Monday, April 26, 2010

سیگل:ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی نشانی

اداکاری کے ساتھ گلوکاری میں لوہا منوانے والوں کی تعداد عنقا ہے۔آج سے پچپن برس قبل گلو کاری کے ساتھ ادا کاری کی دنیا میں ایک نئے باب کا اضافہ ہواجب کندن لال سیگل نے 11 اپریل 1905کو جموں میں آنکھ کھولیں۔ ان کے والد تحصیل دار تھے لیکن شروع سے ہی سیگل کا دل پڑھنے لکھنے میں نہیں لگتا تھا۔ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کے تحت صوفی سلمان یوسف تک ان کی والدہ کی رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے محض 13برس کی عمر میں گانے کی مشق شروع کر دی۔صوفی سلمان یوسف کا تعلق اس شیخ یوسفی گھرانے سے تھا جس کی جڑیں سولہویں صدی سے کشمیر میں پیوست رہی تھیںاورجہاں سماں کی روایت پشتہا پشت چلی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز جموں کی سنگلاخ زمین سے نکل کر پنجاب پہنچی اور پنجاب سے وہ کلکتہ چلے گئے جہاں کی فلمی دنیا میں ان کے گانوں نے وہ دھوم مچائی کہ آج تک اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آخر میں وہ بمبئی کی فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور وہاں ان کو نوشاد جیسے بے مثال موسیقی ڈائریکٹر کے ساتھ گانے کا موقع ملا۔ نوشاد کی موسیقی نے ان کے غم اور درد و کرب کو دو آتشہ بنا دیا۔ عبد الرشید کاردار نے شاہ جہاں فلم میں ان سے جن گانوں کی صدا بندی کروائی وہ لوگوں کے دل پرثبت ہو گئے۔کانوں میں جب یہ آواز آتی ہے:
جب دل ہی ٹوٹ گیا
ہم جی کے کیاکریں گے؟
تو شائقین کے دل میں ایک نشتر سا چبھو جاتی ہے، ایک کچوکا سا لگا جاتی ہے، ایک سوز، کسک اور تڑپ پیدا کر جاتی ہے۔ یہ آواز کندن لال سیگل کی ہے۔ اس آواز کو خاموش ہوئے چھ دہائیوں سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود آج بھی جب ان کے ریکارڈ بجائے جاتے ہیں تو یہ ہر دکھے دل کی ترجمانی بن جاتی ہے۔ کیونکہ کندن لال سہگل نے جو کچھ گایا وہ دل سے گایا۔ ان کے پاس ٹوٹا ہوا دل تھا اس لئے اس میں ایسا سوز بھر دیا جو ہر انسان کے درد کی ترجمانی ثابت ہوا۔ان میں یہ گانا تو اپنی درد بھری پرسوز آواز کے لئے ایک غیر فانی مرقع بن گیا:
غم دئے مستقل کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا
ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ
یا پھر اسٹریٹ سنگر کا یہ گانا:
چاہ برباد کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا
غالب کی کئی غزلوں کو سیگل نے نہ صرف اپنی آواز دی بلکہ انہیں امر بنا دیا۔ ان میں:
نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
یا پھر
آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
جیسے نغمے دل میں اترتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
ان کے علاوہ
دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
18 جنوری 1947کو اس عظیم گلو کار کا انتقال ہو گیا اور ان کی وصیت کے مطابق ان کے آخری سفر کے موقع پر یہ نغمہ جا ری تھا۔
جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے
غالباّیہی نغمہ ان کی زندگی کا عکاس بھی تھاکہ ٹوٹے ہوئے دل والے جیتے ضرور ہیں مگر جینے کی انھیں کوئی مسرت نہیں ہوتی۔ لہٰذا زندگی کی محض42بہاریں دیکھنے والے فنکار نے گلوکاری کی دنیا میں وہ مقام بنایا کہ آج ان کے نام پر نہ صرف
ایوارڈ تقسیم ہوتے ہیں بلکہ ان کے جیسی سوز وگداز بھری آواز کی نظیر نہیں ملتی۔


0 comments:

Post a Comment