Friday, March 26, 2010

مشترکہ تہذیب کی علامت :ساحر لدھیانوی

اردو زبان کے مشہور و معروف شاعر اورمشترکہ تہذیب کی علامت ساحر لدھیانوی کی ولادت کو آج 89 برس کا طویل عرصہ گذر چکا ہے۔ان کے بارے میںبہت کچھ لکھا گیا ہےجس سے ان کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ہند-پاک میںان کی مقبولیت کا اندازہ محض اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ وقت بھی آیا کہ کتابوں کی کسی دکان میں چلے جائیں ‘وہاں ساحر کی ’تلخیاں‘ کی متعدد ایڈیشن نظر آ تے تھے۔ آخر ساحر کی اس بے پناہ مقبولیت کا راز کیا ہے؟اگر انکی ترقی پسندتحریک سے وابستگی کو اس کا سہرا باندھیں توپتہ چلتا ہے کہ ترقی پسند تو اور شعرا بھی تھے۔ ان کی فلمی شاعری کو سمجھیں توفلموں کیلئے تو بہت سے شعراءنے لکھا ہے بلکہ ترقی پسندوشعراءمیں مجروح سلطان پوری، مجاز، قتیل شفائی، جاں نثار اختر، کیفی اعظمی وغیرہ شامل ہیں۔ ساحر کی مقبولیت کا سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی شاعری مشترکہ تہذیب کی حامل تھی۔ساحر ادبی شاعری کو مشترکہ اردو تہذیب کے ساتھ عوام تک لے کر آ ئے جس میں انھوں نے فنکارانہ اصولوں کو قربان نہیں ہونے دیا۔یوں توساحر لدھیانوی8 مارچ 1921 کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے اورانھوں نے ابتدائی تعلیم بھی خالصہ ا سکول سے حاصل کی ۔1937میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے شاعری کا آغازگورنمنٹ کالج لدھیانہ سے ہی کردیاتھا۔غم جاناں کو غم زمانہ میں بدلنے والے ساحر کو امرتا پریتم کے عشق نے کالج سے نکال کر لاہور پہنچا دیاجہاں ترقی پسند نظریات کی بدولت قیام پاکستان کے بعد 1949 میں ان کے وارنٹ جاری ہوئے جس کے بعد وہ ہندوستان چلے آئے۔در اصل جب لاہور میں جب ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو گئے تو ان کے پاس اپنے وطن ہندوستان واپس آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ ہندوستان میں وہ سیدھے بمبئی میں وارد ہوئے۔خود انہی کے مطابق بمبئی کو ان کی ضرورت تھی۔ اس کی وجہ صاف تھی کہ اس دور میں ساحر اور دوسرے ترقی پسند شعرا نے سمجھ لیا تھا کہ فلم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی بدولت اپنی بات عوام تک قوت اور شدت سے پہنچائی جا سکتی ہے۔’تلخیاں‘کی مقبولیت کے سبب ان کا نام تو وہاں تک پہنچ چکا تھا لیکن کافی دوڑ دھوپ کے باوجود انہیں کسی فلم میں چانس نہیں مل سکاتھا۔ دراصل اس زمانے میں’ تکہ بند‘ شاعروں کا سکہ چلتا تھا۔ جن میں ڈی این مدھوک کا نام بے حد اہم تھا۔ ایسی صورت میں فلم پروڈیوسر کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ یہاں تک کہ عصمت چغتائی کے شوہر شاہد لطیف جو کامیاب پروڈیوسر، ڈائریکٹر تھے انہوں نے بھی ساحر سے یہی کہاکہ’ساحر صاحب آپ کی شعری اور ادبی صلاحیتوں سے ہمیں انکار نہیں، دنیائے سخن میں آپ کا امتیازی مقام ہے۔ اس کے باوجود آپ سے فلم کے گانے لکھوانا ایک بڑا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔‘
