Friday, March 26, 2010

مشترکہ تہذیب: روایت اور حقیقت

پروفیسر علی احمد فاطمی
ہندوستان کے مشترکہ تہذیب کی عوامی مقبولیت کے شاعر نذیر بنارسی پر لکھتے ہوئے مشترکہ تہذیب کے بے مثال شاعر فراق گورکھپوری نے کہا تھا۔ ’ہندوستان محض ایک جغرافیائی لفظ یا لغت نہیں ہے بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جسے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘حقیقت زندہ ہوتی ہیں اپنی معاشیات سے اور اپنی تہذیب سے۔ میںنے معاشیات کے لفظ کو پہلے اس لئے استعمال کیا ہے کہ میں مارکس کے ان جملوں پر یقین رکھتا ہوں: معاشی حوشحالی کی تہذیب کے ارتقاء میں معاون ہوتی ہے اور بد حالی اسے زوال کی طرف لے جاتی ہے۔ ہندوستانی عوام کے لئے محض اتنا جاننا کافی نہیں ہے کہ وہ ہندوستان کے اندر رہتے ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہندوستان بھی ان کے اندر ہے۔ یعنی ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب یہاں میرا زیادہ موضوع تہذیب ہے اور اس سے زیادہ مشترکہ تہذیب اس لئے میں فراق کے ہی ایک شعر سے اپنی گفتگو کر آگے بڑھاتا ہوں:
سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراق
قافلے آتے گئے ہندوستاں بنتا گیا
صدیوں میں ہندوستان بننے کا عمل قدیم و جدید تہذیب کے ہم آہنگ ہونے کا عمل ہندآریائی تہذیب کے شیر وشکر ہونے کی داستان خاصی قدیم ہے جسے دہرائے جانے کا وقت یہاں نہیں ہے۔ بس میں اردو شعر وادب کی چند جھلکیاں پیش کروں گا جو نئی تو نہیں ہیں لیکن جن کا دہرایا جانا بہت ضروری ہے خصوصاّ ایک ایسے وقت اور ایسی جگہ پر جہاں کچھ لوگ وحدت انسانی اور وحدت ہندوستانی کو الگ الگ دیکھنے پر مصر میں جو بیحد مضر ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ:
چمن میں اختلاف رنگ وبو سے بات بنتی ہے
تھیں تم وہ تو کیا تم ہو ہمیں ہم ہیں تو کیا ہم ہیں
اردو زبان وادب کے دور سے مشترکہ تہذیب کے بارے میں گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے شیرینی میں شکرکو تلاش کرنا اس لئے کہ اردو اور مشترکہ تہذیب لازم وملزوم ہیں۔ ایک ہی سکے کے دو پہلو۔ اردو کے ابتدائی شعراءکا کلام ملا خطہ کیجئے ان میں بیشتر کا کلام دوہے کی شکل میں ملتا ہے ۔ سودا حاتم، انشا، نظیر وغیرہ کے یہاں دوہے ملتے اور بالکل ہندوستانی وزمینی تہذیب میں رچ ہوئے۔ ولی دکنی سے قبل اردو کی بیشتر شاعری میں چھند اور دوہے ہی نظر آتے ہیں۔ ولی کے آنے کے بعد اس میں ایرانی کلچر کے اثرات نظر آنے لگتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس میں مقامی اور مشترکہ رنگ نہیں رہ گیا ، ایسا ممکن ہی نہ تھا کہ ہیئت کچھ بھی ہو شعر وادب مقامیت سے کبھی الگ نہیں ہو پاتے۔ یہ فطری طور پر ممکن ہی نہیں اور نہ ہی فکری طور پر کہ مقامیت سے ہی آفاقیت کا سفر طے ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو جہاں کا ہے اگر وہیں کا نہیں ہے تو پھر کہیں کانہیں ہے۔
