسی بھی سبجیکٹ میں انٹر میڈیٹ پاس کرنا لازمی ہے۔پی جی ڈپلومہ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری کورسز میں داخلے کے لئے کسی بھی سبجیکٹ میں گریجویٹ ہونابھی لازمی ہے۔جہاں تک ڈاکٹریٹ کی سطح کے پروگرام کا تعلق ہے تو اس کے لئے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرس ڈگری ضروری ہے۔
ان کورسوں کی تکمیل کیلئے اگراداروں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ چونکہ ماس کمیونی کیشن میں کیریئر کا مستقبل تابناک ہے نیز اس میں پیسہ بھی ہے اور دولت بھی لہٰذااسے معزز پیشہ تصور کیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے ماس کمیونی کیشن کے اعلیٰ کالجوں میں داخلہ لینا بہت ہی مشکل کام ہے۔ماس کمیو نی کیشن کے چند مشہور ومعروف اور اعلیٰ ادارے مندرجہ ذیل ہیں:
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن(آئی آئی ایم سی)نئی دہلی‘ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم اینڈ نیو میڈیابنگلور‘منورام اسکول آف کمیونی کیشن کوٹائم‘ ٹائمز اسکول آف جرنلزم نئی دہلی ‘ ایکزویئر انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشن ممبئی‘ ایشین کالج آف جرنلزم چنئی ‘ فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیاپونے‘ سمبائسس انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن پونے‘ مدراانسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشن‘ احمد آباد‘اے جے قدوائی ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر‘جامعہ ‘نئی دہلی۔
ان کورسوں کی فیس اس طرح سے ہے:
بیچلر ڈگری  تقریبا1لاکھ 50ہزار روپئے سالانہ
ماسٹر ڈگری  تقریبا1لاکھ 50ہزار روپئے سالانہ
پی جی ڈپلومہ  تقریبا1لاکھ 50ہزار روپئے سالانہ
ڈپلومہ  تقریبا 50ہزار روپئے
ایک خاص بات یہ کہ مذکورہ بالاحقائق اور اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں۔ متعلقہ اداروں میں جاکر تازہ صورتحال سے آگاہ ہوا جاسکتا ہے۔


0 comments:

Post a Comment