Thursday, July 08, 2010

Putting minority rights in context

ممبئی مسلم اکثریت والے ممالک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی اقدامات کا رجحان مسلسل جاری ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں غیر مسلم اپنی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کر سکتے اور نہ ہی سعودی کسٹمز والوں کے ہتھّے چڑھے بغیر اپنی مذہبی تحریریں ملک میں لا سکتے ہیں۔ مسلم اکثریت والے بعض دیگر ممالک میں عیسائیوں اور ہندووں کے ساتھ امتیازی برتاوکرنے اور انہیں حملوں کا نشانہ بنانے کی خبریں آتی ہیں۔یہ رجحان ان حقوق سے میل نہیں کھاتا جو غیر مسلموں کو ایسے ممالک میں حاصل ہونے چاہئیں جہاں کی آبادی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور ہی سے دو اسلامی تصوّرات "ذِمّیت" اور "جزیہ" کے تحت مسلمانوں کو اپنے درمیان موجود اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنے کا پابند بنا دیا
گیا تھا اور ان دونوں تصوّرات پر ماضی قریب تک عمل ہوتا رہا ہے۔
تاریخی حوالے سے "ذِمّی" کی اصطلاح سے مراد کوئی ایسا فرد یا گروہ ہے جس کی حفاظت اور ضروریات کی ذمہ داری مسلمانوں نے اٹھا لی ہو۔ مثال کے طور پر یہودی، عیسائی، آتش پرست اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو ذِمّی سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ مسلمانوں پر ایک اسلامی خیراتی ٹیکس (زکوٰة) دینا فرض تھا جس سے ذِمّی مستثنٰی تھے اس لئے غیر مسلموں پر فوجی خدمات سرانجام دینے سے استثنٰی اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری کے عوض "جزیہ" ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ تاہم اب کسی بھی ملک میں یہ معمول رائج نہیں ہے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ذِمّیت اور جزیہ کے تصوّرات اپنی کیفیت کے اعتبار سے مخصوص سیاق وسباق میں پیش کیے گئے تھے۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ غلامی کے تصوّر کی طرح یہ دونوں تصوّرات بھی جدید تناظرمیں موزوں نہیں بیٹھتے۔ اگرچہ قرآن نے غلاموں کو آزاد کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اس عمل کو اخلاق کے بہت بلند درجے پر رکھا ہے لیکن اس میں غلامی کو یکسر ختم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس کے باوجود موجودہ زمانے میں کوئی بھی مسلمان اس رواج کی حمایت نہیں کرے گا۔
ذِمّیت، جو ایک ایسی حیثیت ہے جس کا قرآن میں کہیں ذِکر تک موجود نہیں ہے، اور جزیہ کے تصورات جِس دور میں رائج تھے اس وقت یہ خاصے ترقی پسندانہ تھے لیکن یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آج کی دنیا میں یہ قابلِ عمل نہیں ہیں۔
مزید برآں اس دور میں جمہوری ریاست اور شہریت کا ایسا کوئی تصوّر نہیں تھا جیسا آج ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگرچہ قرآن نے معاشرے کی ابتدائی تشکیل کے جو اصول پیش کیے ہیں ان کی بنیاد اسی طرح کے نظریات ہیں لیکن اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ان کی اساس مذہبی اصولوں پر ہے، چاہے وہ یہودی ہوں، عیسائی یا اسلامی۔ جمہوریت اور شہریت کے جدید معیارات کا اطلاق کرکے ان تصوّرات کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ان کا اپنا ایک مخصوص زمانہ اور جگہ تھی۔
آج کی دنیا میں ذِمّیت اور جِزیہ کی جگہ سب کے لئے مساوی شہریت اور یکساں ٹیکس کا اصول لاگو ہونا چاہیے۔ شہری کا تصوّر پہلے ہی "محکوم" کے تصوّر کی جگہ لے چکا ہے۔ اِسی طرح بین الاقوامی قوانین کِسی بھی مذہبی اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ تمام ممالک انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں جو اس طرح کے رجحانات کو ناقابلِ قبول قرار دیتا ہے۔
خدا ہمیشہ ہی سے یہ چاہتا تھا کہ کثیر الثقافتی معاشرہ امن کے ساتھ قائم رہے کیونکہ قرآن میں کہا گیا ہے، "۔۔۔۔۔۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی کمیونٹی بنا دیتا۔ لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ آزمائے تم کو ان احکام کے بارے میں جو اس نے تم کو دیے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ " (5:48 )۔ مزید برآں ضمیر کی آزادی ( "دین میں کوئی جبر نہیں ہے" 2:256 ) اور انصاف دو ایسے اہم اصول ہیں جو دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے متعلق ہر مسلمان کے افعال کی بنیاد ہونے اور مسلم اکثریت والے ممالک کی پالیسیوں میں بھی ملحوظِ خاطر رکھے جانے چاہئیں۔

چنانچہ جن مسلم ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے وہاں سیاسی اور قانونی امور میں مشورہ دینے والے علما کو یہ اصول مدّ نظر رکھنے چاہئیں اور اکثریت اور اقلیت دونوں کے ساتھ مساوی اور منصفانہ برتاو کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ اسلامی قانون کا جو عالم بھی مذہب کی بنیاد پر امتیازی قوانین یا ٹیکس نافذ کرنے کے حق میں دلائل دیتا ہے اسے ہمارے گرد وپیش میں ہونے والی تبدیلیوں کا جواب جدّت آمیز طریقے سے دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔
آج کی دنیا میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا وجود نہیں رہنا چاہیے اور اِس امر کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں فروغ دینا ہوگا۔ مذہبی اکثریتوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اقلیتوں کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہورہی اور دوسری طرف اقلیتوں کو بھی اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی لانے اور انصاف کا بول بالا کرنے کے لئے اکثریت کے ساتھ مشغولیت کی راہ اپنانی چاہئے۔

*اصغر علی انجنیئر ہندوستان کے ایک اسلامی اسکالر ہیں جو بین المذہبی تفہیم اور امن کے لئے کام کرتے ہیں۔ انہیں 2004 میں سویڈن میں رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ کامن گراونڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا یہ مضمون اسلامی قانون اور غیر م ±سلم اقلیتوں پر سیریز کا حصّہ ہے۔

Read In English


0 comments:

Post a Comment