Monday, April 26, 2010

بندوق کی نوک پر ہرگز نہیں


موجودہ نظام سے زیادہ تر ہندوستانی عوام نا خوش ہیں۔ بہت سے تضادات گہرے ہوئے ہیں اور بہت سے ملک حاشیہ پر زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں۔ بیورو کریسی کی بدعنوانی اور سیاسی آقاؤں کے اس میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت سامنے آچکے ہیں۔اگرچہ یہ گھساپٹا فقرہ ہی سہی ، لیکن صورت حال کی صحیح عکاسی کرتا ہے جرم پر سیاست کارنگ چڑھا ہوا ہے اور سیاست جرم زدہ ہو گئی ہے۔
ملک کو درپیش مسئلہ یہ ہے کہ اس پورے نظام کو کیسے بدلا جائے۔ کیا یہ کام بندوق کے سہارے کیا جائے گا، جیسا کہ ماؤنواز اور مہذب معاشرے میں ان کے ہمدرد طبقے کا خیال ہے کہ عوام اس کا فیصلہ انتخابات کے ذریعہ کریں گے۔
ماؤ وادیوں کی مچائی ہوئی قتل وغارت گری کے بعد یہ سوال بار بار ذہن پر دستک دینے لگا ہے۔ چھتیس گڑھ کے دانتے واڑہ علاقے میں گزشتہ ہفتے رونما ہونے والا المناک واقعہ جس میں 76پولس کارکنان مارے گئے اس کا کھلا ثبوت ہے۔ کیا اب بھی کسی ثبوت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ماؤ وادی بندوق کے سہارے اقتدار پر قابض ہونے کے لئے کمر بستہ ہیں۔
بدترین بات یہ ہے کہ نہ صرف انہوںنے حملے کی منصوبہ بندی کی ، بلکہ پولس سے چھین کر تمام گولہ بارودغائب کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ اس سے تو اس بات کا اور بھی ٹھوس ثبوت ملتا ہے کہ ماؤ وادیوں نے اپنی چالوں اور اسلحوں کو بہتر بنالیا ہے۔ دوسری طرف پولس کے پاس بہتر اسلحے نہیں ہیں، ان کی تربیت ناقص ہے اور انٹلیجنس ان سے پوری طرح تعاون نہیں کرتی ۔ ایک رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ آندھرا پردیش کے چار ماؤ واد کارکنان نے اس حملے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ انسداد شورش کے ماہرین کے مطابق جنہوںنے چھتیس گڑھ کے قتل عام کا تجزیہ کیا ہے، پولس کے گرد موت کا جال بچھا دیا گیا تھا۔
یہ قتل عام ماؤ وادیوں کا مسلح انقلاب لانے کا ایک طریقہ ہے۔ جب مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئی تو دنیا کے طاقتور ترین اقتدار کو باہر کرنے کے لئے ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی تھی۔ اس میں مہاتما گاندھی کا کامیابی کی وجہ ان کے پیچھے عوام کی طاقت تھی۔ غربت، پسماندہ اور بے پڑھے لکھے ہر طرح کے لوگ ان کے ساتھ تھے۔ در حقیقت بہتر لوگ برطانوی راج کے ہمنوا تھے تاکہ عیش کی زندگی گزارتے رہیں۔ نوکر شاہی خود استعماری اقتدار کا ایک حصہ تھی اس کے باوجود جیت مہاتما گاندھی کی ہی ہوئی۔
اگر ماؤ وادی غریبوں کے نمائندے ہیں ، ناخواندوں اور پسماندوں کے ہمدرد ہیں تو بندوق کے بوتے پر نہیں، انتخابات کے ذریعہ اس کا ثبوت دیں، جو کسی بھی پیمانے کے مطابق منصفانہ اور آزادانہ طور پر منعقد ہوتے ہیں۔ اس کے لئے عوام کا اعتماد جیتنے کی خاطر ترغیب ، صبر اور استقلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماؤ وادی یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ سب کرنے کی ضرورت ہے ہی نہیں، بلکہ یہ سارے کام بندوق کرلے گی۔ استعماریت پسندوں کو بھی یہی زبان مرغوب تھی۔
ماؤ وادیوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ حکومت کے پاس ان سے زیادہ بندوقیں ہیں اور کئی طرح کی ہیں جو دیگر ہندوتو کو خاموش کر دیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ حکمرانی کرنے والے لوگ ان کی پسند کے نہ ہوں ، لیکن وہ ایسے عمل سے گزر کرآئے ہیں، جس میں عوام اپنے ووٹ ڈالنے کے لئے بوتھوں کے سامنے قطارباندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ان سب کی ایک طرف پھینک دینے کا بہترین طریقہ بندوق ہے تو ان پر قابو پانے کے لئے حکمرانوں کے ہاتھوں بندوق یا دیگر طریقوں کا استعمال حق بجانب ہے۔
آج کی دنیا میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ محدود تشدد بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہندوستان میں جہاں بہت سے علیحدگی پسندانہ رجحانات پنپ رہے ہیں تشدد کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہ۔ جب بندوق برداری ثالثی ہو یا کوئی بھی ہتھ چھٹ گردہ اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ہٹلر نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ جرمنی پر حکومت کی جس سے جمہوریت کو تقویت ملی، لیکن اس نے اپنے حریفوں کو ہٹانے کے لئے پر تشدد طریقے اختیار کئے۔