ساحر نے فلمی دنیا میں بہت سخت اور طویل جدو جہد کی۔ ایک دن اچانک ان کی ملاقات پروڈیوسر موہن سہگل سے ہو گئی تو موہن سہگل نے انہیں مشورہ دیا کہ ان دنوں ایس ڈی برمن کا ستارہ عروج پر ہے اور انہیں کوئی اچھا گیت لکھنے والا نہیں مل رہا ہے۔ تم کل جا کر ان سے مل لو۔ وہ نئی صلاحیتوں کی قدر کرنے والے میوزک ڈائریکٹر ہیں اگر تم نے ان کی مرضی کے مطابق گانا لکھ لیا تو یقیناً تمہاری قسمت چمک جائے گی۔ساحر نے موہن سہگل کی بات مانتے اور وہ ایس ڈی برمن کے یہاں چلے گئے۔باوجود اس کے کہ ایس ڈی برمن بنگالی تھے اور انہیں ساحر کے ادبی مقام سے آشنائی نہیں تھی‘ لیکن جب انہوں نے دھن سنائی اور ساحر نے فوراً ہی اس پر گانا لکھا تو برمن ان سے بے حد متاثر ہوئے۔گانے کے بول ڈائریکٹر اے آر کاردار کو بھی بہت پسند آئے اور انہوں نے اس گانے ’ٹھنڈی ہوائیں‘کو اپنی فلم ’نوجوان‘ میں شامل کر لیا۔ ا س کے بعد تو ساحر اور ایس ڈی برمن کی جوڑی نے فلم انڈسٹری میں دھوم مچا دی۔
ٹھنڈی ہوائیں
لہرا کے آئیں
رت ہے جواں
ان کو یہاں
کیسے بلائیں
کی دھن تو ایسی چھائی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔ پہلے موسیقار روشن نے 1954 میں فلم ’چاندنی چوک‘ میں اس دھن پر ہاتھ صاف کیا، پھر اسی پر بس نہیں بلکہ 1960 میں ’ممتا‘ فلم میں اسی طرز میں ایک اور گانا منظر عام پر آیا۔جبکہ آر ڈی برمن نے 1970میں ’ٹھنڈی ہوائیں‘ سے استفادہ کرتے ہوئے ایک اور گانا پیش کردیا۔ اس کے بعد ایس ڈی برمن اور ساحر کی جوڑی پکی ہو گئی اورانھوںنے متعدد فلمیں پیش کیںجو آج بھی یادگار ہیں۔ ان فلموں میں ’بازی‘، ’جال‘، ’ٹیکسی ڈرائیور‘، ’ہاؤس نمبر 44‘، ’منیم جی‘ اور ’پیاسا‘ وغیرہ شامل ہیں۔ساحر کی دوسری جوڑی روشن کے ساتھ تھی ۔ان دونوں نے ’چتر لیکھا‘، ’بہو بیگم‘، ’دل ہی تو ہے‘، ’برسات کی رات‘، ’تاج محل‘، ’بابر‘اور ’بھیگی رات‘نے فلموں میںاپنے نغموں کا جادو جگایا۔ روشن اور ایس ڈی برمن کے علاوہ ساحر نے او پی نیر، این دتا، خیام، روی، مدن موہن، جے دیو اور کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا ۔دراصل ساحر فلمی دنیا میں اپنی آئیڈیالوجی ساتھ لے کر آئے، اور دوسرے ترقی پسند نغمہ نگاروں کے مقابلے میں انھیں اپنے نظریات عوام تک پہنچانے کے مواقع بھی زیادہ ملے۔دیو آنند نے اپنی فلم ’بازی‘ بنانے کا اعلان کیا تو ساحر سے ہی گیت لکھوائے۔ اس فلم کے گانے بھی سپر ہٹ ہوئے۔اگرچہ 1949 میں ساحر کی اولین فلم ’آزادی کی راہ پر‘ قابل اعتنا نہ ٹھہری لیکن موسیقار سچن دیو برمن کے ساتھ 1950میں فلم ’نوجوان‘ میں ان کے تحریر کردہ نغموں کو ایسی مقبولیت نصیب ہوئی کہ آج بھی ریڈیو سے انھیں سنا جا سکتا ہے۔نہوں نے شاعری کو ہی اپنا اوڑھنا، بچھونا بنا لیاتھا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کا شعری مجموعہ ’ تلخیاں‘ شائع ہو چکا تھا۔ جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔ اس شعری مجموعے کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ انھوں نے جن فلمسازوں کے ساتھ زیادہ کام کیا وہ خود ترقی پسندانہ خیالات کے مالک تھے۔ اس سلسلے میں گرودت، بی آر چوپڑا اور یش راج چوپڑا کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ جب ساحر ’جرم و سزا‘ پر مبنی رمیش سیگل کی فلم ’پھر صبح ہو گی‘ کے گیت لکھ ہے تھے تو انھوں نے شرط رکھی کہ فلم کی موسیقی وہی موسیقار ترتیب دے گا جس نے دوستو یفسکی کا ناول پڑھ رکھا ہو۔ اگرچہ سیگل شنکر جے کشن کو لینا چاہتے تھے، لیکن ساحر کی شرط پر صرف خیام پورا اترے۔ چنانچہ ساحر نے اس فلم کے لیے وہ نغمے لکھے جو فلمی کہانی میں معاون ہونے کے ساتھ ساتھ ساحر کے ایجنڈے پر بھی پورا اترتے ہیں:
