Tuesday, June 08, 2010

جمہوریت کا مطلب ہے ذات پات کی تفریق کا خاتمہ

ہندوستان کو آزادی ملنے کے بعد شاید سب سے پہلا کام جو جواہر لال نہرو نے انجام دیا وہ ذات پات کی تفریق کا خاتمہ تھا۔ تمام سرکاری ریکارڈوں، رجسٹروں اور درخواست فارموںمیں ذات پات کے کالم کو حذف کردیاگیا۔اس طرح ایک استعاری طریقہ کار کوترک کرکے آزادی سے پہلے کے وعدے کی تکمیل کی گئی۔ تفریق کے گھناﺅ نے داغ کو مٹانے میں88برس لگے تھے۔
مجاہدین آزادی کو اس کا کم ہی احساس یا شک تھا کہ آزادی جمہوری ہندوستان کی پارلیمنٹ آزادی کے62سال کے اندر ہی برطانوی اقتدار کی باقیات کو بھر سے زندہ کرے گی۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وہی کانگریس پارٹی جو برطانوی راج کو دیس نکالا دینے میں پیش پیش تھی۔ اس نے اس ہفتے یہ اعلان کیا ہے کہ2011کی اگلی مردم شماری کے فارم میں ذات کا اندراج کیا جائے گا۔ مردم شماری کے کارکنان واقعی لوگوں سے دریافت کریںگے کہ ان کا تعلق کس ذات یا برادری سے ہے۔ منمومن سنگھ کو یہ قدم اٹھانے پر اس لیے پس وپیش تھا کہ بعض کیبنٹ ممبران نے یہ دلیل پیش کی کہ ذاتی تحریک آزادی کی فصا کے خلاف ہے لیکن ان میں سے ذات پات سے عاری معاشرے کے تئیں پر عزم اور وفادار نظر نہیں آیا جو مستحکم جمہوری نظام کی شرط اولین ہے۔حزب مخالف کی سیاسی پارٹیوں کو کھلی آزادی اس لیے مل گئی کہ حکومت نے جرات مندی کا مظاہرہ کرنے کے بعد گھٹنے ٹیک دیئے۔ یہ درست ہے کہ برسر اقتدار کانگریس پارٹی کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہے لیکن اگر وہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتی تو وہ اکثریت حاصل میں ہوسکتی تھی۔ اسے اقتدار پر قائم رہنے کے لیے دیگر پسماندہ طبقات کے لیڈروں پر ڈورے ڈالنے کی ضرورت نہ پڑی۔ شاید حکومت یہ سمجھ نہی پارہی ہے کہ ملک کو علاقہ پرستی اور ذات ونسل کے تعصب کو بیدار کرنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ لراﺅ اور حکومت کروکی پالیسی پر عمل کرنا انگریزوں کا طریقہ تھا۔معاشرے کی طبقہ ب ندی پر کمر بستہ تو نہیں چاہے کتنی ہی مضبوط ہوں اسے متحد اور مستحکم رکھنا ہی ہوگا۔ حکومت کو کم از کم قومی یکجہتی کو نسل سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ جس کا کام ان مسائل پر تبالۂ خیال کرنا ہے۔ جاتی ایسی چیز ہے جو مجموعی طور پر ملک کو متاثر کرے گی۔ ملک کے صرف50فیصد رائے دہندگان کی نمائندگی کرنے والے پارلیمنٹ ملک کو راتیر دور میں دوبارہ واپس نہیں دھکیل سکتی۔ انتخاباتی سیاست نے تین یا دو رہنماﺅں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کردیا ہے۔ وہ ہیں جنتا دل سے الگ ہونے والے گروہ کے شردیادو اور دو سابق وزراءاعلیٰ ، یوپی سے ملائم سنگھ یادو اور بہار سے لالو پرسادیادو۔ انہوں نے اپنے محسنوں سے بے وفائی کی ہے یعنی سماج وادی رام منوہر لوہیا اور گاندھی وادی جے پرکاش نارائن سے جو جاتی و نسل کی تفریق سے عاری معاشرے کے حامی تھی۔ اگر ان دونوں کی تحریک ایمرجنس کے بعد کامیاب نہ ہوئی ہوتی تو ملائم اور لالو وزارت اعلیٰ پر فائز نہ ہوتے۔ یادو لیڈران نے یہ دلیل دی ہے کہ ان کے عوام یعنی دیگر پسماندہ طبقات مردم شماری کے بعدروزگار اور تعلیمی اداروں میں مزید ریزرویشن کے مستحق ہوںگے۔ انہیں توقع ہے کہ مردم شماری میں ان کی ذات برادری کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد سامنے آئے گی۔ انہیں پہلے ہی 27فیص کو ٹہ کی سہولت حاصل ہے یعنی درج ذیل فہرست قبائل اور جاتیوں کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ اور یہی دو ایسے گروہ ہیں جنہیں آئین کے ذریعہ ریزرویشن حاصل ہوا ہے۔ وزارت عظمیٰ نے ریزرویشن کو50فیصد تک محدود کردیا ہے۔ اگر اوبی سی لیڈران کو مزید ریزرویشن مطلوب ہو تو وہ سپریم کورٹ میں اپیل کرسکتے ہیں۔مردم شماری انہیں اور زیادہ ریزرویشن نہیں دے سکتی ۔ اور نہ ہی پارلیمنٹ ایسا کرسکتی ہے۔ سپریم کورٹ ہی وہ فورم تھا جس نے اپنے فیصلے میں یہ رائے دی کہ ملازمتوں یا تعلیم ادارروں میں داخلوں کے نصف حصے کو صلاحیت و استعداد کی بنیاد پر پُر کیا جائے۔ یہ ضمانت کیسے دی جاسکے گی کہ مردم شماری مختلف جاتیوں کے افراد کی صحیح تعداد کی نشاندہی کردے گی؟ غلط اعداد و شمار کے خطرات اس میں ہیں۔ کوئی مردم شماری کارکن ایک معمولی آدمی سے اس کی ذات برادری کے بارے میں دریافت کرتاہے۔ تووہ جوابا کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ اس کارکن کے پاس یہ جانچنے کا کوئی اختیار یا رہنما اصول نہیں ہے کہ اس شہری نے جو جواب دیا ہے وہ درست ہے یا ن ہیں۔ کارکن کا کام صرف اتنا ہے کہ جو کچھ اسے بتایا گیا ہے اسے درج کرے۔ رویات و رسوم نے ہندوستان اور برصغیر کے باقی حصے کو کس طرح ڈھال دیا ہے کہ ذات برادری کے نظام سے مسلم، سکھ، اور عیسای بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اسلام مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور ہندو حضرات ا سکی یہی دلیل دیتے ہیں۔ کہ مسلمانوں کے درمیان ذات برادری کے اختلافات کو ریزرویشن کے لیے کیوں نہ تسلیم کیا جائے۔ کراچی کے ایک مزدور رہنما نے جس سے میری ملاقات دہلی میں چند روز پہلے ہوئی بتایا کہ پاکستان میں بھی مزدوروں اور کارکنان کے درمیان ذات برادری کی بنیاد پر تقسیم ہوئی ہے۔ ہندوستان میں دیگر پسماندہ طبقات مثلاً برھئی ، تیکر اور لوہار تعلق رکھنے والے مسلمانوں ان کے ہندو ہم منصبو کی طرح ہی ریزرویشن ملا ہوا ہے۔مطالبہ یہ ہے کہ اس کوٹے میں مسلم دلتوں کے لیے گنجائش نکالی جائے۔ جو درج فہرست ذاتوں کو دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی بدحالی کے جائزے پر مامور کی گئی سچر کمیٹی نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ مسلم فرقے میں دلت طبقہ ہے۔
آئین کی خلاف ورزی

