Tuesday, June 08, 2010

ماحول دوستی: عالمی روابط کو مضبوط بنانے کا نیا وسیلہ

ایک گھنٹے تک تاریکی میں ڈوبے رہے کیونکہ یہاں کرّہ ارض کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے سرکاری طور پر بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی تھی۔ "ارتھ ا?ور 2010 " یعنی 'کرّہ ارض کے نام کا ایک گھنٹہ' موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی سطح پر منعقد کی جانے والی سب سے بڑی سرگرمی تھی
۔
ایک ایسی عالمی کمیونٹی تخلیق کرنے کی خواہش جس کی بنیاد سیاسی افعال پر نہیں بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری پر ہو، مغرب اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود ماحولیات کے تمام ماہرین، اداروں اور رضاکاروں کو یک جا کر رہی ہے۔ قاہرہ میں شمسی توانائی کے موضوع پر حال ہی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں ماحولیات کے ایک ماہر نے مجھ سے کہا تھا " ہم سب ایک ہی زمین پر رہتے ہیں۔"

ہم عام طور پر دفاع، سلامتی اور اقتصادیات سے متعلق مسائل کو ہی مشرقِ وسطیٰ اور مغرب کے درمیان اہم مسائل سمجھتے ہیں لیکن ہمارے اِس سیّارے کا بچاؤ اور تحفّظ ایک ایسا رِشتہ ثابت ہو سکتا ہے جو ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دے۔
مثال کے طور پر اس سال منائے گئے " اَرتھ آور" میں مصر نے بھرپور طریقے سے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور سیکڑوں لوگوں نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کے لئے اہرامِ مصر کی طرف مارچ کیا۔ مخصوص ساعت آنے پر اہرام کی روشنیاں بجھا دی گئیں اور سارے ملک کے عوام ذرا ٹھہر کر یہ سوچنے لگے کہ کرّہ ارض کو بچانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور ہم میں سے کِتنے لوگ ایسے ہیں جو زمین کے بارے میں غور کرنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔

جب ماحول دوستی کی بات ہو تو تمام اہداف کا تعین بہت آسان ہی نہیں، بہت ولولہ انگیز بھی ہے: موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، دنیا بھر میں ماحولیاتی توازن کے نظاموں اور آبی حیات کا تحفّظ، معدنی تیل پر انحصار کا خاتمہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم کی گئی ماحولیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی۔

بین الاقوامی اختلافات کو دور کرنے میں سیاسی طور اکثر کوششیں جہاں ناکام رہی ہے وہاں ماحولیاتی تحفّظ کا جذبہ کامیاب ہو رہا ہے۔ مثلاً مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں مذہب کو اکثر تقسیم یا نزاع کی وجہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، خصوصاً جب بات سیاست میں اس کے متنازعہ کردار کی ہو۔
تاہم مغرب کی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بھی ماحول دوستی سب کو یک جا کرنے والی قوت کا کردار ادا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر جب مسلمان توانائی کے متبادل ذرائع کی بات کرتے ہیں تو عیسائی یا یہودی بھی اِسی طرح کی ضروریات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بعض سیاسی ایکٹوِسٹ جو پہلے سیاسی تبدیلی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے کام کر رہے تھے، اب ماحولیاتی تحفّظ کے لئے سرگرم ہیں۔ پہلے ان کے پاس ایک نصب العین تو تھا لیکن مسائل کے حل اور ان پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لئے کام کرنے میں بہت زیادہ بے اطمئِنانی اور اضطراب پایا جاتا تھا۔ اب انہوں نے سڑکوں پر مظاہرے کرنے کا کام پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اسی جوش وجذبے کے ساتھ لوگوں کے رہنے کے لئے ایک بہتر جگہ تخلیق کرنے کے لئے مصروفِ کار ہیں۔

زیاد حسین بھی ایسے ہی ایک سابق سیاسی ایکٹوِسٹ ہیں جنہوں نے اپنے آبائی وطن لبنان میں کئی ایک مقاصد کے لئے جدوجہد کی تھی لیکن اب انہوں نے ماحولیات کے تحفظ کی جدوجہد کو زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔ وہ اِس وقت کیلی فورنیا میں مقیم ہیں اور ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کو تباہی سے بچانے کے لئے تحریک چلانے والی ا?زاد عالمی تنظیم گرین پِیس جیسی عوام کی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ منسلک ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کا کام لبنان میں بھی دہرایا جائے گا جہاں انہیں امید ہے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو لبنان کے اپنے ماحولیاتی توازن کے نظام کی حفاظت پر قائل اور متحد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انہوں نے لبنان میں موجود اپنے دوستوں اور رفقائے کار کے بارے میں بھی بتایا جنہوں نے جان لیا ہے کہ کس طرح ماحولیات ایک اہم عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ لبنان کا اپنا قومی نشان دیودار کا درخت بھی اب دم توڑ رہا ہے۔ اگر ان درختوں کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ بھی موریطانیہ کے "ڈوڈو" کی طرح ناپید ہو جائیں گے۔ حسین کا کہنا ہے کہ لبنانی رہنماؤں اور ایکٹوِسٹوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی بنا پر انہیں امید ہے کہ وہ مقامی اور قومی حکومت کے رہنماؤں کو نئے ماحول دوست قوانین اور ضوابط منظور کرنے کی ضرورت سے آگاہ کرنے کے لئے عوام کی سطح پر تحریک چلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
حسین کے مطابق "بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مشرق اور مغرب کے درمیان بہت بڑی خلیج ہے لیکن میں کیلی فورنیا میں جو کام کر رہا ہوں اس میں مجھے ابھی تک ایسا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔ ہم سب کے ایک ہی جیسے مقاصد ہیں اور ان مقاصد کو یہاں مشرقِ وسطیٰ میں لے کر آنا بہت آسان ہے۔"

"اَرتھ آور" کی سرگرمی میں شرکت کرنے والوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ تمام قومیتوں اور ثقافتوں کے لوگ اِس کرّہ ارض کے بارے میں اپنی مشترکہ فکر مندی میں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہیں۔
کسی بھی دیگر تحریک کے برخلاف ماحولیاتی تحفّظ کی تحریک اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ اسے اپنا مشترکہ نصب العین بنایا جائے۔ یہ وہ تحریک ہے جو حقیقی معنوں میں مشرقِ وسطیٰ، مغرب اور اس سے بھی پرے رہنے والے لوگوں، سرحدوں اور ثقافتوں کی تقسیم سے بالاتر ہے۔

*جوزف میٹن صحافتی ادارے "بکیا مصر" ( bikyamasr.com ) کے چیف ایڈیٹر ہیں۔

Latest Urdu News, Islamic News

0 comments:

Post a Comment