بابائے اردو عبدالحق نے ایک جگہ صاف طور پر کہا ہے کہ اردو خالص ہندی زبان ہے تو اس کی گرامر بھی ہندوستانی ہونی چاہئے اور اس کا کلچر بھی۔ گرامر کا معاملہ بحث طلب ہو سکتا ہے لیکن کلچر کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہے کہ اردو ادب کا خمیر ہی ہندوستان کے مشترکہ کلچر سے اٹھا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تہذیب کا معاملہ اکثر دو سطحوں پر چلتا ہے‘ ایک اوپری سطح پر جلدی سے نظر آنے والا اور دوسرا اندرونی سطح پر جذب اور پیوست جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ اردو شعر وادب میں ابتدا سے ہی یہ دونوں سطح کے کلچر متوازن طور پر ساتھ ساتھ رہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ معیار پرست طبقہ نے نچلے طبقہ کے کلچر کو منہ نہیں لگایا۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے دوست نواب مصطفی علی خاں شنیقہ نے جب گلش بے خار تذکری لکھا تو عوامی شاعر نظر اکبر آبادی کا ذکر تک نہ کیا کہ وہ نچلے درجے کا عوامی شاعر ہے حالانکہ اس سے قبل استاد سخن میر تقی میر کہہ گئے تھے۔
شو میرے ہیں گو خووامی پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
تہذیب کی طرح ادب کا وسیع اور ہمدگیر تصور دونوں طبقوں کی نمائندگی کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ تاریخی اور کلاسیکی ادب خواصاور عوام دونوں میںاپنی جگہ بتایا ہے اور غیر طبقاتی ہو کر لازورل ہو جاتا ہے جس میں صرف فکر وخیال نظر یہ وفلسفہ ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرت ، ثقافت رہن سہن، رسم ورواج، تیج تہوار سبھی کچھ آجاتے ہیں اس نقطہ نظر سے اگر ہم صرف نظیر اکبرآبادی اور جعفر زملی کو ہی لے لیں تو اردو کی ہندوستانیت یا ہندوستان کی زمینی معاشرت اور مشترکہ ثقافت کی بھر پور تصویر نظر آتی ہے ۔ایک مسلمان شاعر ہوتے ہوئے بھی انہوںنے ہولی پر گیارہ نظمیں ‘دیوالی پر دو نظمیں ‘راکھی پر ایک نظم ‘کنہیا کے جنم شادی بیاہ تک ایک نظم تو کنہیا جی کی بانسری پر بھی ہے۔ اس کے علاوہ ہرکی تعریف‘ بھیروں تعریف ، مہادیو کا بیان‘ جو گی جوگن وغیرہ۔ اسی طرح میلے میں بلدیو جی کا میلہ، تیراکی کا میلہ وغیرہ بھی جن میں ہندو مذہب اور رسم ورواج کو نہایت باریکی سے پیش کیا گیا ہے۔ کرشن جی کی پیدائش کے بارے میں ان کی معلومات دیکھئے اور ساتھ ہی ان کا لہجہ بھی۔ جنم اشٹمی کا تہوار پورے برج میں منایا جانا فطری ہے۔ بچے کے پیدا ہوتے ہی والدین کے گھر میں اندھیرا دور ہوتا ہے اور اجالا پاس آتا ہے اور کہا وت بھی ہے۔ بن بالک بھوت کا ڈیرا، اب اس کی روشنی میں ان کی نظم کنھیا جی کا یہ بند دیکھئے:
ہے ریت جنم کی یوں ہوتی جس گھر میں بالا ہوتا ہے
اس منڈل میں ہرمن بھیتر سکھ چین دوبالا ہوتا ہے
سب بات تبھا کی بھولے ہیں جب بھولا بھالا ہوتا ہے
آنند مند لئے باجت ہیں نت بھون اجالا ہوتا ہے
٭
یوں نیک نچھتر لیتے ہیں اس دنیا میں سنسار جنم
پر ان کے اورہی لچھن ہیں جب لیتے ہیں اوتار جنم
32 بند کی اس طویل نظم میںجس طرح کنس، واسودیو، دیوکی اور یشودا کے کردار ، گفتار اور تکرار ملتی ہے۔ اور پوری کرشن جنم بھومی سے لے کررن بھومی کی سچی داستان سمٹ آتی ہے وہ نظیر کی ہندو مذہب اور تہذیب کی وااقفیت کا توپتہ دیتی ہی ہے نیز ان کی عقیدت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ایک اور نظم کا ایک بند ملا حظہ کیجئے:
یارو سنو یہ دودھ کے لٹیا کا بالپن
اور بدھ پوری نگر کے بستا کا بالپن
موہن سروپ نرت کریا کا بالپن
بن بن کے گوال گویں چریا کا بالپن
ایسا تھا بانسری کے بجیا کا بالپن
اور فراق گورکھپوری نے اپنی کتاب نظیر بانی میں لکھا ہے :
”وہ مقامی تہذیب وثقافت میں رنگ گئے تھے۔ ہندوتہواروں ، میلوں ٹھیلوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ ہندوومسلمانوں میں کوئی بیگانگی نہ تھی۔ کچھ ہندوادیوں کا خیال ہے کہ نظیر ہندو مذہب کے بارے میں کم جانتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ خیال دوست ہو کہ کسی پنڈت اور گیانی کے مقابلے ان کی معلومات کا کم ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن جس نوع کی وہ عوامی تہذیب اورذمنی ثقافت میں رچے بسے ہوئے تھے وہاں اس طر ح کی خارجی تفریق عمداً مٹ جایا کرتی ہے پھر مذہب کی عوامی تہذیب وثقافت۔ ایمان وعرفان اپنا ایک الگ دائرہ بنا لیتا ہے۔ ہندی کے بعض شاعروں نے تو پھر بھی کرشن کو عاشق ، چھیڑ چھاڑ کرنے والے نوجوان یا بھگوان کی تصویر پیش کی ہے لیکن نظیر کے یہاں عقیدت واحترام تو ہے اور اسلوب بیان اور لفظیات میں ہندو تہذیب کا غیر معمولی فنکارانہ اظہار جس میں اگر ایک طرف اسلام کا موفیانہ وجدان ہے تو دوسری طرف بھگتی کا گیان اور آتم سمان بھی۔ اس ملے جلے صوفیانہ تصویر کا اس رس لینا ہے تو نظیر ہیں ان نظموں کا مطالعہ بھی ضروری ہے جو محض موضوع کے اعتبار سے براہ راست ہندو دھرم کے دائرے میں نہیں آتیں لیکن ہندوستانی عوامی تہذیب زندگی اور رسم ورواج کے دائرے میں براہ راست آتی ہیں مثلاً ان کی نظمیں روٹی نامہ، آدمی نامہ، بنیادہ نامہ، فقیر وں کی صدا، کلجگ، منصمی وغیرہ ایسی ہیں جو مذہبی نظموں کے مزاج ومذاق اور ہندو وہندوستانی عوامی تہذیب اور نظیر کے اپنے مزاج ، تجربات، زندگی کی صداقت متوسط طبقہ کی سماجی بصیرت اور لوک گیتوں کی حرکت وحرارت سب اس قدر گھل مل گئے ہیں اور اس روایت کو زندہ کرتے ہیں جو امیر خسرو کے بعد کسی وجہ سے بکھر گئی تھی۔