قانون سے متقل اپنے محدود علم کی روشنی میں میں کہہ سکتا ہوں کہ مردم شماری کے فارم میں ذات کے کالم میں جو اندراج کارکن کرے گا اس سے آئین کا بنیادی ڈھانچہ پامال ہوتا ہے۔ اس کی تمہید ہی میں یہ کیا گیا ہے کہ ملک کے عوام ہندوستان کو خود مختار سوشلسٹ ڈیمو کریٹک ری پبلک بنانے کا عہد کرتے ہیں۔ کیشو نند بھارتی مقدمے میں سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ آئین کی تمہید میں دیئے گئے مقاص آ:ین کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کرتے ہیں اور انہیں اس اختیار سے ترمیم نہیں کیا جاسکتا جن کا استعمال پارلیمنٹ آئین( دفعہ 368) کے بعد کرتی ہے۔ ذات پات کی تفریق جمہوریت یا سوشلسٹ نظریہ سے متصادم ہے۔ ذات برادری کی شناختوں کو دوبارہ رائج کرنے کا کوئی اقدام جو مردم شماری کے تحت کیا جائے گا غیر آئینی ہوگا۔ اور بھر بھی اگر ذات برادری کی زمرہ بندی کے کام کو جاری رکھنا چاہتی ہے تو اسے سپریم کورٹ سے روجع کرنا چاہےے۔ جب معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہے تو یہ مشق ابھی کیوں نہ کرلی جائے۔ ذاتوں کی شناخت سے بی جے پی کی رضامندی تعجب خیز ہے پارٹی ہمیشہ ملک کے جذباتی اتحاد پر چیخ پکار مچاتی ہے۔ عوام کو توڑنے والی باتوں کو حمایت وہ انتخاباتی مصلحتوں کے پشی نظر کرتی ہے۔ وہ خود کو ان یادو لیڈروں کی صف میں دیکھنا چاہتی جو جاتی پر مبنی مردم شماری کو ترقی کی طرف ایک قدم کے طور پر نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح بی جے پی جانتی ہے کہ انتخابات صرف صرف ذاتوں پر ہی نہیں بلکہ ذیلی جاتیوں کے افراد کے ذہنوں کو متاثر کرکے لڑے جاتے ہیں۔ غربت دیگر پسماندہ طبقات تک ہی محدود نہیں ہے ایسے ملک میں جہاں40فیصد افراد صرف ایک ڈالر یومیہ کماتے ہوں سیاسی جماعتوں کی متحدہ کوشش یہی ہونی چاہےے کہ عوام کو ان کی موجودہ قابل رحم بدحالی سے کس طرح نکالا جائے۔ ریزرویشن کی بنیا دکو ذات برادری سے غرب میں بدلنے کا یہی وقت ہے اس کا معیار اور کسوٹی نہ ذات برادری اور نہ ہی مذہب بلکہ یہ ہو کہ کسی شخص کی آمدنی کتنی ہے۔ریزرویشن کے فوائد چاہے کچھ بھی ہوں۔ بنیادی طور پر انہیں دیگر پسماندہ طبقات( اوبی سی) اور درج فہرست جاتیوں اور قبائل کی کریمی لیئر سے تعلق رکھنے والے لیڈروں نے ہتھیالیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک سے زیادہ بار کہا ہے کہ کریمی لیئر کی وضاحت کی جائے تاکہ ریزرویشن کے فوائد اگلی نسل تک پہنچیں۔ لیکن ان طبقوں کے لیڈران ایسا کرنے سے اس بنا پر انکار کرتے ہیں کہ ریزرویشن کے فوائد کے حصے آپس میں ہی بانٹنا چاہتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ان کی اجارہ داری کیسے ختم کی جائے نہ کہ جاتیوں کی مرد شماری کا۔ اگر بھارت کو ذات برادری سے پاک معاشرہ بنے رہنا تو ان عناصر پر قابو پانا ہوگا۔

Latest Urdu News, Islamic News

0 comments:

Post a Comment