Friday, August 06, 2010

Bhajpa in the Doldrums

کچھ ہفتے پہلے میں نے اس کالم میں ’بی جے پی کی خودداری ‘ عنوان سے لکھا تھا کہ کہ آر ایس ایس کے پرمکھ موہن بھاگوت نے مہاراشٹر سرکار میں کامیابی سے وزراتی عہدہ سنبھال چکے نتن گڈگری سے بی جے پی کا صدر بنتے وقت خاص طور سے کہا تھا کہ دہلی میں بیٹھے بوڑھے لیڈروں جیسے کہ ایل کے ایڈوانی اور دوسرے لوگوں کو بدل کر نوجوان لوگوں کو شامل کر پارٹی میں نئی جان پھونکنی ہوگی۔ گڈگری ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ایڈوانی کی حیثیت آج بھی محوری ہے ۔ دہلی میں بیٹھا مبینہ دھڑاویساہی برقرار ہے ۔نئے خون کے دوران کی کوئی نشانی نہیںہے۔ ان کا حال ہی میں پارلیمنٹ پر حملے کے لئے پھانسی کی سزا پانے والے افضل گورو کو پھانسی میں ہورہی تاخیر کے لئے یہ کہنا کہ وہ کانگریس پارٹی کا داماد ہے کڑواہٹ بھرا تھا اورجس کے لئے اسے مذمت بھی سہنی پڑی۔ آخرکار بی جے پی کے پنرجنم کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ گیس کے غبارے کی طرح پھس ہوکررہ گئی۔

حالانکہ میں طبقات پر مبنی پارٹیوں مثلاّ بی جے پی مسلم لیگ اور اکالیوں کا قطعی حامی نہیں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ایک صحت مند جمہوریت میں دائیں بازو اور سماج وادی دونوں کی ہی صحیح ڈھنگ سے کام کرنے کے لئے ضرورت ہوتی ہے ۔کیونکہ بی جے پی اپوزیشن کی سب سے بڑی اور واحد پارٹی ہے اسے اپنی ایک شیڈو کیبنٹ بنالینی چاہئے جس سے عوام کے بیچ مقبولیت ظاہر ہو۔ پچھلے چناؤ میں ایل کے ایڈوانی نے اپنے آپ کو وزیر اعظم کے روپ میں واضح طور پر پیش کیاتھا۔ بی جے پی میں انتظامیہ تجربہ رکھنے والے بہت سے قابل خواتین اور مرد موجودہیں مثلاّ جسونت سنگھ، یشونت سنہا، ارون جیٹلی، ارون شوری ، وسندھراراجے، مینکا گاندھی، روی شنکر پرساد، دھومل اور بھی بہت سے ہو سکتے ہیں۔اسے ایسے مسلمانوں کو تلاش کرنے میں مشکل ہوگی جن کا اپنے سماج میں اثرہے۔ ان کے پاس سکھ نوجوت سدھو ہیں۔ اگر وہ اگلا چناؤ جیت پاتے ہیںتو انہیں کسی بھی ایسے شخص کو شامل نہیں کرنا چاہئے جس کا بابری مسجد کی مسماری میں ہاتھ ہو۔ شیڈو کیبنٹ بنانے کے علاوہ اسے سرکار کی کمیوں کی ادھیڑبن میں لگنے کی بجائے ایسی شارت کٹ پالیسیوں کے بارے میں بتانا چاہئے جو وہ اقتدار میں آنے کے بعد سامنے لائے گی۔ میرے دل میں ایک بات سب سے اوپر ہے جس کے بارے میں موجودہ سرکار نے بہت کم دھیان دیا ہے اور وہ ہے آبادی کی برق رفتاری پر لگام کسنا۔ ہم یقینی طور پر اتنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کھلانے کے لئے مناسب پیدا وار نہیں کر سکتے اور بربادی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔سخت قدم اٹھانے ہی ہوںگے۔ دو بچوں سے زیادہ والے جوڑوں کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ پنچایت ریاستی اور پارلیمنٹری چناؤ میں ووٹ ڈالنے اور گورنر کے عہدہ تک کی سرکاری نوکریوں میں ان کے لئے پابندی لگانی ہوگی۔ اگر یہ سرکار فیصلہ کرے کہ میں مفید صلاحکار ہوں تو مجھے ایک صلاحکار کے طور پر کام کرنے میں خوشی ہوگی۔