جعزز ملی بنیادی طور پر مزاحمت اور احتجاج کے شاعر تھے لیکن یہاں میں ان کی ایک غزل کے صرف تین اشعار پیش کروں گا:
گیا اخلامیں عالم سے عجب یہ دور آیا ہے
درے سب خلق ظالم سے عجب یہ دور آیا ہے
نہ یاروں میں رہی یاری نہ بھیوں میں وفاداری
محبت اٹھ گئی ساری عجب یہ دور آیا ہے
نہ بوئی راستی کرئی، عمر سب جھوٹ میں کھوئی
اتاری شرم کی لوئی عجب یہ دور آیا ہے
یہ مصرعہ دیکھئے نہ یاروں میں رہی یاری نہ بھیوں میں وفاداری ، خالص اودھی لہجہ اورمحادرہ ہے۔ اسی طرح سے اتاری شرم کی لوئی، کوبھی ملاخطہ کیجئے، اسی طرح سے قدم قدم پر ان کے یہاں عوامی محاورات استعمال ہوئے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا‘ بھرے سمندر کھوگھا ہانووغیرہ۔ ان میں کا غزل کے پیرائے میں استعمال کرنا مشکل اور وغیرہ معمولی بات ہے۔
اب میں قصیدے کے ایک شاعر محسن کاکوری کا ایک مذہبی قصیدہ کو رسول کی شان میں لکھا گیا ہے اس کے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔
سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل
برق کے کاندھے لاتی ہے صبا گنگاجل
گھر میں اشنان کریں سروقدان گوکل
جا کے جمنایہ نہانا بھی ہے اک طویل عمل
کالے کوسوں نظر آتی ہیں گھٹائیں کالی
ہند کیا ساری خدائی میں تبوں کا ہے عمل
ڈوبنے جاتے ہیں گنگا میں بنارس والے
نوجوانوں کا سنیچر ہے یہ بڑھوا منگل
ان قصیدوں اور مثنویوں کو ملا خطہ کیجئے۔ ان میں جس طرح سے ہندو تہذیب‘ عوامی رنگ اور ہند کی مشترکہ تہذیب رچ بس گئی ہے وہ محسوس کرنے کے لائق ہے۔ یہ اردو شاعری کا ایک ایسا اضافہ اور خزانہ ہے جس پر فخر کیا جائے کم ہے۔
اسی طرح سے حالی کی نظمیں آزاد وشبلی کی نظمیں چکبست کی قومی نظمیں‘ سرور جہان آبادی‘ اقبال‘ جوش اور فراق کی نظمیں وغزلیں ۔ان سب سے اس تہذیب میں ایسی رونق اور جگمگاہٹ بخشی کہ اردو شاعری اور مشترکہ تہذیب ایک ہی تصویر کے دو رخ ہوگئے۔ اقبال جو اسلامی فکر کے شاعر کہے جاتے ہیں امام ہند کے عنوان سے بھگوان رام پر غیر معمولی نظم ملی ہے۔ جوش نے تلسی داس پر غیر معمولی نظم کہی۔ فراق نے اپنی ریاعیوں میں پریم رس اور شرنگار رس کے ایسے ایسے جلوے بکھرے ہیں کہ ہندوستان کی گھریلو مشترکہ تہذیب‘ عوامی تہذیب قوس قزح کا روپ اختیار کر گئی ہے۔ ایسی عمدہ اور پختہ روایت کے زیر اثر ترقی پسند شعراءنے ان روایتوں کو اسقدر دل اور دماغ سے اپنایا ہے کہ ہندوستانی تہذیب نجانے کتنی پرتوں اور جہتوں میں نکھر کر چاند اور سورج کی طرح چمکے اور جگمگانے لگی۔ اب میں غزل کے چند اشعار پیش کرتا ہوں:
جو دھا جگت کے کیوں نہ ڈریں تجھ سوں اے صنم
ترکش میں تجھ نین کے ہیں ارجن کے بان آج     ولی دکنی
٭
میر کے دین ومذہب کر کیا پوچھتے ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کے ترک اسلام کیا     میر
