Friday, March 26, 2010

خدا کا نام جہاں لوگ بیچتے ہیں فراز

ات26 اگست 2007کی بھیگی بھیگی شام کی ہے جب نئی دہلی کے سری فورٹ آڈیٹوریم میں منعقدمشاعرے ’جشن بہار‘میں محض ہندوستان اور پاکستان کے ہی نہیں بلکہ افغانستان اور سعودی عرب کے شعراءنے بھی شرکت کی تھی۔مشاعرے میں اپنے خطاب کے دوران ساغر خیامی نے اردو کو دلوں میں بسنے والی زبان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ثقافت ہے نیزاحمد فرازکی شاعری مشترکہ تہذیب کی ترجمان ہے۔دراصل مشہور و معروف شاعر احمد فراز کی شاعری کالب ولہجہ یوں تو بنیادی طور پررومانی تھا لیکن وہ رجز کے بھی شاعر تھے۔تمام مکاتب فکر کے لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف اپنے قلم سے مسلسل جہاد کیا اور ساری دنیا کو مشترکہ تہذیب و اقدار‘امن محبت اور اخوت کا درس دیا۔اسی مشاعرے کی یاد تازہ کرتے ہوئے حکومت ہند کے ادارہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تعاون سے احمد فراز کی شاعری پر قومی سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستانی ہائی کمیشن کے منسٹر پریس شاہ زماں خان نے بھی بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے اتر پردیش اردو اکادمی کی چیر پرسن محترمہ ترنم عقیل نے کہا کہ فراز کسی ایک ملک کے شاعر نہیں تھے بلکہ انہیں اردو کے سفیر کی حیثیت حاصل تھی۔ دنیا میں کہیں بھی جن کو اردو سے ذرا بھی واقفیت حاصل ہے، وہ فراز کے نام سے واقفیت رکھتے ہیں۔ جدید شعرا میں احمد فراز کا نام کئی اعتبار سے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ وہ بنیادی طور پر امن کے پیغام بر تھے، اس لیے ان کی خدمت میں سب سے بڑا نذرانہ عقیدت یہی ہو گا کہ ہم اپنے طور پر امن اور محبت کے پیغام کو عام کریں اور کوشش کریں کہ اردو کی ترویج و اشاعت ہر سطح پر ہوکیونکہ احمد فراز نے بھی اس زبان کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔پاکستانی ہائی کمیشن کے منسٹر پریس شاہ زماں خان نے ضلع بجنور میں احمد فراز پر قومی سطح کا سیمینار منعقد کرنے پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کی شاعری نے بیک وقت نو عمری کے جذبوں اور پختہ افکار دونوں کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا۔ جس کی وجہ سے انہیں بر صغیر کے تمام اہل اردو میں ایسی مقبولیت حاصل ہوئی جس کا محض تصور کیا جا سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ احمد فراز دیگر زبانوں میں بھی اتنے ہی مقبول اور محترم ہیں جتنے کہ اردو میں۔ ان کی شاعری میں عام انسانوں کی زندگی کے مسائل اور عام جذبوں کو چھونے کی غیر معمولی صلاحیت تھی اور یہی ان کی غیر معمولی مقبولیت کا راز ہے:
اے دل ترے سکوں سے تری رونق گئیں
دریا کا سارا حسن ہی طغیانیوں میں تھا
روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی کی ڈاکٹر قمر قدیر ارم نے احمد فراز کی مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ’ دنیا بھرمیں جہاں کہیں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں کے اہل ذوق کے دلوں میں احمد فراز سمائے ہوئے ہیں۔ ان ملکوں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں احمد فراز سب سے مقبول شاعر تھے:
منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو کب انصاف کرو گے
اس موقعے پرڈاکٹر افشاں ملک نے اپنے مقالے میں فراز کے فن کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ’ ہر کوئی اس آشوب سے گزرتا ہے، لیکن احمد فراز حقیقت پسند شاعر ہیں۔ وہ جب بھی کوئی بات کہتے ہیں دل میں گھر کر جاتی ہے اور لوگوں کو بھلی معلوم ہو تی ہے کیونکہ وہ ان کے کہنے کا اپنا انداز ہے:
نہ تو خدا نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
احمد فراز کے تغزل کو ایک نئی روایت سے تعبیر کرتے ہوئے ڈاکٹر شیبا فریدی نے کہا کہ’ وہ ایک نئی نفسیات کی ترتیب و تدوین بھی کرتے ہیں، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ احمد فراز تغزل کی ایک نئی زبان کے موجد ہیں:
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کر دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہا ر پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز اپنے ملک کے ہی سیاسی حالات سے متاثرنہ ہونے کے پیرائے میںڈاکٹر عبد الحق انجم نے کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں امریت نے عام انسانوں کو اپنے ظلم و ستم کا شکار بنایا، احمد فراز تڑپ اٹھے انہوں نے ظلم و ستم اور جبرو استبداد کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی۔جبکہ اپنے مقالے میںڈاکٹر نجابت رضوی نے کہا کہ ’احمد فراز ایران اور ہندوستانی جمالیات کے امتزاجی الہام کے نغمہ گر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ حالات حاضرہ پر بھی خوب نشتر چبھوتے ہیں:
امیر شہر غریبو ں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہ مذہب کہیں بنام وطن
خدا کا نام جہاں لوگ بیچتے ہیں فراز
بصد وثوق وہاں کاروبار چلتے ہیں
اپنے مقالہ میںڈاکٹر ملکہ نظامی نے کہا کہ احمد فراز نے سیاسی اور عشقیہ علامتوں کو یکجا کر کے ایسے پہلوو ¿ں کا اضافہ کیا جن میں ایک طرف دبے کچلے لوگوں کے انسانی وقار کو بحال کرنے کی خواہش نمایاں تھی تو دوسری طرف انسانی جذبوں کو ان کے مختلف رنگوں میں پوری شدت کے محسوس کرنے کی صلاحیت موجزن تھی۔ انہوں نے فراز کی نظموں ’نئی سماعت کا عہد نامہ‘ ’ہم اپنے خواب کیوں بیچیں‘، ’اے میرے سارے لوگو‘، ’محاصرہ‘ اور ’مت قتل کرو آوازوں کو‘ کا تجزیہ بھی پیش کیا۔محترمہ سلمیٰ انصاری کے مطابق فراز نے اقبال کے دبستانِِ سخن سے ذات میں کائنات اور کائنات میں ذات کے عرفان کا سلیقہ سیکھا ۔ فراز نے اقبال کی کائنات سخن کی سیر ایک مخلص اور خود رفتہ سالک کی حیثیت سے کی۔ ان کا یہ سفر سلوک کا سفر تھا جس کے زیر اثر فراز کی شاعری جینے کا سلیقہ اور مرنے کا قرینہ سکھاتی ہے۔اپنے دلی جذبات کا اظہارڈاکٹر محمد احمد دانش نے اس طرح کیا کہ احمد فراز کے یہاں جمالیاتی حسن کے ساتھ ساتھ انقلابی آہنگ بھی تھا۔ مشرق و مغرب کی دنیا کے ہر علاقہ میں ان کے مداح اور ان کی شاعری کے شائقین موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ احمد فراز کے بہت سے ایسے اشعار ہیں جو بہت آسانی سے زبان زد ہو جاتے ہیں۔


0 comments:

Post a Comment