آل راؤنڈر
راجیہ سبھا کے ممبر کے طور پر میرے چھ برس سکھ تاریخ کے سب سے کالے دور کے ساتھ ساتھ گزرے ہیں۔ بھنڈرانوالے آپریشن بلیوسٹار‘وزیر اعظم اندراگاندھی کے قتل اور بے گناہ سکھوں کا قتل عام۔ اکالی لیڈر جیلوں میں تھے حالانکہ مجھے کانگریس نے نامزد کیا تھا۔ میں نے عام سکھ فرقہ کے جذبات کو اجاگر کیا۔ میں بھنڈرانوالہ کا سخت نکتہ چین تھا اور مجھے اکالی سیاست سے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ میں نے اپنے من کی بات کہی اور راجیہ سبھا میں لفظی حملے کا شکار بن گیا۔ میرے سرکردہ مخالف وشوجیت سنگھ تھے جو کہ کپور تھلہ راجیہ کے بانی سردار جساسنگھ آہلووالیہ نسب کے تھے اور دوسرے تھے پرتھوی جیت سنگھ۔ ہاؤس میں ہم دونوں کی تکرار ہوتی رہتی تھی لیکن باہر ہمارے اچھے تعلقات تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے تھے۔ وشوجیت سنگھ کو ممبر پارلیمنٹ کے طورپر دوسرا موقع ملاتھا۔ مجھے کوئی خریدار نہیںملا ۔ہماری ملاقات کم ہوتی گئی۔ میں نے انہیں بہت سال تک نہیں دیکھا۔ اچانک ایک شام کو وہ میری شراب نوشی کے وقت آگئے۔ وہ اپنے ساتھ ایک کتاب ’کچھ شبد کچھ لیکر‘ (یاترابکس) لے کر آئے۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ ہندی جانتے ہیں۔ انہوں نے بتایا۔ ’میرا جنم جالندھرمیں ہوا تھالیکن سیتا پور میں اپنی نانی کے یہاںمیں نے پرورش پائی۔ میںنے کہا کہ بھئی میں ہندی نہیں پڑھ سکتا۔انہوں نے مجھے ایک ڈسک تھمادی۔ میںنے پھر کہا کہ اسے چلانے کے لئے میرے پاس گیجٹ نہیںہے۔ کوئی بات نہیں میں کچھ ایک کویتائیں پڑھ دیتا ہوں ۔ انہوںنے ’ نانی ‘ عنوان کی کویتاپڑھی ۔ اس سے مجھے اپنی دادی کے بارے میں لکھی کہانی یاد آگئی جو بہت ہی زیادہ چھپی تھی۔ جس کا عنوان تھا ’ پورٹریٹ آف لیڈی‘ میں ان کی کویتاؤں سے بہت متاثر ہوا۔ اس مجموعہ کی رونمائی کب ہوئی؟ میں نے پوچھا ۔
پچھلے اپریل کو دون اسکول کے ہیڈماسٹر کے ہاتھوں۔ پہلا ایڈیشن بک گیا ہے اور دوسرا ایڈیشن پریس میں ہے۔
میں اب سمجھا کہ وہ ایک پکے براؤن صاحب کی طرح کیوں بولتے تھے۔ ”اور اب کیا “ میں نے پوچھا۔

” میں پنجاب کے مورخ شاہ محمد کے اشعار کا ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کررہا ہوں۔ پیش ہے:

میرا پہلا سلام اس کو جو قدرت کا کھیل بناتا ہے
ہر لوک کانقش نگار کر کے رنگ رنگ کے باغ لگواتا ہے
وہ پچھلے صفحے مٹادیتا ہے آگے اورپہ اور بچھاتا ہے
شاہ محمد سے سداڈراکر و بادشاہ سے بھیک منگواتا ہے

صحیح علاج
مریض: ڈاکٹر کیا آپ کو یقین ہے کہ مجھے ملیریا ہے میرا ایک مزدور ملیریا کا علاج کرارہا تھالیکن وہ ٹائیفائیڈ سے مرا۔
ڈاکٹر :اس کا ڈاکٹر اتنا قابل تجربہ کار نہیں تھا جتنا میںہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر میں ملیریاکا علاج کروںگا تو آپ ملیریا سے ہی مریں گے کسی اور دوسری بیماری سے نہیں۔ (ایم جی کپاہی نے دہلی سے بھیجا ہے)

0 comments:

Post a Comment