٭
آتش عشق نے راون کو جلا کر مارا
گرچہ لنکا میں تھا اس دیو کا گھر پانی میں     میر
٭
جلا ہے جسم جہاں دل میں جل گیا ہوگا
کریدتے ہو کیوں راکھ جستجو کیا ہے     غالب
٭
ہندو ہیں بت پرست مسلمان خدا پرست
پر جوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست     سودا
قشقہ ہندو مذہب کی علامت اورجسم کے جلائے جانے کی رسم بھی ہندو اورہندوستانی ہے لیکن کس قدر سلیقے سے اردو شاعری میں جذب ہوئی ہے۔ اسی طرح بت اور برہمن کا ذکر ، دیر وحرم کے چرچے تو اردو غزل میں بھرے پڑے ہیں لیکن ان کو صناعی اور کاری گری اور امیجز کی شکل دیدینا غیر معمولی فنکاری اور عقیدت مندی کا ہنر ہے۔ فراق کے یہ چند شعر دیکھئے :
ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو
زندگی جیسے رام کا بن باس
جیسے تاروں کی چمک بہتی ہوئی گنگا میں
اہل غم یوں ہی یاد آو کہ کچھ رات کٹے
دلوں کے تیرے تبسم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا اٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
شیو کا وش پان تو سنا ہوگا
میں بھی اے ووست پی گیا آنسو
رباعی
گنگا وہ بدن کہ جس میں سورج بھی نہائے
جمنا بالوں کی نان بسنی کی اڑ رئے
سنگم وہ کمر کا آنکھ اوجھل لہرائے
تہ آب سرسوتی کی دھارا مل جائے
فراق تو خیر ہندوتھے لیکن انہوں نے اپنا ایک مکمل وبستان قائم کیا جس کے اثرات بعد کے شعراءمیں دکھائی دیتے ہیں لیکن مومن تو صرف نام کے ہی مومن نہ تھے لیکن انسان دوستی کے حوالے سے کہتے ہیں :
کیا مومن کیا کافر کون ہے صوفی کیا رند
بشر ہیں سارے بندے حق کے سارے جھگڑے شر کے ہیں
چند شعر اور ملا خط کیجئے :
حرم ودیر کی گلیوں میں پڑے پھرتے ہیں
بزم انداں میں جو شامل نہیں ہونے پائے     فانی
بتوں کودیکھ کر سب نے خدا کو پہچانا
خدا کے گھر تو یہ بندئہ خدا نہ گیا         یگانہ
پہنچی یہاں بھی شیخ وبرہمن کی کشمکش
اب میکدہ بھی سیرکے قابل نہیںرہا     اقبال سہیل
مدھ کی کٹوریوں میں وہ رات گھلا ئیو
جن کا ہے کام دیو بھی پیا سا غضب غضب     اثر لکھنوی
اجڑی ہوئی ہر آس لگے
زندگی رام کا بن باس لگے     جاں نثار اختر
اب دو شعر میں آج کے عہد کی ایک مقبول شاعرہ پروین شاکر کے پیش کرتا ہوں:
اب تو ہجر کے دکھ میں ساری عمر جلنا ہے
پہلے کیا پناہیں تھیں مہربان چتاو ¿ں میں
نہ سر کو پھوڑ کے تو روسکا تو کیا شکوہ
وفا شعار کہاں میں بھی ہیر ایسی تھی
نئی غزل اور نظم میں اس طرح کی ہندوستانی اصطلاحیں بھری پڑی ہیں اور اردو شاعری ہندو ہندوستانی تہذیب میں اسقدر رچ بس اور گھلی مل گئی ہے جیسے دودھ میں شکر فکشن کے میدان میں یہ ملاوٹ اور گھلاوٹ اس انداز کی ہے کہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کون سی تہذیب کہا ںسے شروع ہے اور کہا ںپر ختم۔
