Tuesday, June 08, 2010

مراکشی دانشور کا بین الاقوامی ورثہ

"استدلال ایک روشنی ہے تاریکی کو دور کرنے کے لئے تو یقیناً جس کی ضرورت ہے، لیکن یہ پورے دن کی روشنی میں بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔"

محمد عبدالجابری (27 دسمبر 1935 – 3 مئی 2010 )
بون، جرمنی: محمد عبدالجابری جو 27 دسمبر 1935 کو فِگ یواِگ، مراکش میں پیدا ہوئے اور 3 مئی 2010 کو دنیا سے رخصت ہوگئے، بلاشبہ دنیائے عرب کے سب سے قابلِ قدر سماجی نظریہ سازوں میں سے ایک تھے۔ مراکش کی آزادی کے بعد 14 ویں صدی میں گزرنے والے شمالی افریقہ کے فلسفی اور جدید سوشیالوجی کے بانی ابنِ خلدون پر لکھے گئے ان کے مقالے پر 1970 میں رباط کی شاہ محمد پنجم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی پہلی ڈگری عطا کی۔ یہ ان کے تیس سے زائد کاموں میں پہلا کارنامہ تھا۔

الجابری اعلیٰ پائے کے فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کی سوشل پالیسی کے حامی بھی تھے۔ وہ تعلیم سے ہمیشہ وابستہ رہے؛ پہلے ایک استاد کے طور پر، پھر سکول انسپکٹر کی حیثیت سے، نصابی کتب کے مصنف، یونیورسٹی کے پروفیسر اور پھر ایک رہنما اور مشیر کے طور پر۔

آزاد رو مسلم تحریکوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے الجابری نے 18 ویں صدی کے جرمن فلسفی عمانوئیل کانٹ کی روایت اپنائی جو اپنے قارئین پر زور دیتا تھا کہ وہ دنیا کی اپنے مشاہدات کی بنیاد پر خود وضاحت کرنے کے حق پر اصرار کریں اور پہلے سے موجود، روایتی یا فرسودہ پیشواؤں کی پیروی نہ کریں۔

ان کی شخصیت کی بہترین تعریف یہ ہے کہ وہ ایک "عوامی دانشور" تھے۔ 1990 میں انہوں نے مصر کے فلسفی اور قاہرہ یونیورسٹی کے پروفیسرحسن حنفی کے ساتھ ایک طرح کی دلیل اور ردّ دلیل کے طور پر شمال افریقی "مشرق مغرب مکالمہ" شائع کیا۔ ان کا سب سے اہم کام "عرب ذہن کا ناقدانہ جائزہ " 1984 اور 2001 کے دوران بیروت اور کاسابلانکا میں چار جِلدوں میں شائع ہوا تھا اور تند وتیز بحث کا موجب بنا۔ اس مقالے میں انہوں نے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تھی کہ "حقائق کو مقدّس ٹھہرائے بغیر عرب اسلامی تحریروں کو کیسے پڑھا اور دوبارہ پڑھا جائے۔"

الجابری کے مطابق سیاسی نظریات کی تاریخ میں دو اہم عناصر مسلسل عرب دنیا پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور اس کے مستقل جمود کے ذمہ دار ہیں: اوّل، ناقدانہ فِکر کی بجائے نقاّلی آگہی کی سب اہم صورت بن گئی ہے، اور ، دوم، آمریت کے ذمہ دار صرف حکمران نہیں ہیں بلکہ ان کے ارد گرد موجود مصاحب انہیں مشورے دیتے ہیں اور کامیابی یا ناکامی کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ان اثرات سے نمٹنے کے لئے الجابری مسلم سوچ میں عقلیت پسند، دانشورانہ روایت کو مضبوط کرنا چاہتے تھے اور اِس کے لئے انہوں نے چوتھی صدی قبل از مسیح کے یونانی فلسفی ارسطو اور 12 ویں صدی عیسوی کے مسلمان فلسفی اور ماہرِ الٰہیات ابنِ رشد کی تحریروں سے رہنمائی حاصل کی۔

عرب دنیا کے بہت سے معاصر دانشوروں کی طرح الجابری کو بھی جرمنی میں بہت کم لوگ جانتے تھے تاوقتیکہ فلسفی اور پبلشر ریجنالڈ گروننبرگ نے 1995 میں الجابری کے سارے اہم کام کو اپنے پرلن ورلاگ پبلشنگ ہاؤس سے جرمن زبان میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا۔