چین و عرب ہمارا
ہندوستاں ہمارا
رہنے کو گھر نہیں ہے
سارا جہاں ہمارا
جتنی بھی بلڈنگیں تھیں
سیٹھوں نے بانٹ لی ہیں
فٹ پاتھ بمبئی کے
ہیں آشیاں ہمارا
اسی فلم کے دوسرے نغمے بھی ساحر کے نظریات کی ترجمانی کرتے ہیں، جیسے ’آسماں پہ ہے خدا اور زمیں پہ ہم‘، اور ’وہ صبح کبھی تو آئے گی‘۔ساحر کتنے با اثر فلمی شاعر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے نغمے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی ’پیاسا‘ اور یش راج کی ’کبھی کبھی‘ شامل ہیں۔ پیاسا کے گانے تو درجہ اول کی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں:
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
اور یہ گانا:
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
اسی طرح کبھی کبھی میں ’کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے‘ کے علاوہ ’میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘ ایسے گانے ہیں جو صرف ساحر ہی لکھ سکتے تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستانی فلمی صنعت میں کسی شاعر کو یہ اعزاز نہیں ملا کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی پر مبنی نغمے لکھے۔در اصل انھوں نے اس ذریعہ سے گویا شعراءکی زندگی کی ترجمانی کی تھی۔
حا لانکہ ساحر گیت کے بولوں کو اس کی مقبولیت کی ایک وجہ ان کی ایس ڈی برمن سے جوڑی گردانی جاتی ہے جبکہ ’پیاسا‘ کے بعد ساحراور ایس ڈی برمن کی جوڑی ٹوٹ گئی ۔جوڑی ٹوٹ جانے کے باوجود ان کی کامیابی پر کوئی آنچ نہیں آھی۔ساحر سمجھتے تھے کہ نغموں کی کامیابی میں سب سے بڑا ہاتھ ان کا ہے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کا معاوضہ موسیقار سے زیادہ ہو۔بعد میں انھوں نے کئی بی گریڈ موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں خیام کے علاوہ روی، این دتا اور جے دیو شامل ہیں۔ اور ان درجہ دوم کے موسیقاروں کےساتھ بھی ساحر نے کئی لافانی نغمے تخلیق کیے۔مثلاّ روی کے ساتھ ’ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی‘، ’نیلے گگن کے تلے‘، ’چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو‘، وغیرہ، این دتا کے ساتھ ’میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی‘، ’میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں‘ اور ’دامن میں داغ لگا بیٹھے‘، وغیرہ اور جے دیو کے ساتھ ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں‘، ’میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا‘، ‘رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی‘ وغیرہ شامل ہیں۔ساحر اور مجروح سلطان پوری کا نام اکثر ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے۔ دونوں شعرا کا پس منظر ایک جیسا ہونے کے باوجود ساحر مجروح سے کہیں بہتر فلمی شاعر تھے۔ مجروح کی فلمی نغمہ نگاری اکثر کھوکھلی محسوس کی گئی ہے۔مجروح پر الزام ہے کہ وہ شاعری کے ادبی پہلو سے مکمل انصاف نہیں کر پاتے تھے۔ ساحرجو کام بہت سہولت سے کر گزرتے ہیں وہاں اکثر اکثر مجروح کے سانس اکھڑنے لگتے ہیں اور قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ مجروح کی فلمی شاعری کی ایک نمایاںخصوصیت یہ ہے کہ وہ سننے میں بہت اچھے لگتی ہے لیکن جوں ہی کاغذ پر لکھے جائیں، اس میں عیب نظر آنے لگتا ہے۔ جیسے مجروح کا فلم ’ممتا‘ کے لیے لکھا ہوا ایک انتہائی خوب صورت گیت ہے:
رہیں نہ رہیں ہم، مہکا کریں گے، بن کے کلی، بن کے صبا، باغِ وفا میں
یہ وہی نغمہ ہے جس کی دھن موسیقار روشن نے ساحر، ایس ڈی برمن کی فلم نوجوان کے گانے ’ٹھنڈی ہوائیں‘ سے مستعار لی تھی۔بہر کیف سننے میں تو گانا بہت بھلا لگتا ہے لیکن جب اسے کاغذ پر لکھا ہوا دیکھیں تو اور ہی کہانی سامنے آتی ہے:
موسم کوئی ہو اس چمن میں رنگ بن کے رہیں گے ہم خراماں
چاہت کی خوشبو یوں ہی زلفوں سے اڑے گی خزاں ہو کہ بہاراں
اتنی لمبی بحر میں بھی مناسب قافیہ کا فقدان ہے۔ ’خراماں‘ کا مطلب ہے ’عمدہ چال یا خوش خرامی جبکہ خراماں چلنا تو مستعمل ہے لیکن ’خراماں رہنا‘فنی ماہرین کے نزدیک عجیب ہے۔ اسی طرح بہاراں جمع ہے اور خزاں واحد۔ شاعرانہ اصطلاح میں اسے عیبِ شتر گربگی کہا جاتا ہے یعنی اونٹ اور بلی کا امتزاج۔
کھوئے ہم ایسے کیا ہے ملنا کیا بچھڑنا، نہیں ہے یاد ہم کو
کوچے میں دل کے جب سے آئے صرف دل کی زمیں ہے یاد ہم کو
دل کے کوچے میں دل کی زمین کو یاد کرنا کیا معنی رکھتاہے
اسی فلم سے ایک اور شاہ کار نغمہ
چھپا لو یوں دل میں پیار میرا کہ جیسے مندر میں لو دیے کی
ہر لحاظ سے شان دار گانا ہے لیکن صرف سننے کی حد تک۔ کاغذ پر کچھ اور ہی منظر ابھرتا ہے:
میں سر جھکائے کھڑی ہوں پریتم کہ جیسے مندر میں لو دیے کی
حالانکہ دیے کی لو ہمیشہ بلند ہوتی ہے یعنی سر کو اٹھائے ہوئے رہتی ہے نہ کہ سرکو جھکائے ہوئے۔ایک اور گیت :
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
یہ مصرع مجروح نے فیض احمد فیض کی نظم سے لیا ہے ۔حالانکہ انھوں نے خط لکھ کر فیض سے اسے استعمال کرنے کی اجازت لے لی تھی لیکن اسی گیت کے دوسرے بند:
یہ اٹھیں صبح چلے، یہ جھکیں شام ڈھلے
میرا جینا میرا مرنا انہی پلکوں کے تلے
غالباً یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ’صبح کا چلنا‘ نہ صرف خلافِ محاورہ ہے بلکہ بے معنی بھی۔
پلکوں کی گلیوں میں چہرے بہاروں کے ہنستے ہوئے
ہیں میرے خوابوں کے کیا کیا نگر ان میں بستے ہوئے