ہندی کے معروف فکشن نگار بھیشم ساہنی نے ایک جگہ لکھا ہے:
”گذشتہ چھ سات برسوں میں عوامی سطح پر ہماری ایک ملی جلی تہذیب ابھری ہے اس کی بنیاد ہمارے بھگتوں اور صوفیوں نے ڈالی ہے۔ انہوں نے ایک مشترکہ سوچ دی اور ایک تہذیب دی۔ جو لوگ گاو ¿ں دیہات میں صدیوں سے رہ رہے ہی ںان کی ساجھی زبان بن جاتی ہے۔ ہماری آج کی جو زبانیں ہیںوہ سب اسی کا حصہ ہیں۔ یہ ملک‘ یہ تہذیب اور ہم سب اسی کا حصہ ہیں۔ ہم ہر وقت مندر مسجد میں تو بیٹھے نہیں رہ سکتے۔ ہم سماج میں ملتے جلتے ہیں۔ سارے کام مل جل کر کرتے ہیں۔ ایسا ساری دنیا میں ہوتا آیا ہے۔ آج تو ساری حدیں ٹوٹ رہی ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں ٹوٹ جاو ¿ ، بٹ جاو ¿، یہ قطعی نہیں ہوسکتا ۔“
ہندوستانی تہذیب کی وہ روایت جو تیرہویں صدی میں امیرخسرو کے ساتھ نمو پذیر ہوئی‘ بھیشم جی کی طرح تمام وطن پرست اور انسانی دوست ادیبوں اور ذہن میں رہی اور آج بھی ہے لیکن کچھ نا سمجھ اور نادان اسے توڑنا چاہتے ہیں، صدیوں کی اس روایت اور اس عظیم وراثت کو بکھیر نا چاہتے ہیں ۔افسوس کہ کچھ ادیب بھی جو بقول کملیشور ‘ ان کی اوپری جیب میں قلم اور اندر کی جیب میں کچھ اور ہوتا ہے۔
جہاں فرقہ واریت فسطائیت کا روپ لے چکی ہو۔ بازارواد کی تہذیب نے چکا چوند مچا رکھی ہو‘ برے بھلے اور غلط و صحیح کی تمیز ختم ہو چکی ہو‘ خیالات اور وچاروں کی گنجائش کم ہوگئی ہو‘منطق اور لاجک ختم ہو چکی ہو۔ جہاں مشترکہ جمال وحسن کے شاہکار تاج محل اور اجنتا ایلورا بھی کا روبار کا حصہ بن چکے ہوں تو ایسے میں مشترکہ کلچر کو یاد کرنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ صدیوں کی گنگا جمنی تہذیب اور ہندو و مسلم کی ملی جلی وارثت کو دہرایا جانا اور بھی لازمی ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اتفاق نہ کریں گے لیکن میرا ماننا ہے کہ اگر کبیر ونظیر ، نانک و بلہے شاہ کی پرمپرا کو فراق ونرالا ، ٹیگور واقبال کی ملی جلی دھارا کو پھر سے بہایا جائے۔ ایکتا اور انیکتا کے نغمے گائے جائیں تو یہ ہندوستان بھی بدلے گا اور ہندوستان میں رہنے والا ہر انسان بھی بدلے گا۔ ہندی بھی بدل جائے گی اور اردو بھی بدل جائے گی‘ ہندو ومسلمان بھی بدل جائے گا۔ اس مشترکہ تہذیب کے ذریعہ ہم ہر مشکل سے لڑسکتے ہیں۔
مندر اور مسجد کے سوال سے بھی ہندوومسلم فساد سے بھی‘ علاقائیت سے بھی اور فرقہ واریت سے بھی اور تاریخ کی گھسی پٹی عصبیت سے بھی کہ ہمیں حال میں زندہ تو رہنا ہے لیکن تاریخ کی عظیم روایت اور تہذیب کی انمول وراثت کو سمجھے اور سنبھالے بغیر ہم محض بازار کے شو پیس ہو کر رہ جائیں گے جسے کوئی بھی خرید سکتا ہے اور کوئی بھی فروخت کر سکتا ہے۔


Composite Culture in Urdu Literature

0 comments:

Post a Comment