روایتی اتھارٹی پر الجابری کی تنقید سماجی اعتبار سے اتنی ہی دھماکہ خیز تھی جتنا مِصری مفکّر اور انسانی حقوق کے ایکٹوِسٹ فراگ فودا کا کام جسے 1992 میں ایک انتہاپسند اسلامی سیاسی گروپ کے دو ارکان نے قتل کر دیا تھا، یا پھر سوڈانی سکالر محمود محمد طٰحہٰ کا علمی کام جِسے اسلامی قانون کے نفاذ کی مخالفت کرنے پر ستمبر 1983 میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا کیونکہ یہ قانون مسلمانوں کو سوڈان کی کافی بڑی غیر مسلم آبادی سے الگ کرتا تھا اور اس طرح قومی یک جہتی کے تصوّر کے منافی تھا۔

طٰحٰہ اور فودا دونوں کو ان کے ملک کے مذہبی حکام نے مرتد قرار دے دیا تھا اور اس طرح انہیں قانون کا تحفظ حاصل نہیں رہا تھا۔ یہ مراکش کے عظیم تر لبرل ازم کی نشانی ہے کہ الجابری کو کبھی اس قسم کی خطرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مراکش کے بادشاہ نے تو انہیں قومی اعزازات کی پیش کش بھی کی لیکن الجابری نے ہمیشہ انکار کر دیا۔

گروننبرگ نے 2005 میں شائع ہونے والے ایک خط میں ایک بار ان سے پوچھا تھا کہ اشتعال انگیز نظریات کی وجہ سے انہیں کبھی جبر یا تشدد کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا۔ اس پر الجابری نے جواب دیا تھا، " میں ابھی تک تو اپنے سیاسی مؤقف یا نظری یا ثقافتی خیالات کی عکاسی کرنے والے اندازِ فکر کی بنا پر کسی طرح کی جارحیت کا ہدف نہیں بنا۔۔۔۔۔۔ جب میں کسی دانشورانہ رجحان پر تنقید کرتا ہوں یا خود کو اس سے پرے رکھنے کی خواہش ظاہر کرتا ہوں تو ایسا صرف ایک مفکّر کے طور پر کرتا ہوں جو اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے، کسی مخالف یا دشمن کے طور پر نہیں۔"

حقوقِ نسواں کی معروف مراکشی علمبردار فاطمہ مرنیسی کہتی ہیں کہ الجابری نے لاکھوں نوجوانوں کے لئے جدیدیت، جمہوریت کی خواہش اور ان کے ثقافتی ورثے کو یک جا کر دیا تھا۔ نوجوان لوگ ان کی تحریروں کو شوق سے پڑھتے اور اس مسلم تاریخ سے آگاہ ہوتے تھے جس میں استدلال اور کسی فرد کی رائے کی تشکیل بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
الجابری اس اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نسل کے رکن تھے جس نے شمالی افریقہ میں آزادی کی جدوجہد کا تجربہ حاصل کیا تھا اور پھِر وہ ہر شعبہ? زندگی میں معاشرے کی تشکیل پر اثر انداز ہوئی۔ الجابری کا نعرہ تھا :"اپنے اندر خود اپنی ذہانت کو استعمال کرنے کا حوصلہ پیدا کرو!"

2009 میں پرلن ورلاگ نے ان کے کام کا جرمن زبان میں تعارف شائع کیا اور مجھے اس جِلد کو لے کر گزشتہ مئی میں الجابری کے پاس جانے کا بھی موقع ملا۔

اگر وہ "عرب ذہن کا ناقدانہ جائزہ" کا جرمن ترجمہ دیکھ سکتے تو یقیناً بہت خوش ہوتے۔ اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ابھی تک تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے عرب دنیا کا یہ ایک سب سے اہم دانشور مغرب میں بہت کم معروف ہے تاہم یہ ترجمہ شائع ہونے کے بعد بہت سے لوگ مسلم دنیا کے ساتھ مکالمے کی اہمیت پر بات کرنے لگیں گے۔

*سونجا ہگاسی ایک فری لانس رایٹر ہیں۔

Latest Urdu News, Islamic News

0 comments:

Post a Comment