بھگت سنگھ بھی انقلابی تھے اور وہ بھی مسلح جدوجہد میں یقین نہیں رکھتے تھے۔ لیکن انہوںنے تو تشدد کی تعلیم کبھی نہیں دی اور نہ ہی ان کی تنظیم ہندوستان سوشلسٹ ری پبلک آرمی نے کسی شخص کا سر قلم کیا۔ ماؤ وادیوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی حکمرانوں نے کہا کہ وہ ان کے فلسفے سے نہ کہ خود ان سے خوف زدہ تھے۔
کسی انقلاب کے لئے قتل عام کا کیا مطلب ہے بھگت سنگھ نے اس کی وضاحت خود اپنے الفاظ میں کی تھی۔ ہم انسانی زندگی کو حددرجہ مقدس جانتے ہیں۔ ہم انسان کی زندگی کو مقدس تصور کرتے ہیں۔ ہم کسی شخص کو زخمی کرنے کی بجائے انسانیت کی خدمت میں اپنی زندگی قربان کرنے والے ہیں ، اس فلسفے میں کوئی انتقام کوئی تشہیر اور کوئی بر بریت نہیں تھی۔
اپنے مضمون ” بم کا فلسفہ“ میں جو بھگت سنگھ نے 21سال کی عمرمیں لکھا تھا، کہاتھا کہ انقلابی اپنے آدرشوں اور اعمال پر عوامی تنقید اور انگشت نمائی کو نا پسند نہیں کرتا ، بلکہ وہ اسے ان لوگوں کی فہم میں معاون سمجھتے ہیں جو ایسا کرنے کا حقیقی جذبہ رکھتے ہوں۔ انقلابی تحریک کے یہی وہ بنیادی اصول اور اعلیٰ نصب العین ہے جو اس کے لئے ترغیب و تقویت کا اصل سرچشمہ ہے، لیکن ماؤ وادی مذاکرات سے دوربھاگ رہے ہیں۔ قتل عام سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ بھگت سنگھ کا شوق اپنی نوٹ بک میں مختلف کتابوں سے پسندیدہ اقتباسات درج کرنا تھا۔ ایچ ٹامی کی تصنیف ’ حریص معاشرہ ایک حقیقت‘ ہے۔ ٹامی کے عہد کے لوگوں کا سوشلسٹ نظریہ اختیار کرنے کا سبب وہ زوال پذیر اقتصادی اور اخلاقی حالات تھے، جس کے تحت اس وقت بہت سے لوگ جی رہے تھے۔ انہوںنے سیاسی آزادی اور اقتصادی محتاج کے درمیان تضاد کو نمایاں کیا اور اقتصادی اصلاح اور بہتری کی آزادی کی ضرورت پر تاکید کی۔
بھگت سنگھ کی دلیل یہ تھی کہ تمام معاشروں کی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہوتی ہے۔ یہ کام نہ کرنے والوں اور کام کرانے والوں کے درمیان ایک مقابلہ آرائی ہوتی ہے۔ اس کا سبب کوئی تخریب ، سازش یا ڈھیٹ سیاسی لیڈران نہیں ، بلکہ وہی ناقابل معافی سماجی قوانین ہیں، جنہوںنے گزشتہ نظاموں کو تباہ کیا۔ مثلاً یوروپ میں جاگیر دارانہ نظام ۔ انہوںنے کبھی تشدد کاکوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس کی تعلیم دی۔
اپنے مقدمے کے دوران بھگت سنگھ نے یہ واضح کر دیا کہ ان کا فلسفہ تشدد کا نہیں تھا۔ وہ عوام کو ان کی حالت زار کے تئیں بیدار کر کے مزدوروں ، کسانوں ، طلبااور نوجوانوں کی ایک عوامی تحریک منظم کرنا چاہتے تھے۔ ماؤ وادی اپنا محاسبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے مسلح انقلاب سے کس طرح دن بہ دن ایک بے معنی تشدد پنپتا جا رہا ہے۔
جو کچھ وزیر داخلہ پی چدمبرم کر رہے ہیں مجھے پسند نہیں لیکن ماؤ وادیوں کے معاملے میں انہوںنے ان کےساتھ مذاکرات کی پیش کش سے ایک دور اندیشانہ اقدام کیا ہے ۔ انہوں نے ماؤ وادیوں سے نہ ہتھیار ڈالنے کےلئے کہا ہے اور نہ ہی اپنے نظریے سے دست بردار ہونے کو۔ وزیر موصوف نے ان سے صرف تشدد ترک کرنے کو کہا ہے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتے تو مرکزی حکومت آمنے سامنے بیٹھ کر ان سے بات کرتی۔
دریں اثنا یہ بہتر ہوگا کہ حکومت صنعت کاروں اور تاجروں کوقبائلی علاقوں کی دولت یعنی معدنی ذخائر اور دیگر وسائل سے استفادہ کرنے سے روک دے۔ ان وسائل کو استعمال کرنے والی تجارتی مہمات میں علاقے کے باشندوں کو شریک بنایا جانا چاہئے۔ ماؤ وادی اپنے مسلح انقلاب کے لئے قبائلیوں کے مسائل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ جب قبائلیوں کو معلوم ہو جائے گا کہ اپنے قدرتی وسائل پر ان کا اختیار ہے تو وہ ماؤوادیوں کی حمایت بند کردیں گے۔
انقلاب کے نام پر ماؤ وادیوں کو مشکوک ذرائع سے پیسہ اور اسلحہ مل رہا ہے حکومت خواہ کتنی ہی ناقص ہو، وہ ہندوستانی سیاسی نظام سے کھلواڑ نہیں کرسکتے۔ حکمرانوں کو انتخابات میں نکال باہر کیا جا سکتا ہے ، لیکن ہندوستان کی روح پر لگائے زخم مند مل نہیں ہو سکتے ۔ ماؤ وادی حکومت کو ہندوستان کے مترادف سمجھ کر غلطی کر رہے ہیں۔

Read In English

0 comments:

Post a Comment