استعارے کی پیچیدگی بتاتی ہے کہ پلکوں کی گلیاں ہیں جن میں بہاروں کے چہرے ہنس رہے ہیں جن چہروں میں خوابوں کے نگر آباد ہیں۔ یہ پیچیدگی بے معنی اور فلمی گانے کیلئے قطعی نامناسب جبکہ اس کے مقابلے پر ساحر کی فلمی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نوک پلک سے درست اور ادبی لحاظ سے عام طور پر بے عیب ہوتی ے نیز کاغذ پر لکھنے کے معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اور فلمی گیت نگار کے گیتوں کے اتنے ایڈیشن نہیں چھپے جتنے ساحر کے ’گاتا جائے بنجارا‘ اور ’گیت گاتا چل‘ کے۔ایک اور معروف فلمی شاعر شکیل بدایونی ہیں جن کا نام ساحر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن میری نظر میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ شکیل بعض جگہ عروض کی غلطیاں بھی کر جاتے ہیں۔وہ ’ہ‘کو’نا‘ کے وزن پربھی باندھ جاتے ہیںجبکہ ساحراس سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شکیل کے ہاں زبان و بیان کی کوئی تازگی نظر نہیں آتی، وہی بندھی ٹکی تشبیہات، پامال استعارات اور استعمال شدہ ترکیبوں کی بھرمار جوشکیل کا خاصہ ہے۔فلمی دنیا کی حد تک ساحر اپنے نام کی مناسبت سے ساحر ثابت ہوئے اور یہ بات اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو دنیا میں ان کے پائے کا فلمی نغمہ نگار آج تک نہیں پیدا ہوا۔ساحر لدھیانوی کوادب کے ناقدوں نے خارج کر دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی وہ نوجوانوں کے درمیان سب سے مقبول شاعر ہیں اور اردو، ہندی میں ان کی کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ ساحر کی ادبی اور فلمی شاعری الگ الگ نہیں کیونکہ انہوں نے جو کچھ محسوس کیاانہوں نے اسے ہی اپنی شاعری کا موضوع بنایا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
ساحر کی آواز اور آہنگ فلمی دنیا کے گیتوں میں ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔ جس نے شائقین کو نئے ذائقے سے آشنا کیا۔ انہوں نے جن فلموں میں گانے لکھے وہ باکس آفس پر بے حد کامیاب رہیں۔ فلم’برسات کی رات‘ میں ساحر موسیقار روشن کے ساتھ تھے اور اس فلم کے گانوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس فلم کا گانا ’زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات‘ بناکا گیت مالا میں سال کا مقبول ترین نغمہ قرار پایا۔ اس کے علاوہ اسی فلم کی قوالی:
نہ تو کارواں کی تلاش ہے نہ تو ہمسفرکی تلاش ہے
مرے شوق خانہ خراب کو تری رہ گزر کی تلاش ہے
آج بھی فلمی دنیا کی سب سے مقبول قوالی سمجھی جاتی ہے۔اسی فلم کا ایک اور گانا بہت مقبول ہوا تھا:
میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
اجنبی سی ہو مگر غیر نہیں لگتی ہو
وہم سے بھی ہو جو نازک وہ یقیں لگتی ہو
ہائے یہ پھول سا چہرہ یہ گھنیری زلفیں
میرے شعروں سے بھی تم مجھ کوحسیں لگتی ہو
اس کے علاوہ گرو دت کی فلم ’پیاسا‘ میں بھی ساحر نے جو گانے لکھے تھے انہوں نے مقبولیت کے آسمان کو چھو لیا تھا۔فلم ناظرین نے محسوس کیا تھا کہ شاعر ساحر کو کتنے کرب ناک حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ان کا ایک اور گانا بی آر چوپڑا کی فلم ’سادھنا‘ میں آیا تھا اور اسے بھی غیر معمولی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی تھی:
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
تلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہیں کہیں بازاروں میں
ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں
یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میں
ساحر لدھیانوی نے فلمی شاعری کو بے تکے الفاظ کے جنگل سے باہر نکال کر بامقصد شاعری سے آشنا کیا تھا اس لئے ان کے فلمی گانوں کا انداز بھی بہت ہی نرالا اور مؤثر ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ا س میں ان کے اپنے افکار و خیالات ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ ان کے نظریات کا پر تو سامنے آتا ہے۔ ان کے یہاں جو درد و کرب ہے وہ بھی پورے طور پر ان نغموں میں در آیا :
میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی
مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا
اس کے علاوہ ساحر نے کئی فلمی نغموں میں اپنا کردار اور درد و کرب پیش کیا ہے لیکن خاص طور پر یش چوپڑا کی فلم ’کبھی کبھی‘ میں ان کا پورا سراپا نظر آتا ہے:
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
پل دو پل مری کہانی ہے
پل دو پل میری ہستی ہے
پل دو پل مری جوانی ہے
مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے
اور آ کر چلے گئے
کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے
کچھ نغمے گا کر چلے گئے
وہ بھی اک پل کا قصہ تھے
میں بھی اک پل کا قصہ ہوں
کل تم سے جدا ہو جاؤں گا
گو آج تمہارا حصہ ہوں
کل اور آئیں گے نغموں کی
کھلتی کلیاں چننے والے
مجھ سے بہتر کہنے والے
تم سے بہتر سننے والے
کل کو ئی مجھ کو یاد کرے
کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لئے
کیوں وقت اپنا برباد کرے
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ساحر پل دو پل کے شاعر نہیں تھے اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ بے کار نہیں تھا۔ اس لیے 30 برس گزر جانے کے باوجود ان کے نغمے آج بھی عوام کے درمیان مقبول ہیں۔25 اکتوبر 1980کو اس البیلے شاعر کا ممبئی میں انتقال ہو ااور وہیں کے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی ان کی قبر پر ان کے چاہنے والوں نے ایک مقبرہ تعمیر کیا تھا لیکن جنوری 2010میں اسے منہدم کر دیا گیا۔اب ان کی قبر کا بھی کچھ نشاں پایا نہیں جاتا۔انکی مقبولیت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کی شاعری بلا تخصیص مذہب و ملت ‘رنگ و نسل ‘ جغرافیائی حدودکے مشترکہ طور پرعمومی احساس کی ترجمان ہے۔ساحر کے علاوہ بھی کئی اچھے شاعروں نے فلمی دنیا میں اپنے فن کا جادو جگایا لیکن ساحر کے علاوہ کسی اور کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ اور اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو ان کی ادبی شاعری ہمہ گیر ہے، ایسی عوامی شاعری جو ادبی تقاضوں کی پابند ہے۔ایک زمانے میں اردو ادب میں ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بڑی بحثیں چلی تھیں۔ ترقی پسند شاعر ادب برائے زندگی کے قائل تھے اور وہ شاعری کے ذریعے معاشرے میں انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے۔ ترقی پسند شعرا کی جوق در جوق فلمی دنیا سے وابستگی ان کی عوام تک پہنچنے کی اسی خواہش کی آئینہ دار تھی۔


Sign of Composite Culture: Sahir Ludhianvi

0 comments:

Post a Comment